محسنۂ قوم مادر ملت جعفریہ – فیض کا سرچشمہ عہد حاضر کی ماؤں کیلئے نمونۂ عمل

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریر: علا حیدر(2009 میں لکھی گئی )

25شعبان المعظم1430ھ ( 17اگست 2009 )کو ماد ر ملت جعفریہ زوجہ بزرگوار قائدملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی رحلت کی خبر پوری دنیائے شیعت اور بالخصوص ملت جعفریہ پاکستان پر بجلی بن کر گری اور پورے پاکستان میں صف ماتم بچھ گئی ہر آنکھ اشکبار اور ہر سینہ غم سے لبریز تھا پاکستان بھر سے ماتمی عزادار علمائے کرام بانیان مجالس ،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ،مختار فورس، ایم اور، ایم ایس او ، ابرہیم سکاؤٹس کے کارکنان ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع پہنچنا شروع ہو گئے۔مراجع عظام کے دفاتر ،نجف اشرف ، قم المقدسہ کربلائے معلی، مدینہ منورہ، یورپ امریکہ اور دیگر منطقوں سے کوئی آپ کی خدمات دینیہ پر سپاس عقیدت پیش کر رہا تھا تو کوئی نہ رکنے والی ہچکیوں کے ساتھ محسنہ ملت کو خراج پیش کر رہا تھا۔مکتب تشیع کے ہیڈ کوارٹر کی فضا نوحہ و ماتم سے گونج رہی تھی سب آپس میں بغل گیر ہو کر رو رہے تھے اور بعض فرط جذبات میں اپنے گریبان چاک کر رہے تھے کوئی یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھا کہ قوم کی ماں جہان فانی سے کوچ کر گئی ہیں مگر یہ سچ تھاایک ایسا سچ جو پوری قوم کو برداشت کرنا ہے کیونکہ ،

جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا۔۔۔جب احمد مرسلؐ نہ رہے کون رہے گا۔

محسنہ ملت جعفریہ نے سیالکوٹ کے معزز اور عزادار خانوادہ میں الحاج آغا سید حسن علی شاہ کاظمی کے گھر آنکھ کھولی جن کا سلسلہ نسب فرزند حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ حضرت حمزہ کی وساطت سے رسالتمآب ؐتک ملتاہے۔حضرت حمزہ ہی سے صفوی خاندان کی نسل ہے۔ آغا حسن کاظمی جو امامیہ مشن لاہور کے ٹرسٹی اور بہت سے دینی اداروں کے موسس تھے اور اپنی علم دوستی اور علماء کی قدر دانی کے باعث شہرہ رکھتے تھے۔آغا سید حسن علی شاہ کاظمی کے والد گرامی بڈھے شاہ پنجاب کے صنعتی شہر سیالکوٹ کے معروف تاجر اور معزز ترین شخصیت تھے اور قیام پاکستان سے قبل لائسنس دار تعزیہ دار تھے اس زمانے میں عاشورہ کو جلوس نکالنے کی اجازت نہ تھی جب سید بڈھے شاہ نے جلوس عزا نکالنے کا ارادہ کیا تو پولیس نے خانوادہ کے تمام مرد حضرات کو گرفتار کر لیا۔لیکن پولیس اورانگریز انتظامیہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب برقعہ پوش خواتین ماتم کرتی ہوئی صدائے یا حسین ؑ بلند کرتے ہوئے ذوالجناح کے ہمراہ مرکزی شاہراہ پر آگئیں انگریز افسر کو یہ کہہ کر جلوس کی اجازت دینا پڑی کہ جس قوم کی خواتین اس عزم اور حوصلے کی مالک ہوں اسے کوئی نہیں روک سکتا اور آج تک اس جلوس عاشورہ کا سلسلہ شان و شوکت کیساتھ جاری ہے۔علم دوستی سے معمور اور عزائے حسینی ؑ کی محبت و وابستگی سے لبریز ماحول میں پروان چڑھنے والی محسنہ ملت 1969میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی ساتھ رشتہ ازداج میں منسلک ہوئیں جو 1967میں نجف اشرف سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدآیۃ اللہ العظمیٰ آقائے محسن الحکیم کے حکم کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت کے نواح میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے مقام پر جامعۃ المومنین کی تاسیس فرما کر دینی و علمی سرگرمیوں کی بنیاد رکھ چکے تھے۔

