21مئی 85ء معاہدہ مذہبی و انسانی آزادی کی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت رکھا ہے جو آمرمطلق ایم آر ڈی سے نہ جھک سکا اسے ٹی این ایف جے نے پرامن جدوجہد سے جھکا دیا،، آغاحامدموسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

میلادالنبی و عزاداری دین کی روح ہیں اپنی زندگی قربان کرسکتے ہیں دین کی روح سلب نہیں ہونے دیں گے ۔ یوم تحفظ نظریہ پاکستان کانفرنس کے موقع پر قائدملت جعفریہ کاخصوصی پیغام
نظریہ وحقوق پر سودابازی نہیں کریں گے،علامہ قمرزیدی ،آغاسیدمحمدمرتضیٰ موسوی، آغاعلی روح العباس ایڈووکیٹ ، سیدبوعلی مہدی ،چوہدری مشتاق حسین، سردارطارق جعفری اوردیگرکا خطاب 
اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حا مد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ 21مئی 85ء کا مو سوی جونیجو معاہدہ پاکستان میں مذہبی و انسانی آزادیوں کی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت رکھا ہے جس میں نظریہ پاکستان کی مکمل جھلک ہے ،دہشتگردی کا ٹارگٹ صرف شیعہ اور سنی نہیں بلکہ اسلام اور پاکستان ہیں، نیشنل ایکشن پلان سپریم کورٹ میں پیش کردہ ٹی این ایف جے کے آٹھ سو صفحاتی موسوی امن فارمولہ کا عکس ہے، دہشت گردی و انتہا پسندی کی جڑیں ختم کرنے کیلئے اسکی تمام شقوں پر بلا رو رعایت عملدرآمدضروری ہے، کچھ قوتیں پاکستان کو متشدد اورسیکولر بنانا چاہتی ہیں ،ہم جان پر تو کھیل سکتے ہیں لیکن کسی کوپاکستان کی نظریاتی اسا س پامال نہیں کرنے دیں گے، گیارہ سالہ ضیاء دورآمریت میں شریعت کے نام پر اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا شریعت مصطفوی ؐ کو سخت گیر دہشتگردوں او رسزاؤں کے مذہب کے طور پر مشہورکیاگیا جو اسلام خلاف سراسر بہتان طرازی ہے ،جو آمرمطلق ایم آر ڈی تحریک سے نہ جھک سکا اسے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے اپنی پرامن جدوجہد سے جھکنے پرمجبورکردیا،حسینی محاذ ایجی ٹیشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایجی ٹیشن تھا جس میں 14ہزارشیعہ سنی برادران کے ساتھ8عیسائیوں نے بھی رضاکارانہ گرفتاری پیش کی لیکن کسی کی ریڑھی الٹی گئی نہ کسی کی دکان جلائی گئی، میلادالنبی و عزاداری دین کی روح ہیں زندگی قربان کرسکتے ہیں دین کی روح سلب نہیں ہونے دیں گے ۔

اس امرکااظہارانہوں نے حسینی محاذ کے پرامن ایجی ٹیشن کے نتیجے 21مئی85ء کواس وقت کی حکومت اورٹی این ایف جے کے درمیان طے پانے والے موسوی جونیجو معاہدے کی منظوری کے 33سال مکمل ہونے پرمختارآرگنائزیشن اورمختارایس اوکے زیراہتمام ’یوم تحفظ نظریہ پاکستان ‘کانفرنس کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کیاجوتحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ سیدقمرحیدرزیدی نے پڑھ کرسنایا۔ اس موقع پرآغاسیدمحمدمرتضی موسوی ایڈووکیٹ ، آغاسیدعلی روحاالعباس موسوی ایڈووکیٹ ،سیدبوعلی مہدی اوردیگرمرکزی عمائدین مہمانان خصوصی تھے۔

