جنت البقیع اور حضرت عیسیٰؑ کے خون کا ماتمی جلوس:عزاداری کو فرسودہ کہنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ 

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریر: علا حیدر

سرگرم قومی کارکن اور ہمارے مختار سٹوڈ نٹس آرگنائزیشن کے دور کے ساتھی شجاع حیدر زیدی کا تعلق پشاور کے عزادار گھرانے سے ہے اور ایک عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں ۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی اعلان کے مطابق یوم انہدام جنت البقیع  کے سلسلے میں ہر سال جرمنی کے مضافاتی شہر وین گارٹن (Weingarten)میں  ایک آگاہی (Awareness) کیمپ کا انعقاد کرتے ہیں ۔جس کی تصویری جھلکیوں میں شجاع زیدی اپنے چند شیعہ سنی ہم خیال دوستوں کے ہمراہ مختلف لوگوں اور گروپس کو جنت البقیع کی تاراجی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے نظر آتے ہیں ۔

گذشتہ روز مختار آرگنائزیشن کے ملک فرقانی سے بات چیت کرتے ہوئے میں نے انہیں کہا کہ فرقانی بھائی زیدی صاحب سے کہیں کہ کسی بڑے شہر میں پروگرام کریں جس کے بین الاقوامی دنیا پر زیادہ اثرات ہوں تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی بارہا انہیں یہ کہہ چکے ہیں لیکن شجاع زیدی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ شہرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خون کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے جہاں دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں لہذا اس شہر میں آگاہی کیمپ لگانے سے جنت البقیع کے درد کی آواز تمام مغربی ممالک میں پہنچ جاتی ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے جن حکمرانوں کو حجاز کی مقدس سرزمین پر مسلط کیا تھا انہوں نے مکہ و مدینہ میں مسلمانوں اور انسانیت کے تاریخی ورثے کو ہی تاراج نہیں کیا بلکہ اس انداز میں اس پوری دنیا میں انتہا پسند نظریہ پھیلایا کہ آج تمام مذاہب کے قدیم آثار کو خطرہ درپیش ہے جس کا مظاہرہ بامیان ، پیلمائرا شام اور عراق میں دنیا دیکھ چکی ہے ۔اسلام اور انسانیت کے ورثے کو تاراج کرنے والے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اگر کڑی سے کڑی ملائی جائے تو ان جنونیوں کا ’کھرا‘ برطانوی سامراج اور صیہونیت سے ہی ملتا نظر آتا ہے ۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے عالمی احتجاج کا مقصد جنت البقیع کی پامالی پر محض احتجاج ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ عالمی امن و سلامتی کو دہشت گردوں سے درپیش خطرے سے بھی آگاہ کرنا ہے اور ان کے پیچھے کارفرما لابیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے ۔

Weingarten شہر میں حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے خون کا گھڑ سوار سالانہ جلوس

شجاع زیدی کی بات بھی دل میں اتری مگر ساتھ ہی  Weingarten شہر کی تاریخ کے بارے میں تجسس پیدا ہو گیا کہ آخر اس شہر میں حضرت عیسیٰ ؑ کا خون کیسے پہنچا اور اس کی حقیقت کیا ہے لہذا میں Weingarten کی تاریخ کا کھوج لگانے بیٹھ گیا تو مجھ پر آشکار ہوا کہ عیسائی روایات کے مطابق گالگوتھا ( Golgotha) کی پہاڑٰ ی پر جب حضرت عیسی ٰ ؑ کو مصلوب کیا گیاتو رومن لشکر کے ایک سپاہی ( Longinus)نے اپنا نیزہ حضرت عیسیٰؑ کے پہلو میں پیوست کردیاتا کہ حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے خاتمے کا یقین ہو جائے ۔نیزہ مارنے کے سبب حضرت عیسی ٰ ؑ کے خون کے چھینٹے اس رومن سپاہی کے چہرے پر پڑے جیسے ہی مسیح کا خون اس سپاہی کے منہ پرپڑا تو اسے اس کے معجزاتی کرشموں کا احساس ہونا شروع ہوگیا لہذا اس نے گالگوتھا کی مٹی کے ساتھ آمیزہ بنا کر ان خون کے قطروں کو ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔بپتسمہ (baptized) لینے کے بعد اس سپاہی نے یروشلم کو خیر باد کہہ دیااور عیسائیت کا مبلغ بن گیااور اسی پاداش میں اسے قتل کردیا گیا اس سپاہی نے حضرت عیسی ٰ کے خون اور مٹی والا صندوق مرنے سے پہلے چھپا دیا جو صدیوں چھپا رہا ۔ پھر ایک نابینا شخص کو وہ صندوق ملا جس کی اطلاع ملتے ہی عیسائی شہنشاہ ہنری سوئم ، پوپ اور مقامی ڈیوک بھی پہنچ گئے ۔ نابینا کو صندوق کی برکت سے بینائی مل گئی لیکن ساتھ ہی صندوق کی ملکیت کا تنازعہ کھڑا ہو گیا جو خون خرابے تک جا پہنچا بالآخر عیسائی شہنشاہ ہنری سوئم ، پوپ اور مقامی ڈیوک نے حضرت عیسی کو صلیب پر چڑھائے جانے والے مقام کی مٹی اور خون کا آمیزہ برابر تقسیم کرلیا۔ قصہ مختصر یہ کہ مقدس خون اور خاک کے آمیزے کا ایک چھوٹا سا حصہ کئی معجزات بکھیرنے اور مزیدکئی حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد وین گارٹن (Weingarten) میں پہنچ گیا جہاں گیارھویں صدی عیسوی میں جس تاریخ کو یہ مقدس خون اور خاک کا تبرک اس قصبے میں پہنچا وہ ایسنشن ڈے (Ascension day) کے بعد آنے والا جمعہ تھا ۔

