نبیؐ کی بیٹی کی قبر پر ظلم کے خلاف سعودی ایمبیسی لندن کے سامنے تاریخی ماتمی احتجاج

ولایت نیوز شیئر کریں

8شوال کا دن تاریخ اسلام کا سیاہ ترین باب اور مسلمانوں کے دامن پر بدنما دھبہ ہے

 برطانیہ  ایک صدی پہلے کئے گئے  اپنے اقدامات کا مداوا کرتے ہوئے جنت البقیع کے مزارات کو از سر نو تعمیر کروائے

لندن (رپورٹ : علی زین کاظمی،تصاویر : ناعم عباس ) نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ  کی قبر پر ہونے والے بدترین ظلم کے خلاف قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی کال پر عالمگیر یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر 24 جون  اتوار کو برطانیہ میں سعودی سفارتخانے کے سامنے کرزن سٹریٹ لندن میں ٹی این ایف جے کے زیر اہتمام فقید المثال ماتمی احتجاج کیا گیا ۔ماتمی احتجاج  برطانیہ کے مختلف شہروں سمیت یورپ بھر سے ماتمی عزاداروں نے شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ عاصم ولایتی  نے کہا کہ 8شوال کا دن تاریخ اسلام کا سیاہ ترین باب اور مسلمانوں کے دامن پر بدنما دھبہ ہے جب  آل سعود نے جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کے تاریخی قبرستانوں میں مدفون رسول ؐ خدا کی پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مزار اقدس کے علاوہ امہات المومنینؓ ،صحابہ کرامؓ ،آئمہ علیہم السلام اور اسلام کی عظیم ہستیوں کے مزارات کو بلڈوز چلا کر مسمار کردیا ۔علامہ ہاشم رضا غدیری نے کہا کہ بزرگان دین کے مزارات قرآن و احادیث سے ثابت ہیں۔

ڈاکٹر زاہد حسین نقوی نے قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے پیغام سے اقتباسات پیش کرتے ہوئے کہا کہ  اٹھارویں صدی کے آغاز میں برطانوی سامراج نے اپنے وقت کی عظیم مسلمان عثمانی و ایرانی سلطنتوں کو گرانے اور مسلمانوں کو بے روح کرنے کیلئے جو منصوبہ بنایا اس کا اول جزو اسلام کی نشانیوں مزارات مقدسہ اور مشاہیر اسلام سے منسوب یادگاروں کو صفحہ ہستی سے مٹادینا قرار دیا گیا۔ ہمفرے اور لارنس آف عریبیہ جیسے برطانوی جاسوسوں کی کوششوں سے اسلامی عقائد ونظریات میں انتہا پسندی و دہشت گردی کی ملاوٹ کرکے نجد کی سرزمین سے سامری کے بچھڑے کی مانند جس نئے نظریے میں روح پھونکی گئی اس کا اولین ہدف خانہ کعبہ مسجد نبوی سمیت عالم اسلام کی تمام یادگاروں کو گرانا قرار پایا۔یہی وجہ ہے کہ جب جب برطانوی سامراج کی سازش سے تشکیل دیئے گئے نئے ( مزارات کو گرا دیئے جانے کے)عقیدے پر چلنے والوں کو حکومت ملی انہوں نے سب سے پہلا کام مزارات مقدسہ کو گرانے کا کیا۔

اس موقع پر  انجمن غلامان حضرت عباس کے سید ناصر عباس جعفری ، علامہ قاسم زیدی ، ذاکر صفدر عباس جعفری ، ذاکر ملک اقلیم عباس، ذاکر غلام رضا ، علی زیب مہدی ، بابر عباس ، حسن بخاری ، ہادی رضا نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض ساجد حسین کاظمی نے ادا کئے ۔

خواتین کی ایک کثیر تعداد نے بھی احتجاج میں شرکت کی ۔

شرکائے احتجاج نے آغا حامد موسوی کے فرامین ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اور جنت البقیع کی تعمیر کے مطالبے پر مشتمل کتبے اٹھا رکھے تھے۔

احتجاج کے شرکاء نے  اس عہد کا اعادہ کیا کہ ہماری یہ جدوجہد جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کے مزارات کی از سرنو تعمیر تک جاری رہیگی کیونکہ یہ عالمگیر احتجاج ہرمکتب پوری انسانیت کے ضمیر کی آواز ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ہمیں یقین ہے کہ وہ دن ضرور آئیگا کہ جب مزارِ سیدہ ؑ تعمیر ہوگا اور جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کی رونقیں بحال ہونگیں۔

قرارداد میں ملکہ برطانیہ اور حکومت برطانیہ سے  مطالبہ کیا گیا کہ ایک صدی پہلے کئے گئے  اپنے اقدامات کا مداوا کرتے ہوئے جنت البقیع کے مزارات کو از سر نو تعمیر کروائے ۔

قراردادمیں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ ،او آئی سی ،آئی سی سی ،انسانی حقوق کے ادارے  اگر وہ انسانی اقدار کو باقی رکھنا چاہتے ہیں تووہ مکہ و مدینہ کے توسیعی منصوبوں کی آڑ میں اسلام کے عظیم اور گراں قدر ثقافتی ورثے کے انہدام سے حکومت سعودی عرب کو روکے اور سعودی عرب میں موجود مقاماتِ مقدسہ کی عزتِ رفتہ بحال کرے۔ شام عراق پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردوں کی فنڈنگ رکوائی جائے۔

پروگرام کے اختتام پر زبردست نوحہ خوانی و ماتمداری کی گئی جس میں برطانیہ کی تمام ماتمی تنظیموں نے شرکت کی ۔

One thought on “نبیؐ کی بیٹی کی قبر پر ظلم کے خلاف سعودی ایمبیسی لندن کے سامنے تاریخی ماتمی احتجاج

  • 24 جون, 2018 at 10:05 شام
    Permalink

    Mashah ALLAH MULA S.A. jazai khair ata farmain ELLHI aamin

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.