پھر نہ کہناہمیں خبر نہ ہوئی۔۔۔۔ ووٹ کے صحیح استعمال اورشیعہ حقوق کا ضامن چارٹر آف ڈیمانڈ 

ولایت نیوز شیئر کریں

قومی حقوق پر سودا بازی کرنے والوں کو ناکام بنائیں، اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائیں

بانیان پاکستان کے تصورات اور آئین میں دی گئی ضمانتوں کے عین مطابق

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے اعلان کردہ
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا چارٹر آف ڈیمانڈ برائے قومی انتخابات 2018

ہم آغاز ہی سے فرقے زبان صوبائیت اور کسی بھی عصبیت کی بنیاد پر عملی انتخابی سیاست میں حصہ لینے کو قوم وملک کیلئے موت گردانتے ہیں ۔ ہمارا یہ مطالبہ رہا ہے کہ ملکی و عوامی خدمت اورترقی کی بنیاد پر سیاست کی جائے ۔ہم اگر چہ فرقہ مسلک کی بنیاد پر ووٹ مانگنے اور امیدوار کھڑا کرنے کو ملک کیلئے زہر قاتل سمجھتے ہیں لیکن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارے وابستگان نے ووٹ کا حق بہر حال استعمال کرنا ہے لہذابانیان پاکستان کے تصورات اور آئین میں دی گئی ضمانتوں کے عین مطابق ہمارا درج ذیل چارٹر آف ڈیمانڈ ہے جو جماعت اور امیدوار اس پر پورا اترے اور اس پر عمل کی یقین دہانی کروائے مکتب جعفر یہ کے پیروکار اس کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں ۔

1۔۔۔ہم اپنا عقیدہ کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتے نہ کوئی دوسراا عقیدہ اپنے اوپرمسلط ہونے دیں گے لہذاشیعیان پاکستان کیلئے فقہ جعفریہ کا نفاذکیا جائے ۔

2۔۔۔ اسلامائزیشن کیلئے بنائے جانے والے تمام ریاستی اداروں،اسلامی نظریاتی کونسل ، علماء بورڈ رویت ہلال کمیٹی میں میں مکتب تشیع کو نظریاتی نمائندگی دی جائے من پسند اور سودابازیوں کے تحت شامل کئے جانے والے افراد مکتب تشیع کے نمائندہ کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔

3۔۔۔تعلیمی اداروں میں شیعہ طلاب کیلئے جداگانہ نصاب دینیات کا اجراء کیا جائے ۔

4۔۔۔تمام اسلامی یونیورسٹیوں میں شیعہ فیکلٹی کا قیام کیاجائے،دیگر فقہوں کی طرح فقہ جعفریہ پر ریسرچ کے یکساں اور بلا تعصب مواقع فراہم کرکے پاکستان کے شہریوں کو مکتب امام جعفر صادق ؑ کے ثمرات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کئے جا ئیں۔

5۔۔۔فیڈرل شریعت کورٹ میں شیعہ ججوں کا تقرر اوراعلی ٰ عدالتوں میں شیعوں کی موثر نمائندگی دی جائے ۔

