8 شوال یوم انہدام جنت البقیع پر قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا چشم کشا پیغام 

ولایت نیوز شیئر کریں

مسلم ورثے کو عالمی اداروں کی سرپرستی میں تباہ کیا گیا،حرمین شریفین کی حرمت بچانے کیلئے جنت البقیع کی عظمت بحال کی جائے

شعائر اللہ کو نقصان پہنچانے والے دہشت گرد وں کے مکروہ ہاتھ مسجد نبوی اور مسجد الحرام تک جا پہنچ چکے ہیں،عالم اسلام خواب غفلت سے جاگے

سرزمین حجازمیں شعائر اللہ کو مٹا کر عذاب شدہ قوم ثمود کے باقیات کو عالمی ورثہ قرار دلوانا امت مسلمہ کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے

مزارات مقدسہ کی بحالی شیعہ یا سنی کا مسئلہ نہیں پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، مزارات گرانے والی عدم برداشت کی فکر دنیا کے ہر ملک کو متاثر کررہی ہے

زندہ قومیں اپنے ہیروز اور نشانیوں کی حفاظت سے پہچانی جاتی ہیں 50ملکوں نے مصری تہذیب کو بچالیا لیکن حجازی تہذیب کو بچانے کیلئے کوئی نہ آیا

جب تک عالم ا سلام جنت البقیع کی پکار سے چشم پوشی برتتا رہے گا ذلت و رسوائی کی دلدل میں دھنستا جائے گا ،

………………………………………………………..

 