اسی دن کی یاد میں گذشتہ کئی صدیوں سے حضرت عیسی ٰ ؑ کے خون کا جلوس ایسنشن ڈے(جو ایسٹر کے چالیس روز بعد منایا جاتا ہے) کے بعد آنے والے جمعہ کو وین گارٹن (Weingarten) کی گلیوں اور سڑکوں میں اپنے مقرر کردہ روٹ پر نکالا جاتا ہے اس جلوس کوبلٹ رٹ (Blutritt) کہا جاتاہے جس میں ایک بلڈ رائڈر (خونی گھڑ سوار )ایک جواہرات جڑی صلیب جس میں یہ خون اور خاک کڑھائی کی طرح پرو دیا گیا ہے کو اٹھائے نکلتا ہے جس کے ساتھ دو سے تین ہزارگھڑ سوار(بلڈ رائیڈرز blood riders) ٹیل کوٹ اور مخصوص ہیٹ پہنے شریک ہوتے ہیں اور پوری دنیاسے ہزاروں لاکھوں افراد یہ خون کا تاریخی جلوس دیکھنے جمع ہوتے ہیں ۔اس جلوس کے دوران والدین اپنے نوجوان بچوں کوتھپڑ(slapping) مارنے کی رسم بھی ادا کرتے ہیں ۔

حضرت عیسی ٰ کے خون میں لتھڑی خاک (تعزیہ )کے ساتھ نکالا جانے والا یہ جلوس 950سال سے وین گارٹن (Weingarten) میں جاری ہے اسی طرح کے جلوس (Blutritt) یورپ اور جرمنی کے مختلف علاقوں میں بھی نکالے جاتے ہیں ۔ لیکن Weingarten کا جلوس یورپ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہے۔

اس جلوس کی تصاویر اور خبروں کو دیکھ دیکھ کر مجھے قوم کی صفوں میں گھسے عزاداری دشمن ’مصلحین‘ کی مکاریاں یاد آگئیں جو اصلاح کی آڑ میں سادہ لوح مخلص محبان محمد و آل محمدؐ کی برین واشنگ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں عزا داری مجلس ماتم قمہ زنی تعزیہ برداری علم ذوالجناح کی رسومات کو ترک کردینا چاہئے کہ اس سے دنیا ہمیں فرسودہ قوم سمجھتی ہے لیکن جرمنی کے اس خونی جلوس کی تفصیلات کی تلاش کے دوران بیسیوں لنکس اور مضامین ویڈیوز میں کوئی ایک بھی کمنٹ ایسا نظر نہیں آیا جن میں اس رسم کو فرسودہ کہا گیا ہو۔ اس مٹی اور خون کے تبرک جس کے اصلی ہونے کی دلیل نابینا شخص کی روایت کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے باوجود  اس جلوس میں ہزاروں ڈاکٹرز انجینئرز کوالیفائیڈ پروفیشنلز، سائنسدان اور ماہرین تعلیم شریک ہونا باعث سعادت سمجھتے ہیں کوئی انہیں یہ کہتا نظر نہیں آتا کہ  ضعیف روایت کے نتیجے میں نکالا جانے والا یہ جلوس عیسائیت کے منافی ہے یا اس شہر کو گوگل کرنے سے نظر آنے والی تصاویر سے جرمنی جیسی ترقی یافتہ ترین قوم کا سر سے جھک جائے گا۔

اس قدیم تعزیہ بردار جلوس جاری رکھنے کے باوجود جرمنی ٹیکنالوجی میں دنیا میں سب سے آگے ہے جرمنی سے چرائی ہوئی ٹیکنالوجی سے ہی روس اور امریکہ نے کمال حاصل کیا۔ جرمن دنیا کی ذہین ترین قوم شمار ہوتے ہیں اور اپنی ترقی کا سبب اس خون سے حاصل ہونے والی برکت کو قرار دیتے ہیں ۔

میں نے اس ساری ریسرچ سے یہی راز پایا کہ قو میں وہی کمال تک پہنچتی ہیں جو اپنے محسنوں کے آثار اور باقیات کی قدر کریں خواہ وہ ان کے خون ملی خاک شفا ہو یا ان کے مزارات !!!