اعلیٰ نسب و شرف شریکہ حیات نے تقویٰ و شرافت اور علم و فقر میں یکتا شوہر نامدار کے قدموں میں سر رکھ کر وفا نبھانے کا عہد کیا۔40سالہ رفاقت میں وفا شعاری کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں۔

آقائے موسوی نے تشنگان علم کی پیاس بجھانے کا سلسلہ شروع کیا تو محسنہ ملت بھی پیچھے نہ رہیں طلاب دینیہ کو فرزندان امام جعفر صادقؑ سمجھتے ہوئے اپنی حقیقی اولاد کی طرح اپنے ہاتھوں سے طعام بناکر کھلایااور انکی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔آقائے موسوی نے خطہ ارضی پر قائم ہونے والی پہلی اسلامی نظریاتی ریاست کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کے آمرانہ اقدام کو چیلنج کیا تو باعزم رفیقہ حیات نے ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ ؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے مرد قلندر کا ساتھ دیا۔آقائے موسوی نے عزداری کو محدود اور مسدود کرنے کی آمرانہ سازش کے خلاف حسینی محاذقائم کیا تو مادر ملت زینبیؑ حوصلے کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ رہیں آقائی موسوی نے مشن عزداری کیلئے گرفتاریوں کا آغاز اپنے فرزندان کی گرفتاری کے اعلان سے کیا تو ماں پہلے سے اپنے بیٹوں آغا سید محمد مرتضیٰ موسوی آغا سید روح العباس موسوی کو شریکۃا لحسینؑ کی طرح تیار کئے بیٹھی تھیں جن کا سن 7سال کا تھا۔آقائے موسوی نے پریشان حالوں کا اپنی روحانیت اور فقر سے فیضیاب کرنا شروع کیا تو محسنہ ملت نے خواتین کیلئے فیض جاری کردیا۔پاکستان ہی نہیں دنیا بھر سے پریشان حال خواتین اپنے مسائل کے حل کیلئے مادر ملت سے رجوع کرتیں اور من کی مرادیں پاتیں ہزاروں بے اولاد خواتین کی گودیں آپ کی دعاؤں سے ہری ہوئیں علمی و فقہی امور پر بھی آپ خواتین کی رہنمائی کرتیں رہیں۔

آقائے موسوی نے مکاتب و مسالک کے درمیان تفریق کی سازش کے خلاف علم بلند کیا تو مادر ملت اتحاد بین المسلمین کا عملی مظہر بن گئیں اہل تشیع کی طرح اہل تسننن کی خواتین کو بھی اپنی محبتوں سے سیراب کیا۔ہوس زر اور مادیت کی طلب کے سبب جب درہم و دیناراور ڈالروو پونڈ میں علمائے سوء کی بولیاں لگنے لگیں تو جہاں آقائے موسوی نے لباس علماء کی توقیر بچانے کا بیڑا اٹھایا وہیں مادر ملت نے جدیدیت کی یلغار میں طبقہ نسواں کی حرمت بچانے کیلئے اپنی ذات اور اولاد کو عظمت نسواں کا سمبل بنا کر پیش کیا۔

شعائر حسینیہ اور عزاداری کے خلاف ہونے والی اندرونی و بیرونی سازشوں کے خلاف جہاں آقائے موسوی نے علمی فکری و عملی طور پر بند باندھا تو مادر ملت نے بھی خواتین کی فکری تربیت کر کے محاذ نسواں کو سنبھالے رکھا اپنے بچوں محمد مرتضیٰ علی روح العباس اور نواسے جون علی شاہ کو زنجیر زنی کیلئے خواتین کربلا کی تاسی میں خود رخصت فرماتیں اپنے تین ماہ کے نواسے جروان محمد کاظمی کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے روز عاشورہ قمہ زنی کیلئے روانہ کرتیں جنہوں نے فوارہ چوک میں کمسن بچوں کی قمہ زنی کا آغاز کیا۔ ذکر حسین ؑ انکا اوڑھنا بچھونا تھا جامعۃ المرتضیٰ میں دو ماہ آٹھ دن بلا ناغہ عزاداری کا سلسلہ آپ ہی کی سر پرستی میں شروع ہوا۔ خود بھی مجالس سے خطاب کیا کرتیں اور اپنی اولاد کی بھی انہی خطوط پر تربیت کی۔