6۔۔۔ریاستی ذرائع ابلاغ میں برابر کی سطح پر فقہ جعفریہ کو نمائندگی دی جائے ۔

7۔۔۔جداگانہ شیعہ اوقاف بورڈ کا قیا م عمل میں لایا جائے ۔مکتب تشیع کو یہاں بھی محرومیوں کا سامنا ہے مثال کے طور پر اسلام آباد کے قیام کی صدیوں پہلے پیش گوئی کرنے والے سلطان الفقراء حضرت بری امام کاظمی الموسوی کے مزارکے امور ایسے لوگوں کے سپرد ہیں جن کا مزار سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔مزار کی حالیہ تعمیر نومیں تعصب سے کام لیتے ہوئے مزار کی لوح تبدیل کردی گئی اور دیگر مقدسات جو بری امام ؒ کا تعلق مکتب اہلبیت سے ثابت کرتے تھے کو چھپا دیا گیا۔خدارا ایسا نہ کیا جائے اہلبیت سے محبت پر تو کسی شیعہ سنی کا اجارہ نہیں سبھی ان کی محبت کا دم بھرتے ہیں لہذاحضرت بری امام ؒ کے مزار میں مٹائے اور چھپائے جانے والے آثار اور قدیم لوح کو بحال کیا جائے ۔مئی 2005میں دربار حضرت بری امام ؒ پر سالانہ پرسہ داری کے موقع پر خودکش حملے کے شہدا کو خراج پیش کرنے کیلئے گنج شہیداں کی تختی نصب کی جائے ۔ڈیرہ اسمعیل خان میں کوٹلی امام حسینؑ سمیت ملک بھر میں شیعہ اوقاف کے مسائل کو حل کیا جائے ۔

8۔۔۔بعض درسی کتب میں اسلامی مقدسات کی توہین کا معاملہ آئے روز سامنے آتا رہتا ہے جیسا کہ دوسری جماعت کی کتاب میں فرزندان رسولؐ امام حسنؑ و حسین ؑ کی توہین کا معاملہ سامنے آیا جس کا ہمارے مطالبے پر وزارت تعلیم نے نوٹس تو لے لیا لیکن مسئلے کے دائمی حل کیلئے سکول سے یونیورسٹی تک اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین کا یکساں نصاب کا تعین کیا جائے اور نصاب کمیٹی میں تمام مکاتب کے افراد شامل کئے جائیں ۔

9۔۔۔نعرہ تکبیر نعرہ رسالتؐ نعرہ حیدری ؑ صدیوں سے مسلمانوں کا شعاراور جو ش و ولولے کی علامت ہیں انما ولیکم اللہ کے قرآنی حکم کے تحت تمام اولیاء کے کلام میں سرچشمہ ولایت علی ابن ابی طالبؑ سے وابستگی کا اظہار ملتا ہے۔65کی جنگ کے ہر ترانے میں جذبہ حیدری چھلکتا نظر آتا ہے جس سے دشمن کے دل دہل جاتے تھے لیکن ملک اور قوم کی رگوں میں عصبیتوں کا زہر گھولنے والے ڈکٹیٹر ضیا الحق نے فوج سے نعرہ حیدری ختم کروادیا ۔جہاں آج ہر کوئی ڈکٹیٹروں کی مذمت کرتا ہے وہاں پوری قوم کوڈکٹیٹر ضیا الحق کے تمام تعصبانہ اقدامات کے خاتمے کیلئے بھی ہم آواز ہونا ہوگا۔جس فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر ہے اسے حیدری نعرہ بھی لوٹایا جائے ۔

10۔۔۔حج وعمرے کی طرح زیارات مقدسہ کے عازمین کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو فراہم کئے جانے والے پلان کے مطابق سہولیا ت فراہم کی جائیں ،زائرین کیلئے ٹرین سروس کا اجراء کیا جائے ۔

11۔۔۔نئے آباد ہونے والی آبادیوں شہروں سیکٹرز میں مکتب تشیع کو مساجد حسینیات اور امام بارگاہوں ومدارس کیلئے جگہیں فراہم کی جائیں۔

12۔۔۔جنت البقیع جنت المعلی سمیت دنیا بھر میں مقدس اسلامی مقامات کی تاراجی کے خلاف آواز بلند کی جائے اور ان کی عظمت رفتہ بحال کی جائے۔

13۔۔۔عزاداری ہماری شہ رگ حیات ہے اور نواسہ رسولؐ کا غم تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے لہذانئی آبادیوں میں عزاداری کے انعقاد میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں ۔بعض علاقوں میں علماء ذاکرین وا عظین پر انتقامی طور پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں جس سے عزاداری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سلسلے میں تمام جماعتیں آسانیاں فراہم کرنے کا عہد کریں ۔کیونکہ حسینؑ سب کاحسین ؑ رب کا ہے۔

