جب علامہ ناصر عباس شہید نے معافی نامہ لکھنے سے انکار کردیا۔۔۔۔۔۔

ولایت نیوز شیئر کریں

علامہ ناصر عباسؑ شہید ۔۔۔۔۔ایک درس فکر و عمل

تحریر: سیدجروان محمد

وہ ذاکر حسین ؑ تھا، عقیدے میں اٹل تھا، عارف حقیقت تھا،عاشق رسولؐ تھا، وکیل حضرت بتولؑ تھا،  عاشق اہلبیت ؑ تھا، عظمت سادات کا مبلغ تھا، وہ منکسر المزاج تھا، شہرت کی بلندیوں پر سادات کی کنیز کا بیٹا کہلانے میں فخر محسوس کرتا تھا، خطیب شب عاشور تھا، شیعہ سنی اتحاد کا علمبردار تھا وطن عزیز  پاکستان کا جانثار تھا ذاکرین و واعظین کا وقار تھا آقائے موسوی کا وفادا ر تھا وہ لاکھوں میں ایک شہید ناصر عباس تھا جس کا مسکراتا ہو شہید چہرہ آج بھی دشمنان رسولؐ و حق بتولؑ ، گستاخان ناموس مصطفیؐ اور پاکستان دشمنوں کیلئے پیغام فنا ہے ۔ہر سو ناصر کی آواز کی گونج بتا رہی ہے کہ عباسؑ باوفا کا ذاکر ناصر آج بھی زندہ ہے ۔

حماد اہلبیت محسن نقوی شہید، ذاکر علمدار حسین شاہ شورکوٹ ، ذاکر ریاض حسین شاہ موچھ، ذاکر فاضل علوی  سمیت  لاتعداد ذاکرین  نے راہ حسینیت پر چلتے ہوئے جام شہادت نوش کیا  (ان ذاکرین کی قربانیاں ان قلم فروشوں کا عملی جواب ہیں جو ذاکرین پر الزامات عائد کرتے نہیں تھکتے )لیکن جو مقام مرتبہ ناصر عباسؑ شہید کو ملا اس پر آسمان شہادت کے یہ درخشاں ستارے بھی رشک کرتے ہوں گے۔ آج بھی ہر مجلس کے اشتہار میں دیگر ذاکرین کے ساتھ علامہ ناصر عباس شہید کی شرکت کا پیغام جلی  حرفوں میں نظر آتا ہے ۔ دنیا ششدرو حیران ہے کہ حسینیت کا دم بھرنے والے اسے آج بھی نہیں بھولے۔۔۔ عباسؑ باوفا کے ماننے والے ناصر عباس کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟

علامہ ناصر عباس شہید کی قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کے ساتھ یادگار تصویر
علامہ ناصر عباس شہید کی قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کے ساتھ یادگار تصویر

جیل کی سختیاں بڑے بڑوں کا حوصلہ پست کردیتی ہی جس دلیری کے ساتھ ناصر شہید نے سنت سجاد ؑ ادا کی وہ قوم کیلئے نمونہ عمل ہے۔ ناصر شہید کو جیل میں بیسیوں پیغامات ملے کہ علیؑ کی ولایت کو چھوڑ دو علی مسجد کے فقیر آقائے حامد موسوی کا نام لینا ترک کردو  عظمت سادات کا ڈھنڈورہ پیٹنا چھوڑ دو اور سیدہ زہراؑ کی وکالت سے دستبرداری کرتے ہوئے ایک معافی نامہ لکھ دو۔ لیکن ناصر نے کسی ایک کی نہ مانی کیونکہ وہ حسینؑ کو ما نتا تھا  جس کے انکار نے لاالہ کی لاج بچائی تھی ۔

کوئی لالچ کوئی خوف ناصر عباس کا حوصلہ پست نہ کرسکا۔ حکومت وقت کا ایک صوبائی مشیر اسے سمجھاتا رہا کہ مینار پاکستان  کے  فلاں  اجتماع میں جانا قبول کرلو دو دن میں ضمانت پکی کرادیں گے ناصر حق زہرا ؑ کا وکیل تھا  اس نے مختار صفت  بن  کر زندان میں رہنے کو  گستاخ حضرت بتول ؑ کے ساتھ بیٹھنے  پر ترجیح دی ۔ جب قانونی جنگ لڑ کر جیل سے رہا ہوا تو امام بارگاہ قدیم  راولپنڈی حسینی محاذ  میں مجلس عزا  میں ببانگ دہل اعلان کیا کہ ناصر عباس  کی رگوں میں غیرتمند خون دوڑ رہا ہے قبر کی دیوار تک نہ سیدہ زہرا ؑ کے حق کی وکالت چھوڑوں گا نہ  موسوی فقیر کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

مخدوم نزاکت حسین نقوی کے انعقاد کردہ عزائے فاطمیہ کنونشن شاہ اللہ دتہ اسلام آباد سے لیکر کربلا ئے گامے شاہ  لاہور، دائرہ دین پناہ ، ڈیرہ غازی خان ، دھنی سادات گجرات ، دربار آل محمد ڈیرہ غازی خان، دربار حضرت شاہ شمس ؒ  سمیت ملک کے کوچے کوچے میں لاکھوں کے اجتماعات میں  وہ  دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے   تحریک تحفظ ولا ء و عزا و عظمت سادات کے  اعلامیے پیش کرتا   عقیدے اور وطن کے تحفظ کیلئے  آقائے سید حامد علی شاہ موسوی  کا ساتھ دینے کا عہد لیتا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے چہرے بے نقاب کرتا ان آستین کے سانپوں کے فریب سے قوم کو آگاہ کرتا جو تکفیریوں کی سازشوں میں معاون کا کردار ادا کررہے تھے  ایسا بوذر مزاج  انسان سرمایہ  پرستی کے بتوں کو کیسے گوارا تھا جو  مختلف  روپ دھار کر بیرونی سرمایے کے بل بوتے پر مادر وطن کی رگوں میں دہشت گردی اور قوم کی رگوں میں بد عقیدگی کا زہر گھول رہے تھے۔

