آغا حامد موسوی نے وزیر اعظم کی پیشکش ٹھکرا دی ؛ کلمہ حق اپنی دادی حضرت زہراؑ سے ورثے میں ملا، قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

ریاست غریب کے حج نہیں اس کی مدد و اعانت کر نے کی پابند ہے حج سبسڈی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ، آغا حامد موسوی

ہم نے سابق وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی سرکاری خرچ پر حج کی پیشکش اسی لئے ٹھکرا ئی کہ حج صرف استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے

سرکاری حج نظریاتی کونسل کو سیاسی رشوتوں کے طور پراستعمال کیا جاتا رہا، حکمرانوں یا سیاستدانوں کے کاسہ لیس نہیں دین و وطن کے وفادار ہیں

حکمران غریبوں کے گھر گرانے سے پہلے نئے گھر بنا کر دیں تجاوزات گرانے میں پھرتیاں دکھانے والے کالعدم جماعتوں سے لا تعلق بنے ہوئے ہیں

کلمہ حق کہنا اپنی دادی حضرت فاطمہ زہرا ؑ سے ورثے میں لیا ہے حسینی ؑ ہیں نوک سناں پر بھی سچ سے دریغ نہیں کریں گے،عشرہ عزائے فاطمیہ ؑ کی مجلس سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ ریاست غریب کے حج نہیں اس کی مدد و اعانت کر نے کی پابند ہے ،حکومت کی طرف سے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے کسی قسم کی رعایت یاسبسڈی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اللہ نے حج صرف ذاتی استطاعت رکھنے والوں پر واجب کیا ہے اسی بنا پر ہم نے سابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی جانب سے سرکاری خرچ پر حج کرنے کی پیشکش ٹھکرا دی تھی کہ ہم حج کی استطاعت نہیں رکھتے ، سرکاری حج نظریاتی کونسل رویت ہلال کمیٹیوں کو سیاسی رشوتوں کے طور پراستعمال کیا جاتا رہا ، حکمران بھی غریبوں کے گھر گرانے سے پہلے انہیں نئے گھر بنا کر دیں تجاوزات گرانے میں پھرتیاں دکھانے والے کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں سے لا تعلق بنے ہوئے ہیں،ظلم و جبر و تشدد سے لبریز ادوار میں بھی کلمہ حق کہنا اپنی دادی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؑ سے ورثے میں لیا ہے ، حکمرانوں یا سیاستدانوں کے کاسہ لیس نہیں دین اور وطن عزیز پاکستان کے وفادار ہیں ، حسینیؑ ہیں نوک سناں پر بھی سچ سے دریغ نہیں کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں عشرہ عزائے فاطمیہؑ کی مناسبت سے علماء و عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا حامد موسوی نے   نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی سرکاری حج کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا
آغا حامد موسوی نے
نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی سرکاری حج کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پروردگارعالم نے خانہ کعبہ کولوگوں کیلئے قبلہ ، پہلاگھراورانسانیت کیلئے برکت ، رشدوہدایت کامنبع وسرچشمہ قراردیاہے ،خانہ خداآنے والوں کیلئے جائے امن اورخلیل خداکی نشانی ، اسلام کاپرچم ہے جس کاحج واجب ہے،بیت اللہ لوگوں کے قیام کاوسیلہ ، اتحادویکجہتی کامظہر، منفعت کی جلوگاہ ، اخلاص کی وعدہ گاہ اور دنیاکوبرائیوں سے دوررکھنے ، خداپربھروسہ کرنے کابہترین مقام ہے، حج بیت اللہ ساری زندگی میں ایک بارہراس شخص پرواجب ہے جوبالغ ، عاقل اورحج پرجانے کی وجہ سے کسی ایسے کام پرمجبورنہ ہوجس کی اہمیت دین وشریعت میں حج سے زیادہ ہے یاایساواجب عمل ترک کرناپڑے جوحج سے زیادہ اہم ترین ہے، فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آخری شرط مستطیع ہوناہے ۔

انہوں نے کہا کہ حج بیت اللہ کی استطاعت کی شرائط میں شامل ہے کہ -1زادراہ اورجن چیزوں کی سفرحج میں ضرورت پڑتی ہے اپنی حیثیت کے مطابق اسکے پاس موجودہوں نیزوسیلہ سفریعنی سواری یااتنامال ہوجس سے اشیائے سفر کومہیاکرسکے ۔-2اسکی طبیعت صحیح وسالم اور حج پرجاکراعمال بجالانے کی طاقت رکھتاہو۔ -3 راہ آمدورفت میں روکاٹ نہ ہو، اگرراستہ بندہویا اس خوف ہوکہ راستے میں اسکی جان ومال یاعزت وآبروخطرے میں ہوتواس پرحج واجب نہیں ہوگالیکن اگرکسی متبادل راستے سے جاسکے اگرچہ وہ دورہوبشرطیکہ زیادہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے یاغیرمعمولی نقصان نہ ہوتوضروری ہے کہ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے دوسرے راستے کواختیارکرے ۔ -4 اسکے پاس اعمال حج صحیح بجالانے کاوقت ہو۔-5انکے اخراجات رکھتاہوجن کاوہ کفیل ہے یعنی اسکے بیوی بچے اورایسے لوگ جن کاخرچہ اسکے ذمہ ہو۔-6حج سے واپسی پرکاروبار،کھیتی باڑی یاملکیت کی منفعت دینے یازندگی گزارنے کاکوئی اورراستہ اسکے پاس ہوتاکہ زحمت کیساتھ زندگی گزارنے پرمجبورنہ ہو۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ فرمان معصوم کی روسے خداوندعالم نے فریضہ حج مقررکرکے ایساتحفہ عطافرمایاہے جوبندگی اوردینی اطاعت کے علاوہ دنیاوی منفعت اورفوائدپرمشتمل ہے لہذاصاحبان استطاعت پر لازم ہے کہ وہ نیک نیتی کیساتھ ذات خداوندی کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ حج وعمرہ بجالانا باعث برکت اوراسکی ادائیگی سے پہلوتہی تباہی وہلاکت کاسبب ہے جو حج کی استطاعت کی شرائط پوری نہیں کرتے ان پر کوئی بار نہیں ۔

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی عظمت و رفعت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کو اسلام نے عالمین کی عورتوں کی سردار قرار دیا، جن کے دم قدم سے ذلت و رسوائی میں پسنے والے خواتین کو عزت و عظمت عطا ہوئی جس معاشرے میں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کردیا جاتا تھا اس عرب معاشرے میں حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے عزت و تکریم نے ایک انقلاب برپا کردیا۔ نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیٹی کے استقبال کیلئے کھڑے ہوجاتے اور اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک خاتون جنت تشریف نہ رکھتیں ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ خواتین کی عزت و حرمت مقام اور حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بنت رسول ؐ حضرت فاطمہ زہرا ؑ تھیں جن کی پاکیزہ سیرت پر عمل کرکے خواتین عالم دنیا و آخرت میں سر خروئی حاصل کر سکتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.