14۔۔۔ کالعدم جماعتوں کو چھوٹ دینا مادر وطن کے ساتھ ساتھ شہداء کے لہو سے غداری کے مترادف ہے ۔لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پربلا رو رعایت عمل کیا جائے ۔

15۔۔۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ واحد تنظیم ہے جو کبھی کالعدم نہیں رہی اور نہ ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے بہت سے بے گناہ کارکنوں کو خانہ پری کیلئے شیڈول فور میں شامل کردیا گیا ہے ۔ٹی این ایف جے کے بے گناہ کارکنوں کو بے جا پابندیوں سے آزاد کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے ۔

16۔۔۔آج ہر جانب احتساب کا نعرہ بلند ہو رہا ہے سیاستدانوں کے احتساب کی تو سب بات کرتے ہیں لیکن مذہب کے نام پر بیرونی ممالک کے مفادات کیلئے کام کرکے اربوں کھربوں بنانے والوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتاکل جن کے پاس لباس اور سواری نہ تھی آج ان کی جائیدادوں کا حد وحساب ہی نہیں۔ہم اپنا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کی بیرونی امداد پر پابندی لگائی جائے اور تمام سیاستدانوں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کا بھی احتساب کیا جائے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتی ہے ۔

آخر میں بارگاہ احدیت میں دست بدعا ہیں کہ خداوند عالم آمدہ الیکشن اور اس کے نتائج کو پاکستان کی تعمیر و ترقی استحکام خوشحالی کیلئے ایک سنگ میل بنا دے اور قوم کو اپنے مستقبل کا درست فیصلہ کرنے کی توفیق مراحمت فرمائے

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے …….وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کیلئے…… حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

(قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے درج بالا چارٹر آف ڈیمانڈکا اعلان ۱۱جولائی ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا)

اس موقع پر صحافیوں نے ان سے مختلف سوالات بھی کئے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔۔۔۔۔۔۔

سوال: آغا صاحب یہ بتائیے گا کہ آپ کی نظر میں کونسی پارٹی آپکی حمایت کی زیادہ حقدار ہے اور الیکشن کمیشن نے آمدہ انتخابات کیلئے جو انتظامات کیئے ہیں کیا آپ ان سے مطمئن ہیں؟

جواب: جیسا کہ آپکے علم میں ہے کہ ان انتخابات میں تین، چار بڑی جماعتیں برسر پیکار ہیں جو کامیابی کیلئے پوری قوت صرف کر رہی ہیں جبکہ انکے تمام حالات بھی آپکے سامنے ہیں ، لیکن ہم نے یہ 16 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ دیا ہے، جوبھی ہمارے اس چارٹر آف ڈیمانڈ کی تائید و حمایت کریگا اور اس پر عملدرآمد کا یقین دلائے گا،چاروں صوبوں میں اسکے بارے بتا دیا جائیگا تاکہ ہمارے لوگ اسکے حق میں حق رائے دہی استعمال کرسکیں کیونکہ کچھ جماعتیں صوبوں میں جبکہ کچھ وفاق میں زیادہ فعال ہیں تاہم فی الوقت کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ملک بھر میں فعالیت کا دعوٰ ی کر سکے۔

سوال: پاکستان کی تین سو خانقاہوں کے سجادہ نشینوں نے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، آپ یہ فرمادیں کہ ٹی این ایف جے کسکی حمایت کریگی؟اور آپ جو کہہ رہے ہیں کہ کچھ جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ ملتی ہے تو اسکے بارے بتائیں؟

جواب: ہم کونو ا للظالم خصما وللمظلوم عونا کے فرمان کے تحت اسکی حمایت کریں گے جو مظلوم کا دوست اور ظالم کا دشمن ہو، اور ہمارے اس چارٹر آف ڈیمانڈ کی حمایت کریگا، اور اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ تعاون کریگا۔

سوال: وہ مذہبی جماعتیں جنکے بارے آ پ نے فرمایا کہ وہ بیرون ملک سے فنڈنگ لے رہی ہیں انکے بارے بھی بتا دیں؟