بات یوم انہدام جنت البقیع کے آگاہی کیمپ سے شرع ہوئی تھی اور عزاداری پر آستین کے سانپوں کے حملوں تک آن پہنچی اسلام  ہو یا مکتب اہلبیت  انہیں بیرونی حملوں سے زیر کرنے میں ناکامی کے بعد اندر کی سازشوں  کا شکار کردیا گیا ہے  میرے ذہن میں اپنے مرحوم والد گرامی کے الفاظ گونجنے لگے کہ ہمارا خون بہانے والے دہشت گردوں اور عقیدے کا خون بہانے والوں کا دائمی اتحا د ہے کیونکہ جن بد عقیدہ لوگوں کو ہم اپنی مجالس میں گھسنے نہیں دیا کرتے تھے وہ  دہشت گردی کے سانحات کے بعد کہیں کیس لڑنے کہیں ضمانتیں کروانے کہیں صلح کروانے کہیں انتظامیہ سے ملاقات کروانے کے بہانے ہماری صفوں کے اندر گھستے چلے گئے ۔۔۔آج قتل کرنے والوں اور مقتولوں کا کیس لڑنے والوں کا خفیہ اتحاد سیاسی مجلسوں سے لے کر ٹی وی چینلوں کے مذاکروں تک بے نقاب ہو چکا ہے۔۔۔ایک درد کی لہر سینے میں اٹھتی ہے کہ کس قدر بے دردی سے بے گناہ مارے جاتے رہے اور کیسے سفاکی سے ان کا خون بیچا جاتا رہا۔۔۔خون بیچنے والے نظریاتی کونسلوں سے امن کمیٹیوں متحدہ علماء بورڈوں میں ہر جگہ قوم کے نمائندے بن بیٹھے ۔۔ مجھے وہ چہرے بھی یاد آئے جنہوں نے دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملا کر حق زہراؑ کے وکیل کو ہی توہین کا ملزم بنادیا بقول علامہ رشید ترابی

پھر کیسے خاموش رہے گا گھر کا وارث جب آئے گا

جن عقائد کے تحفظ کیلئے مکتب تشیع چودہ سو سالوں سے دیواروں میں چنوایا جاتا رہا زندانوں کی نذر ہوا دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنا دہشت گردی کے دھویں میں قوم کی نمائندگی کی سیڑھیاں چڑھنے والے یہ نمائندے ان عقائد سے کس آسانی سے دستبردار ہوتے نظر آتے ہیں جیسے صفین کے میدان میں کچھ جعلی نمائندے دستبردار ہوئے تھے(ان کا کیا خرچ ہوا ہے اس عقیدے اور دین پر ؟ انہوں نے تو دین کو محض کمائی کا ذریعہ ہی سمجھا ہے )۔۔۔

سازشی عناصر یہ مت بھولیں علی ؑکسی کے ماننے سے حق نہیں ہوتا علیؑ چودہ سو سال قبل بھی حق تھا اور تا قیامت حق رہے گا کیونکہ نبی کریم ؐ نے یہ فرما دیا تھا کہ حق علی ؑ کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ حق ہمیشہ وہی سمت اپنائے گا جس جانب علی ؑ ہو گا۔۔۔بعد از نبی علیؑ ہی بزرگ تھا  اور ہے بقول شیخ سعدی

کہ بعد از مصطفیٰ ؐ در جملہ عالم ۔۔۔۔۔۔۔نہ بُد فاضل تر و بہتر ز حیدرؑ

اور بقول ملا جامی ؒ

علی شاہ مرداں اماما ً کبیراً۔۔۔۔۔۔۔۔کہ بعد از نبی ؐ شد بشیراً نذیراً

میرے لبوں پر قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قصر زینب بھکر میں کی گئی دعا مچل رہی ہے کہ صفینی سازشیں عروج پر ہیں خدایا میری قوم کو اشعریوں سے محفوظ رکھنا۔۔۔آمین

2 thoughts on “جنت البقیع اور حضرت عیسیٰؑ کے خون کا ماتمی جلوس:عزاداری کو فرسودہ کہنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ 

  • 19 جون, 2018 at 7:06 صبح
    Permalink

    Excellent information. Hats off to you. Keep up the good work.

    Reply
  • 21 جون, 2018 at 11:28 شام
    Permalink

    سلام یا حسین(ع) ویا علی(ع) مدد !
    شعائر الله کی یاد اور تحفظ سنت هے جو لوگ اس امر کی مخالفت کرتے هیں وه یقینا” استعماری ایجنٹ هیں ان سے هوشیار رهنا چاهیۓ علماء حق همارے سروں کا تاج هیں مولا کریم انهیں سلامت رکھے اغا موسوی کو مولا مزید قوت عطا فرمائیں که وه صحیح العقیده مومنین کی سرپرستی فرماتے رهیں…..آمین بحق چهارده(14)معصومین(ع)…..

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.