15 مئی 2009ء ۔ ۔۔علامہ ناصر عباس شاہ اللہ دتہ میں نظام عدل ریگولیشن کے خلاف آقائے موسوی کے موقف کی تائید میں اعلامیہ پیش کررہے ہیں ۔ بشکریہ جعفریہ نیوز
15 مئی 2009ء ۔ ۔۔علامہ ناصر عباس شاہ اللہ دتہ میں نظام عدل ریگولیشن کے خلاف آقائے موسوی کے موقف کی تائید میں اعلامیہ پیش کررہے ہیں ۔ بشکریہ جعفریہ نیوز

کربلائے گامے شاہ لاہور کے شہیدوں کے چہلم کے موقع پر  جو الہامی کلمات علامہ ناصر شہید نے ادا کئے وہ نسلوں کی رہنمائی  کرتے رہیں گے ۔ دہشت  گردی کی آڑ میں عزاداری کے جلوسوں کو محدود کرنے کی سازش کے پرخچے اڑاتے ہوئے ناصر شہید نے ببانگ دہل کہا تھا ” بم بازاروں میں بھی پھٹ جاتے ہیں تو بازاروں کو بھی بند کرو!! آپ ہماری فکر نہ کریں  ہمیں زندگی عزیز نہیں  ہم انہیں خوش قسمت سمجھتے ہیں جو حسین ؑ کے نا م پر قربان ہو جائیں۔۔۔حسین ؑ کی ماں کی قسم جان کے بدلے بھی عزاداری بچے تو ہمارے لئے یہ مہنگا سودا نہیں "۔ سر پر قرآن رکھ  کرناصر شہید نے  پوری قوم کو  نعرہ  دے دیا کہ ” علی ؑ جیسا امام  کوئی نہیں موسوی جیسا قائد کوئی نہیں "۔ اس نے غیور قوم سے عہد لیا تھا کہ ہر حال میں موسوی کا ساتھ دینا کیونکہ موسوی کا مورچہ ہی عقیدے والوں کا مستقر اور پناہ گاہ ہے جس کے ساتھ بنت نبی ؐکی دعا ہے ۔

26 ستمبر 2010ء ۔ ۔۔علامہ ناصر عباس کربلا گامے شاہکے شہدائے کے چہلم پر تاریخی خطاب کررہے ہیں ۔بشکریہ جعفریہ نیوز
26 ستمبر 2010ء ۔ ۔۔علامہ ناصر عباس کربلا گامے شاہ کے شہداء کے چہلم پر تاریخی خطاب کررہے ہیں ۔بشکریہ جعفریہ نیوز

ناصر شہید کی آواز اور فکر ہمیشہ گونجتی رہے گی ، قرآن مجید سیرت آئمہ  ،مراجع عظام و علمائے کرام کے زندگی ناموں ، اوراولیائے کرام و فقراء کے کلام و کردار سے ایسے ایسے موتی خطابت کے سخن میں ڈھال کر علامہ ناصر عباس  شہید نے  قوم کے سپرد کئے جو محشر کے میدان تک ناصر کے خلوص اور عزم و عمل کی گواہی بن کرجگمگاتے  رہیں گے ۔

ناصر قنبر طبیعت تھا اور  میثم طینت رکھتا تھا اپنے انجام سے باخبرتھا لیکن اس کے قدم کبھی نہ ڈگمگائے  ناصر دار کی خشک ٹہنی پر وارا گیا اور راہ شہادت کو مزید سر سبز کرکے چلا گیا۔جوآنکھ  11 صفر کو حسین ؑ کے غم میں سرشار ہونے کے سبب ناصر عباس   کو خراج پیش نہ کرسکی تھی   آج 15 دسمبر کو ناصر کے چھن جانے پر  اسکی روانی تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

2 thoughts on “جب علامہ ناصر عباس شہید نے معافی نامہ لکھنے سے انکار کردیا۔۔۔۔۔۔

  • 24 جنوری, 2019 at 2:43 شام
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر مولا حسین علیہ السلام سلامت رکھیں آمین علامہ ناصر عباس شہید کے جانے سے بہت بڑا نقصان ہوا جس کا دکھ ہمیشہ دل میں رہے گا
    مولا حسین علیہ السلام شہید کے درجات بلند فرمائیں الہی آمین

    Reply
  • 4 جون, 2019 at 9:21 صبح
    Permalink

    علامہ ناصر عباس قبلہ شھید نفس مطمئنہ کا پیروکار تھا اللہ سے ہر حال میں راضی اللہ خوش تو میرے بندوں میں محمد وہ آل محمد فاطمہ زہرہ اہلبعیت کے ساتھ داخل ہوجاآء اور میری جنت میں چلاآء آ شیر ملتان پاکستان ہر لمہ دشمنان اہلبیعت کو نظر پل پل آوازیں آتی رہینگی

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.