جواب : ان تمام جماعتوں کی تفصیل آپکے علم میں بھی ہے۔ وہ یہی جماعتیں ہیں جنہیں وفاقی وزارت داخلہ کے ادارے نیکٹا NACTA نے کالعدم قرار دے رکھا ہے اور ادارے کی ویب سائٹ پر بھی انکی فہرست موجود ہے (کالعدم جماعتوں کی فہرست دکھائی) جبکہ قومی اخبارات و جرائد میں سرکاری اشتہارات کے ذریعے بھی عوام کو انکے بارے خبرادار کیا گیا ہے۔تاہم اسکے باوجود یہ کالعدم جماعتیں کھلے عام کام کر رہی ہیں اور الیکشن میں حصہ بھی لے رہی ہیں، جبکہ نگران حکومت نے ایک اضافی کارنامہ یہ سرانجام دیا ہے کہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مصداق انکے لوگوں کے نام فورتھ شیڈول سے خارج کیئے جا رہے ہیں۔

سوال: آغا صاحب یہ بھی فرما دیجیئے گا کہ کیا نیشنل ایکشن پلان پرعمل نہ ہونے کا ذمہ دار آپ فوج کوسمجھتے ہیں کہ وہ اس پر عملدرآمد نہیں کروا پائی یا اس عدم عملدرآمد کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے؟

جواب : دیکھیئے بات یہ ہے کہ ایک مقننہ ہے ، ایک عدلیہ ہے اور ایک منتظمہ ہے ، آئین بھی موجود ہے، ہر شخص اور ہر شعبہ نے یہ چاہا کہ آئین اسکے زیر رہوجبکہ وہ خود بالا رہے، اسی وجہ سے وطن عزیز پاکستان آج مسائلستان بن چکا ہے ۔ اگر ہر شعبہ آئین کے مطابق جسکا کام اسی کو سانجھے کے تحت اپنا اپنا کام کرتا تو آج یہ مسائل پید ا نہ ہوتے اور نہ آئندہ ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا برائے مہربانی تمام شعبہ جات اپنا اپنا کام کریں ، اسی میں پاکستان کی عزت و بھلائی اور کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے۔

سوال: آغا جی 25 جولائی کو الیکشن ہونے جا رہا ہے ، آج آپ اپنے جس چارٹر کا اعلان کر رہے ہیں اسمیں آپ کیا ٹائم فریم دے رہے ہیں کیونکہ اسکا نتیجہ آپکو ملے گا تو آپ کسی کی حمایت کا اعلان کریں گے،لہٰذا ایک تو یہ فرما دیں کہ اسکا ٹائم فریم کیا ہے؟ دوسرا سوال یہ کہ آ پ ایک عالم دین بھی ہیں، عام شہریوں کیلئے اور ووٹر کیلئے یہ رہنمائی کریں کہ اس مرتبہ لوگ الیکشن کو ختم نبوت کے پوائنٹ کے اوپر کھیل رہے ہیں ، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ختم نبوت کے حوالے سے ایک عام ووٹر اور عام شہری کو کسکی حمایت کرنی چاہیئے یا ختم نبوت کے اس پوائنٹ کی اصل حقیقت کیا ہے؟

جواب: دیکھیئے بات یہ ہے کہ اس مرتبہ الیکشن زیادہ تر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہو رہے ہیں، جسطرح بنو امیہ نے اسلام کا نام استعمال کیا، بنو عباس نے اہلیبیتؑ کا نام استعمال کیا ، ضیاء الحق نے شریعت کا نام استعمال کیا، لہٰذا اب بھی آپ دیکھ لیں کے ایک جماعت اللہ اکبر کا نعرہ استعمال کر رہی ہے، دوسری محمد رسول اللہ کا استعمال کر رہی ہے ، تیسری کتاب کا نام استعمال کر رہی ہے ، جبکہ جنگ صفین میں بھی کتاب کو بلند کیا گیا تھا، سنت کے ساتھ نہیں بلکہ صرف کتاب کو، چوتھی اہلیبیت ؑ کا نام استعمال کر رہی ہے اور پانچویں صحابہؓ کا نام استعمال کر رہی ہے جبکہ یہ عصبیت ہے اور یہی ہمارے لیے خطرہ بھی ہے کیونکہ ایسا کرنا نظریہ اساسی کو سبوتاژ کرنے کے مترادف اور قائد اعظم و علامہ اقبال کے فرمودات و نظریات سے کھلا انحراف ہے ۔