دعویٰ کنیزی تھا انہیں بنت نبیؐ سے ۔۔۔ تھا انس بہت آل رسول عربیؐ سے

مادر ملت جعفریہ کے سوئم کی مجلس میں علمائے کرام شریک ہیں ۔
مادر ملت جعفریہ کے سوئم کی مجلس میں علمائے کرام شریک ہیں ۔

محسنہ ملت عالمی و ملکی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور حالات حاضرہ سے با خبررہتیں اور قومی و دینی حقوق کیلئے ہمیشہ متفکر رہتیں۔ بھکر میں خواتین کی مجلس میں دھماکہ کے نتیجے میں درجنوں خواتین کی شہادت کے بعد آپ ہی نے ام البنین ڈبلیو ایف کے قیام کی تجویز پیش کی اور آپ ہی اسکی سر پرست اعلیٰ تھیں۔مادر ملت ایک با عمل خاتون تھیں زندگی بھر انہوں نے کوئی نماز یا روزہ قضاء نہیں کیا۔رمضان میں کئی مرتبہ قرآن پاک ختم کرتیں رجب اور شعبان کے روزے بھی بہت اہتمام سے رکھتیں۔ تعجیل ظہورامام زمانہ ؑ کی دعا کثرت سے فرمایا کرتیں دم آخر بھی آپکی زبان پر اللھم کن لولیک حجۃ ابن الحسنؑ کا ورد جاری تھا۔

مادر ملت مہر محبت کا بحر بیکراں تھیں تا دم آخر ملت میں محبتیں بانٹتیں رہیں حالات زمانہ سے گھبرائے ہوئے خاانوادگان کیلئے آپکی تسلیت ابر رحمت کی طرح تھی اپنے روحانی فرزندان کی کسی پریشانی کا معلوم ہونے پر تڑپ اٹھتیں بارگاہ احدیت میں گریہ و زاری کر کے روحانی  جگر پاروں کے مسائل کے حل کیلئے دعائیں کرتیں ۔زندگی بھر عقائد حقہ کی پر چارک رہیں۔حرمت سادات کی ہمیشہ تبلیغ فرماتیں توہین سادات کو توہین رسالت و امامت گردانا کرتیںآپ نے مشن ولاء و عزا کیلئے مشکل سے مشکل حالات کا بھی استقامت سے مقابلہ کیااپکی زندگی کا ہر پہلو مینارہ نور ہے ا ور کیوں نہ ہو آپکی آئیڈیل بنت رسول ؐ کی ذات قدسیہ تھی۔

سامنے ہو اسوہ زہراؑ اگر۔۔۔ہو منور زیست کی ہر رہگرز

مادر ملت آج بظاہر ہم میں نہیں لیکن انکی دعائیں انکی یادیں انکی محبت انکے افکار رہنما بن کر ہمیشہ قوم کے ساتھ رہینگے۔مادر ملت کی جدائی اگر چہ ناقابل برداشت ہے لیکن ان کا دیا ہوا درس قوم کیلئے عز م وحوصلے کا سر چشمہ رہے گاہم قوم کی ماں سے یہ عہد کرتے ہیں وفا کے جن رستوں کوآپ روشن کر کے گئی ہیں ان پر چلتے ہوئے ہم مشن ولاء و عزا کی پاکیزہ جدو جہد میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا ساتھ ہر دم اور ہر آن نبھاتے رہینگے خداوند عالم اس راہ صدق و صفا پر ہمیں قائم و دائم رکھے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.