باسمہ تعالی
قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرما رہا ہے کہ
یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ
لوگو، جو ایمان لائے ہو، تم حلال نہ سمجھ لینا اللہ کی نشانیوں کو،(سورہ مائدہ آیت 2)
مفسرین اور ماہرین علم لغت نے لکھا ہے کہ لا تحلوا کا معنی لا تنتھکوا ہے ۔ انتہک الشیء۔ بے عزتی کرنا۔ بیحرمتی کرنا۔یعنی اے ایمان والو اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کو اپنے لئے حلال نہ سمجھ لینا۔ یعنی خداوند عالم شعائر اللہ کی بے حرمتی سے ایمان والوں کو ڈرا رہاہے اور ان نشانیوں کی بے حرمتی کے نتائج سے بھی خبردار کررہا ہے ۔
شعائر۔ شعیرۃ کی جمع ہے شعیرۃ برازن فعیلۃ بمعنی منفعلۃ بمعنی مشعرۃ ہے۔ مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ اور اشعار کے معنی علم میں لانے کے ہیں۔ ہر وہ شی جو کسی چیزکا نشان ہو‘ کسی علامت کو بتائے اسے شعیرۃ سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ عرف دین میں مکانات ازمنہ۔ علامات واوقاف عبادت کو کہتے ہیں۔ مکانات عبادت مثلاً کعبہ، عرفہ، مزدلفہ، جمار ثلاثہ۔ صفا و مروہ۔ ازمنہ عبادت مثلاً رمضان۔ حرم کے مہینے۔اور علامات عبادت مثلاً مناسک حج اور دیگر تمام عبادات شعائر اللہ ہیں۔ اللہ کی نشانیاں نیز قربانی کا وہ جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر قربانی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔بعض مفسرین نے تمام اوامر و نواہی کو شعائر اللہ کہا بعض نے پرچم و قومی نشانات و یادگاروں کو شعائر اللہ کہا بعض نے نماز روزہ حج زکوۃ تمام عبادات کو اس میں شامل کیا لیکن اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ حج کے تمام مناسک جو سنت حضرت ابراہیم ؑ و اسمعیلؑ و ہاجرہ ؑ میں ادا کئے جاتے ہیں شعائر اللہ ہیں ۔ جن کی تعظیم واجب ہے تقوی کی علامت ہے کیونکہ اللہ خود فرما رہا ہے
وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ (سورہ حج آیت 32-)
اور جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے یہ پرہیزگاری میں سے ہے
قرآن کتاب ہدایت ہے تا ابد جب بھی کوئی ہدایت کا متلاشی قرآن سے رجوع کرے گا تو اس پر یہ آشکارہو جائے گا کہ اللہ کے برگزیدہ نبی کی حیات سے منسلکہ مقامات اور ان کے خاندان کے بجا لائے جانے والے اقدامات اور ان کی قربانی کی شبییہ بن کر قیامت تک آنے والے تمام جانور اللہ کی نشانیاں ہیں،اللہ کے دین کی علامت ہیں تو یہ بات واضح ہو تی چلی جائے گی کہ اگر ابراہیم خلیل اللہ سے وابستہ ہر شے شعائر اللہ ہے تو سردارانبیاء خیر البشر خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات سے منسلک مقامات مزارات ،خاندان حتی کے جانور اور ان جانوروں کی شبہییں (جیسے ذوالجناح ) بھی یقیناًشعا ئر اللہ ہیں جہاں اللہ کے محبوب نبی نے خطبے دیے جن مقامات پر عبادت کی جہاں رہائش اختیار کی جہاں غزوات لڑے جہاں کانٹوں پر چلے وہ تمام مقامات اور نشانیاں شعائر اللہ ہیں ۔اگر ابراہیم ؑ خلیل اللہ و اسمعیلؑ و ہاجرہؑ کی سنتوں پر عمل کرنا مناسک حج کی صورت رضائے الہی کا سبب ہے تو خیر البشر اور ان کے پاکیزہ خانوادہ ؑ کی سنتوں پر عمل اس سے کہیں زیادہ اجر کا باعث ہے ۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃ’‘ حَسَنَۃ’‘
بلاشبہ یقیناًتمہارے لئے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے (سورہ احزاب آیت 21 )