سوال: آغا جی یہ بتائیے گا کہ یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ فوج اور عدلیہ آمدہ عام انتخابات میں مداخلت کر رہی ہیں ، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے؟اور ساتھ کچھ سیاسی جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے ، اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟ اور اسکے علاوہ کل جو سانحہ پشاور میں ہوا اسکے بار ے آپکا کیا موقف ہے؟

جواب: جیسا کہ میں نے بتلایا کہ یہ جو دھماکہ ہوا اسکی وجہ حکمرانوں کا نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنا ہے،دراصل سیاستدان خود ہی اس پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں جو دہشتگردوں کو اپنے پریشر گروپ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب بھی آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سے سیاستدان انہی کالعدم عناصر کے پاس انکے دفاتر میں جا رہے ہیں ، اور وہاں جا کر انہیں سلام و دعائیں کہہ رہے ہیں، انہیں پیشکشیں کر رہے ہیں، اوراسکے ساتھ ساتھ کھلے عام پیسہ تقسیم کیا جا رہا ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔باقی آپکا سوال کہ کو ن مداخلت کر رہا ہے ؟ تو اسکے بارے جسقدر آپ جہاندیدہ اور واقفِ احوال ہیں کوئی دوسرا نہیں ہے ، لہٰذا یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ انتخابات میں مداخلت قو م و ملک کے لیئے انتہائی نقصاندہ ہے ، اور ایسی بے جا مداخلت کی صورت میں ہمیں باہر کے دشمن کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے دشمن پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

سوال: موسوی صاحب یہ بتائیے گا کہ میاں نواز شریف نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ پاکستان آ رہے ہیں جبکہ وہ سزا یافتہ بھی ہیں ، دوسری جانب نگران حکومت اور نیب کی جانب سے انہیں گرفتار کرنے کیلئے پلان بنایا گیا ہے، اسکے ساتھ ن لیگی کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ، ایسی صورتحال میں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا 2018 کا الیکشن پر امن طور پر منعقد ہو سکے گا ؟اور جو الزامات نگران حکومت پر لگائے جا رہے ہیں کہ نگران حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے ، ن لیگی کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے، ایسی صورتحال کے بارے بتائیے گا کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں اورکیا میاں نواز شریف کی پاکستان آمد پر انکا استقبال ہونا چاہیئے یا انہیں حکومتی پلان کے مطابق ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر سیدھا جیل یا عدالت لایا جائے؟

