امریکہ سوویت یونین سے زیادہ ذلت آمیز انداز میں افغان سرزمین سے پسپا ہو رہا ہے ، آغا حامد موسوی 

ولایت نیوز شیئر کریں

امریکہ دنیا بھر کے غاصبوں کا سرپرست ہے شورشوں کے خاتمہ کیلئے لیبیایمن بحرین سمیت دنیا بھر کے عوام کو اپنی مرضی کی حکومتوں کا حق دیا جائے، آغا حامد موسوی

باطل کا مقدر دائمی رسوائی ہے جس دن افغانوں کو مرضی کی حکومت منتخب کرنے کا اختیار ملا  امریکی کٹھ پتلی حکمرانوں کا بوریا بسترا بھی گول ہوجائیگا

بھارت کا افغانستان میں قدم جمائے رکھنا علاقائی امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، ایک دن بھارت کو بھی افغانستان ہی نہیں کشمیر بھی چھوڑنا پڑے گا

وجود حضرت فاطمہ زہراؑ کی بدولت اللہ نے خواتین کو عزت ووقار بخشا، پنجاب کے عزاداروں سے خطاب ؛’’عشرہ عزائے فاطمیہ ؑ ‘‘ منانے کااعلان

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ باطل کا مقدر دائمی رسوائی ہے جس پچھتاوے میں سوویت یونین نے افغانستان سے پسپائی اختیار کی اس سے کہیں زیادہ ذلت آمیز انداز میں امریکہ افغان سرزمین سے پیچھے دیکھے بنا بھاگ رہا ہے ،بھارت کا افغانستان میں قدم جمائے رکھنا علاقائی امن کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک دن بھارت کو بھی امریکہ و روس کی طرح الٹے پاؤں افغانستان ہی نہیں کشمیر بھی چھوڑنا پڑے گا،افغانیوں کو اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیئے جس دن انہیں یہ اختیار مل گیا کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ جیسے امریکی کٹھ پتلی حکمرانوں کا بوریا بسترا بھی گول ہوجائیگا، امریکہ دنیا بھر کے غاصبوں کا سرپرست ہے افغان عوام کی طرح لیبیا،یمن،بحرین سمیت دنیا بھر کے عوام کو اپنی مرضی کی حکومتوں کا حق دیا جانا جائے تو شورشوں اور خانہ جنگیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،حکمرانوں و سیاستدانوں کو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی پینتروں سے ہوشیار رہنا ہوگاوجود فاطمہ زہراکی بدولت اللہ نے خواتین کو عزت ووقار بخشا،عہد حاضر کی خواتین کیلئے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؐ کی ذات والا صفات ایک آبرو مندانہ درس حیات ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی این ایف جے پنجاب کے ترجمان سید حسن کاظمی کی سرکردگی میں عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ سلام اللہ علیھا کی شہادت کی مناسبت سے 23جمادی الاول تا3جمادی الثانی ’’عشرہ عزائے فاطمیہ ؑ ‘‘ منانے کا بھی اعلان کیا۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا کہ اس وقت اسرائیل و بھارت کے ہاتھوں کشمیروفلسطین میں بپا ہونیوالے بد ترین مظالم سمیت دنیا بھر میں دہشتگرد ی اور جنگ و جدل کے پیچھے ابلیسیت کے سرغنہ امریکہ کا ہاتھ ہے، نائن الیون کا ڈرامہ رچا کرافغانستان کو نشانہ بنایا اور اب 17سال ہو چلے ہیں اور اسے بہت بڑی شکست کا سامنا ہے اور اب وہ افغانستان کی شکست کا ملبہ مختلف الزامات کی صورت میں پاکستان کے سر تھوپ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے انخلاء کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کا شروع ہوجانا ایک مفروضہ ہے،افغان عوام خود اعتمادی اور بصیرت سے مالا مال ہیں اور وہ اپنے مفادات کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرنے کی صلاحت رکھتے ہیں جس کی ضمانت افغانستان ک قدیم سماجی معاشرتی نظام فراہم کرتا ہے۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امریکہ اپنے پیچھے افغانستان میں بھارت کو ایک ناسور کی صورت چھوڑ کر جارہا ہے جو نہ صر ف پاکستان کا ازلی دشمن ہے بلکہ افغانستان کی تباہی میں روس کے بعد امریکہ کا بھی طرفدار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا اسلام اللہ علیہا نے ختمی مرتبت ؐ کی بشر ساز آغوش اور ام المومنین حضر ت خدیجہ ؐ کے ایثار و ومحبت بھرے دامن میں پرورش پائی اور اسی مکتب روحانیت میں جہاں بینی،خداشناسی کا درس سیکھا،مکتب الہی اور دین و شریعت کی تربیت یافتہ خاتون دنیائے نسوانیت کیلئے مکمل نمونہ بن گئیں جو بردباری،استقامت اور مظلوموں و محروموں اور محتاجوں کی ہمدردی کا تاابدالآباد بن گئیں۔آپ ؑ اس درجہ کمال پر فائز تھیں کہ رسول اکرم ؐ نے آپ ؑ کو ام ابیھا کی سند افتخا ر عطا فرمائی۔رسول اکرم ؐ کی جانب سے حضر ت فاطمہ ؐ زہرا کوعطا کردہ احترام و اکرام نے صدیوں سے ذلت میں پسنے والی خواتین کو عزت و وقار کے اوج ثریا پر پہنچا دیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ نے اپنی آغوش میں امام حسن ؑ وحسین ؑ جیسے بیٹے اور حضرت زینب ؑ و کلثوم ؑ جیسی بیٹیاں پرورش کرکے اسلام کے انقلاب نو کی اساس و بنیادوں کو مضبوط کرنے میں نمایاں ترین کردار ادا کیا،آپ ؑ محاذ بر محاذ،میدان بر میدان سید الانبیاء اور اپنے شوہر نامدار علی المرتضیٰ کیساتھ قدم بہ قدم رہیں اور اسلامی مسؤلیت کی راہ میں اپنے جان عزیز بھی فدا کردی۔آج دنیا میں آزادی کی جتنی تحریکیں برسرپیکار ہیں ان کا منبع و سرچشمہ امام حسین ؑ و سیدہ زینب ؑ اور کربلا و دمشق ہیں ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.