قربانی اسمعیل ؑ کے ثمرات عرب کی سرزمین تک محدود تھے نبی کریمؐاور ان کی اولاد اور پاکیزہ صحابہ کبارؓ و امہات المومنینؓ کی قربانیوں کے ثمرات ہر عہد ہر زمانے اور علاقے کیلئے ہیں اگر ابراہیم ؑ خلیل اللہ اور ان کے فرزند و زوجہ سے منسوب نشانیوں کی تعظیم تقوی قلوب کی ضمانت ہے تو نبی کریم ؐ،خاندان رسالت ؐاور ان کی راہ پر چلنے والوں کی زندگی سے منسوب نشانیوں کی تعظیم یقیناًتقوی کی معراج ہے ۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز اور نشانیوں کی حفاظت سے پہچانی جاتی ہیں،لیکن یہ عالم اسلام کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ خاتم المر سلین سے وابستہ شعائر اللہ سر زمین حجاز میں ایک عالمی صیہونی و استعماری کے تحت بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں 1924-25 میں روند ڈالے گئے ۔عالم اسلام کو بے تو قیر کرنے کیلئے شعائر اللہ و شعائر اسلام کی پامالی کا جو سلسلہ 8شوال 1344ھ (1924)میں انگریز سامراج کے پروردہ حکمرانوں کے ذریعے جنت البقیع و جنت المعلی میں اجدار رسول ؐ ،امہات المومنینؓ ،پاکیزہ صحابہ کبارؓ ،اہلبیت اطہارؑ اور سب سے بڑھ کر ان کی پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزارات سمیت تمام عتبات مقدسہ کی تاراجی سے شروع ہو ا تھا وہ سلسلہ نبی کریم کی جائے پیدائش و جائے سکونت ،صحابہ کبار کے مکانات ،اور اسلام کی طلوع کی تمام یادگاروں کو ملیا میٹ کر چکا ہے ۔
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ سعودی عرب میں ریاض کے قریب الطریف اور الدرعیہ جو سعود خاندان کا آبائی علاقہ تھا اور ان کے عقائد کا مرکز تھا وہاں موجو عمارات کو سعودی عرب نے یونیسکو کے ذریعے 2010 میں عالمی ورثہ قرار دلوایا ہے اور ان مقامات کو ہمیشہ کیلئے محفوظ بنانے کیلئے اربوں خرچ کئے جا رہے ہیں ۔شیخ محمد ابن عبد الوہاب کا پیغام جہاں سے پھیلا اس کے تحفظ کیلئے خصوصی پلان تیار کئے گئے ہیں اور جہاں سے محمد عربیؐ ان کے اہلبیت اور صحابہ کا پیغام پھیلا اس کی نشانیاں مٹا دی گئی ہیں۔سعودی عرب نے جدہ کا روشن ٹاور ہاؤس2014 سے عالمی ورثے میں شامل کروا دیا ہے لیکن اسی سال2014ء میں کائنات کو روشنی دکھانے والے رسول ؐ کی جائے پیدائش کا نشان مٹا دیا گیا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ مدائن صالح کے آثار یعنی قوم ثمود کے آثار کو سعودی حکومت 1972ء سے محفوظ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔جہاں ہزاروں ایکڑ میں وہ عمارتیں موجود ہیں جنہیں قوم ثمود نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا۔اسے یونیسکو سے بھی 2008میں عالمی ورثہ قرار دلوا دیا گیا ہے۔اور عذاب شدہ قوم کی نشانی کے بچاؤ پر بھی اربوں صرف کئے جا رہے ہیں جس سے رسول کریمؐ نے صریحا منع فرمایا تھا۔مولانا مودودی نے سورہ اعراف کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ غزوہ تبوک کے وقت رسول اللہ اس مقام سے گزرے تو آپ نے مسلمانوں کو یہ آثار دکھائے ۔آپ نے مسلمانوں کو وہ کنواں دکھایا جہاں سے حضرت صالح ؐکی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی آپ نے مسلمانوں کو صرف اسی مقام سے پانی پینے کی اجازت دی ۔آج بھی وہ مقام فَجُّ الناقہ کے نام سے مشہور ہے ۔مسلمان ان کھنڈروں کی سیر کرنے لگے تو آپ نے ان کو جمع کرکے خطبہ دیا کہ اور ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا یہ اس قوم کا علاقہ ہے جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا لہذا یہاں سے جلدی سے گزر جاؤیہ سیرگاہ نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے (تفہیم القرآن سورہ اعراف آیت 73حاشیہ58 )مسلمانوں کی بدقسمتی جس مقام کو نبی کریمؐ نے سیر گاہ بنانے سے منع کیا اسے مملکت سعودی عرب نے عالمی سیر گاہ قرار دے دیا وہان لاکھوں ڈالر خرچ کردےئے اور جن مقامات کو اللہ اور رسول ؐ نے زیارت گاہ بنایا تھا ان کا نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