جواب : دیکھیئے عدل و انصاف اسلام کی بنیاد ہے۔ امام زین العابدین ؑ کے ایک آزاد کردہ غلام امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام جعفر صادقؑ سے کہا کہ آپ میری سفارش کریں کہ مجھے حکومت کی جانب سے کو ئی منصب عطا ہو، امام ؑ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں یہ سفارش نہیں کر سکتا،دوسری مرتبہ وہ شخص دوبارہ امامؑ کے پاس آیا اور کہا کہ شاید آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ منصب کے حصول کے بعدمیں ظلم کا ارتکاب کرونگا جبکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ عدل و انصاف سے کام لوں گا، آپ نے دوبارہ انکار کر دیا او ر فرمایاکہ میں سفارش نہیں کر سکتا۔ تیسری مرتبہ وہ پھرامام ؑ کے پاس آیا اور کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر ظلم کا ارتکاب کروں تو اپنی بیوی کو آزاد کردونگا، اور اپنے تمام غلام بھی آزاد کردونگا، بس آپ میری سفارش کر دیں۔ توامام جعفر صادق ؑ نے ایک جملہ ارشاد فرما یا کہ آسمان کو ہتھیلی پر اٹھانا آسان ہے بنسبت انصاف کرنے کے۔لہٰذاعدل و انصاف بہت مشکل کام ہے اسی لیئے آخرت میں منصبِ قضاوت پر براجمان ہو نیوالوں کیلئے بھی سخت امتحان ہوگا، لہٰذا جج کا منصف ہونا بہت ضروری ہے۔ کائنات میں چیف جسٹس کا لقب صرف علی ؑ ابن ابی طالبؑ کو دیا گیا اور انکے لیے رسالتماب ؐنے فرمایا کہ علیؑ سب سے بہتر انصاف کرنیوالے ہیں۔ایک شخص نے علی ؑ ابن ابی طالبؑ کے ہاں مہمان بننا چاہا تو آپ ؑ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ چونکہ تمہارامقدمہ زیر سماعت ہے لہٰذا تم میرے ہاں مہمان نہیں رہ سکتے ، اب ایسی مثال دنیا میں ڈھونڈ کر لائیں ۔ آپ دیکھ لیں کہ جتنے بھی جج صاحبان ہیں وہ کسی نہ کسی جانب مائل ہیں، اسمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدل و انصاف بہت ہی مشکل ہے، اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے اور رحیم بھی ۔رحیم و ہ اپنے حقوق کے بارے میں ہے مثلا اگر کوئی نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا ، یا حج اسنے نہیں کیاتو اللہ اسے بخش سکتا ہے لیکن اگرکوئی حقوق العبادکی خلاف ورزی کرتا ہے ، اسمیں خیانت کرتا ہے تو اسکے بارے اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کریگا اور جبتک وہ بندہ جسکا حق غصب ہوا، اپنے مجرم کو خود نہیں بخشے گا، اللہ تعالیٰ بھی اسکا حق غصب کرنیوالے کو نہیں بخشے گا۔ کائنات میں آپکواسکی مثال نہیں ملے گی کہ جب حضرت علیؑ نے کوفہ شہر میں داخل ہوتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں تمہارے شہر میں تین چیزوں کیساتھ داخل ہو رہا ہوں جنمیں ایک میرا لباس ہے، دوسرا گھوڑا اورتیسری میری تلوار ہے اگر شہر سے جاتے ہوئے کوئی چوتھی شہ علی ؑ کے پاس دیکھو تو سمجھ لینا کہ علی ؑ نے خیانت کی۔آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کل تک جن لوگوں کے پاس سر کیلئے ٹوپی نہیں تھی، پاوں میں جوتی نہیں تھی، باندھنے کیلئے دھوتی اور سواری تک نہیں تھی، آج دنیا کی ہر شے اور آسائش کے مالک بن چکے ہیں، یہ کہاں سے آئی ہیں؟ کہاں سے ان پر یہ من و سلوٰی نازل ہوا؟ کیونکہ من و سلوٰی تو یہودیوں پر نازل ہوتا تھا، مسلمانوں پر کب سے ہونے لگا؟ بہر حال ہم سے سب بہتر ہیں لیکن دیکھا جائے تو سب برائیاں ہی برائیاں ہیں ،جنمیں سے آپ کوجو کم برائی ہے اسے اختیار کرنا ہوگا، اب یہ فیصلہ آپ نے خودکرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپکو عقلِ سلیم کی نعمت سے نوازا ہے جو باطنی پیغمبر کا درجہ رکھتی ہے۔

سوال: آغا صاحب یہ بتائیے کہ پاکستان بھر میں آپکی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے کارکنان کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے ، آپ نے فرمایا ہے کہ جو جماعت آپکے سولہ نکاتی چارٹر کی حمایت کریگی، آپ اسکی حمایت کرینگے، الیکشن میں وقت بہت کم رہ گیا ہے جبکہ ملک کے طول و عرض میں آپکے کارکنان آپکی جانب دیکھ رہے ہیں کہ آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں ، یہ بتائیں کہ کیا کسی پارٹی نے ابھی تک آپکو اس چارٹر آف ڈیمانڈ کی حمایت کا یقین دلایا ہے؟