آقای موسوی نے اپنے پیغام میں واضح کیاکہ پاکستان کا قیام 20ویں صدی کا عظیم ترین واقعہ اور قائد اعظم محمد علی جناح کا لافانی کارنامہ ہے جنہوں نے دنیا کے کسی بھی حصے میں بسنے والے مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد کو متحد کرکے ایک قوم تشکیل دی اورعلیحدہ آزاد مملکت قائم کی لیکن قائد اعظم کے بعد پاکستان انگریزوں کے چھوڑے آلہ کاروں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے ملک کی تعمیر کے بجائے اس کے اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ کو ترجیح دی ،سیاستدانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے مارشل لاؤں کا دور شروع ہو گیا پہلے مارشل لا ء میں محرومیوں کی فصل بوئی گئی جس کے نتیجے میں دوسرے مارشل لاء میں ملک دولخت ہوگیا تیسرے مارشل لاء نے پاکستان کے نظریہ اساسی پر وار کرتے ہوئے وطن عزیز کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کا اعلان کردیاگروہیت علاقائیت فرقہ واریت لسانیت غرضیکہ ہر قسم کی عصبیتوں کو فروغ دیا گیا قوم کو کلاشنکوف ہیروئین کے تحائف دےئے گئے اور دہشت گردی کے اسے بیج بوئے جس کی فصل 70ہزار قربانیوں کے باوجود کٹنے میں نہیں آرہی ۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم نے خاموشی کو گناہ سمجھتے ہوئے سب سے پہلے علی مسجد سے آواز بلند کی کہ کسی قوت کوپاکستان کی اساس پامال کرکے اقبال اور قائد اعظم کے فرمودات و نظریات سے انحراف نہیں کرنے دیں گے اسی ردعمل میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ وجود میں آئی جسے اپنے مطالبات منوانے کیلئے سیکرٹریٹ پر قبضہ بھی کرنا پڑااس دوران تحریک کے کارکن محمد حسین شاد نے نظریہ پاکستان کے پہلے شہید ہونے کا بھی اعزا ز حاصل کیا ۔اور یہ پریس نوٹ جاری کیا گیا کہ وطن عزیز میں کسی بھی قانون سازی میں تمام مکاتب کا خیال رکھا جائے گا ۔

آغا سید حامد علی شا ہ موسوی نے کہا کہ 7اکتوبر 84کو شروع ہونے والا آٹھ ماہ پر مشتمل حسینی محاذ ایجی ٹیشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایجی ٹیشن تھا دو شہیدوں صفدر علی نقوی اور اشرف علی رضوی کے خون سے معطر اس پرامن ترین تحریک جو درود اور ماتم کی صداؤں سے لبریزتھی نے مارشل لاء کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیااور جونیجو حکومت نے قائم ہوتے ہی ہم سے رابطہ کیا اور مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں 21 مئی 85کا معاہدہ عمل میں آیا جس کی پہلی شق یہ تھی کہ صوبائی حکومتوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام مذہبی جلوس خواہ وہ لائسنس والے ہوں یا روایتی بدستور نکلتے رہیں گے اور پولیس ایکٹ سے مستثنیٰ رہیں گے ،حسینی محاز ایجی ٹیشن کے چودہ ہزار اسیروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس معاہدہ کی رو سے16رکنی شیعہ مطالبات کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں شیعہ سنی نمائندوں کے ساتھ سابق صدر وسیم سجاد ،اقبال احمد خان بھی شامل تھے ۔ شیعہ مطالبات میں مکتب تشیع کیلئے فقہ جعفریہ کا نفاذ تمام ریاستی اداروں میں مکتب تشیع کی برابر نمائندگی اور آخری مطالبہ جنت البقیع اور جنت المعلی ٰکی تعمیر نو کیلئے سعودی حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالنا تھا ۔ہماری جدوجہد کے نتیجے میں عزاداری میلاد النبی ؐ اور اقلیتوں کے جلوسوں پر پابندی تو ختم ہوگئی لیکن دیگر مطالبات آج بھی تشنہ تکمیل ہیں۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسو ی نے اس عزم کااظہارکیاکہ نظریہ اساسی اورحقوق کے تحفظ کیلئے ہماری عملی جدوجہدامانت ودیانت کیساتھ جاری رہے گی اورقوم سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کیلئے وطن عزیز کے اتحاد و یکجہتی اور اپنے عقائد و حقوق کے بارے میں نہ پہلے سودا بازی کی نہ ہی کسی کوکرنے دیں گے۔ قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہاکہ ۔دہشتگردی کیخلاف آپریشن ردالفسادپوری قوم کی دعاؤں اور پکار کا نتیجہ ہے جسکی پشت پر پور ی قوم کھڑی ہے جسکی تائید و حمایت جاری رکھیں گے۔کانفرنس کے شرکاء نے پرجوش نعروں کی گونج میں متفقہ طورمنظورکردہ قراردادمیں واضح کیاکہ میلا د مصطفے ؐ اور عزاداری سید الشہداء ؑ کے مذہبی جلوس شوکت اسلام کے مظاہرے ہیں جن کے تحفظ کیلئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں کیاجانے والا’’ حسینی محاذ ایجی ٹیشن ‘‘تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا آئندہ بھی کسی طالع آزما کومذہبی آزادیوں پر قدغن لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی شیعہ سنی بھائی چارہ میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کرنے والوں کے عزائم ناکام بنا دےئے جائیں گے۔

قراردادمیں حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ جونیجوموسوی معاہدے پرعملدرآمدکویقینی بنائے ۔کانفرنس سے چوہدری مشتاق حسین ،علی اجودنقوی ،سردارطارق احمدجعفری ،ملک علی فرقانی ، سیدمحمدعباس کاظمی ، سیدعلی زین العابدین نقوی ،سیدکاشف کاظمی ، مفتی باسم عباس زاہری ، ایم ایچ جعفری ، ڈاکٹراین ایچ نقوی نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.