جواب: سیاسی جماعتیں اور انکے سربراہان ہماری ٹیموں سے مل رہے ہیں،گو کہ میں خود کسی سے نہیں ملا ہوں تاہم ہمارے صوبائی پولیٹیکل سیلز اور مرکزی کمیٹی سے جسکے چیئرمین راجہ ذوالفقار علی ہیں اور ہمارے جنرل سیکرٹری سے بھی ملاقاتیں کرکے وعدے وعید بھی کر رہے ہیں۔ لیکن الکریم اذا وعدہ وفا ،یعنی کریم وہ ہے جو وعدہ کر ے تو اسے پورا کرے جبکہ سیاست میں جو وعدے ہوتے ہیں وہ آپکے سامنے ہی ہیں۔

سوال: آغا صاحب یہ بتائیں کہ آپکا ایک مکتبِ فکر تو ایم ایم اے کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے ، آپ کسکی حمایت کا اعلان کریں گے؟

جواب : جیسا کہ پہلے بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ جو ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ کی حمایت کریگا، اسکی حمایت کی جائیگی۔

سوال: آغا جی یہ فرمائیں کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہے یا جانبداری برت رہا ہے؟

جواب: یہ توالیکشن ہو نے پر واضح ہو گا کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے یا غیر جانبدار۔

سوال: آغا جی آپ نے کالعدم جماعتوں کی بات کی ہے تو، اگر ادارے انہیں قومی دھارے میں لیکر آنا چاہتے ہیںیا وہ جماعتیں اپنے ماضی کو چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہ رہی ہیں تو اسمیں حرج کیا ہے، یا کیا برائی ہے؟

جواب : یہ بات یاد رکھیئے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے، لیکن کسی اور کے مجرم کی توبہ رسالتماب ؐ یا انکے حقیقی جانشین ہی قبول کر سکتے ہیں جسطرح رسول اکرمؐ نے فتح مکہ کے موقع پر لا تثریب علیکم الیوم انتم طلقاء فرما کر عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے تمام گنہگاروں اور مجرمین کو آزاد کر دیا تھا۔لیکن آپ اور میں کسی اور کے قاتل یا مجرم کو معاف نہیں کر سکتے کیونکہ نہ ہم نبی ؐ ہیں اور نہ ہی نبی ؐ کے جانشین ۔ آپ کسی کو معاف نہیں کر سکتے، ان دہشتگردوں نے جن لوگوں کو قتل کر رکھا ہے جب تک ان مقتولین کے ورثاء انہیں معاف نہیں کرتے کوئی حکومت انہیں معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔آپ خود سوچیں کہ پچتر ہزار بیگناہوں کے قاتلوں کو کیسے معاف کیا جا سکتا ہے ؟

سوال: آغا جی کچھ جماعتیںیہ تاثر دے رہی ہیں کہ انکے ساتھ انتقامی کاروائی ہو رہی ہے اور وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی آپشن محفوظ رکھتی ہیں لہٰذااگر کوئی ایک یا کچھ جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتی ہیں تو کیا ایسی صورتحال میں الیکشن ہونا چاہیئے؟

جواب: دیکھیئے الیکشن اسی صورت میں ہونا چاہیئے کہ جب تمام پارٹیوں کو آزادی حاصل ہو ، اور ان پر کسی قسم کی قدغن نہ لگائی جائے تاکہ تمام جماعتیں خوشدلی اور اطمینان سے انتخابات میں حصہ لے سکیں لیکن اگر آپ کسی ایک جماعت کو تنگ کریں گے یا آپکا میلان کسی ایک جماعت کی جانب ہوگا تواس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
جزاکم اللہ خیرا۔ اختتامی دعا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.