ایک طرف تو آل سعود کا یہ کردار ہے تو دوسری جانب عالمی اداروں کا منافقانہ کردار کم گھناؤنا نہیں ۔یو نیسکو کی تعریف کے مطابق عالمی ورثہ ماضی کی میراث ہے جس کے ساتھ ہم آج زندہ ہیں اور جسے ہم نے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے ۔یونیسکو کے تحت عالمی ورثے کی جتنی بھی سائٹس اور مقامات پچھلے 70سال میں اعلان کئے گئے ہیں یونیسکو کے بقول ان کا تعلق دنیا کے تمام لوگوں سے ہے اس سے قطع نظر کہ وہ باقیات یا ورثہ کس سر زمین پر واقع ہے ۔1776ء فلاڈیلفیا کی جس عمارت میں امریکہ کا اعلان آزادی ہوا اور 1787 میں آئین پر دستخط کئے گئے وہ بھی عالمی ورثے میں شامل ہے ۔ اگر بامیان کا بدھا ہے تو پوری دنیا کا ورثہ ہے فراعنہ مصر کے اہرام پوری دنیا کا ورثہ ہیں لاطینی امریکہ کے باروق عیسائی عبادتگاہیں عالمی ورثہ ہیں پیلمائرا کے رومی و یونانی کھنڈرات پوری دنیا کا ورثہ ہے سعودی عرب میں عذاب شدہ قوم ثمود کے باقیات ،عبد الوہاب نجدی اور آل سعود کے بزرگوں کے محلات و مکانات عالمی ورثہ ہیں ۔لیکن دنیا کے دوسرے بڑے ابراہیمی مذہب اسلام کے بانی حضرت محمد مصطفیؐ اور ہیروز (اہلبیت اطہارؑ و پاکیزہ صحابہ کبارؓ)کی یادگاروں کی عالمی ادارے کی نظر میں چنداں اہمیت نہیں ؟؟؟؟۔یونیسکو کو تاج محل کے پیلا ہونے کی فکر تو کھائی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کے مرکز سرزمین حجازکی کوئی پرواہ نہیں ۔جہاں دو ارب انسانوں کے رہبر نبیؐ ، انکے پیاروں اوریاروں نے قربانیاں دیں وفاداری کی انمول داستانیں رقم کیں وہ بین الاقوامی ورثے میں شامل نہیں ؟؟؟
جب داعش نے2014میں شام و عراق میں رومن و یونانی آثاراور اسیری تہذیب کے شہر نمرودکے باقیات پر قبضہ کرکے انہیں مٹانا شروع کیاتو آثار کے تحفظ کے عالمی ادارے یونیسکو کی ڈائر یکٹر جنرل ’’ارینا بوکووا‘‘ نے دہشت گردوں کے اقدامات کو ثقافتی ورثے کی نابودی سے تعبیرکرتے ہوئے28مارچ 2015 ء کو ’’Unite4Heritageیونائیٹ فار ہیریٹیج ‘‘یعنی ورثے کیلئے اتحاد‘ نامی تحریک کا آغاز کیاجس کا مقصد شام و عراق کی غیر مسلم تہذیبوں کے آثار پر مشتمل عالمی ورثے کو دہشت گردوں سے بچانا تھا۔لیکن افسوس استعماری قوتوں کے پٹھوحکمران جب سرزمین حجاز پر اسلامی تہذیب کے آثار مٹاتے رہے کسی عالمی ادارے کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی ۔
ایک طرف پہلی جنگ عظیم کے بعد عالمی ورثے کو بچانے کی عالمی تحریک شروع کی گئی تو دوسری جانب پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی تباہی کی بنیادد ڈال دی گئی ۔۔غیر مسلم مذاہب کے بانیان کی نشانیاں عالمی ورثے میں شامل ہیں لیکن مسلمانوں کے ورثے کو ان عالمی اداروں کی سرپرست نگرانی میں تباہ کیا جاتا رہا۔دریائے نیل پر اسوان بند کی تعمیر کے وقت 1959ء میں50ملکوں کے عطیات کے ذریعے مصری تہذیب کے آثار کو بچالیا گیا لیکن حجازی تہذیب کو بچانے کیلئے کوئی عالمی قانون حرکت میں نہ آیا۔ عالمی اداروں اور سپر پاورز کی یہی منافقانہ پالیسی ہے جس کے سبب آج دنیا بد امنی کا شکار ہے دہشت گردی بڑھتی چلی جا رہی ہے کیونکہ اس دہشت گردی کو فروغ دینے میں ان عالمی اداروں کا سب سے بڑ اہاتھ ہے ۔
جہاں عالمی اداروں کی منافقت اور سازشوں نے مسلمانوں کے آثار کو مٹایا وہاں مسلمانوں کی اپنی بے حسی کا کردار بھی کچھ کم نہیں ،اپنی ذات اور اقتدار کیلئے سب کچھ کر گزرنے والے مسلم حکمرانوں نے گذشتہ ایک سو سال میں ایک بار بھی مقامات مقدسہ کی تاراجی کے خلاف آواز بلند نہیں کی یہی وجہ ہے کہ مقامات مقدسہ کی تاراجی کا سلسلہ سرز مین حجاز سے نکل کر پوری دنیا تک پھیل چکا ہے آج دنیا کے ہر مسلمان ملک میں صحابہ اہلبیت اولیائے کرام کے مزارات حتی کہ ان ممالک کے بانیان کے مزارات کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں ۔ستم بالائے ستم یہ کہ مقامات مقدسہ گرانے والوں پر تمام تر سرمایہ کاری استعماری و مغربی قوتوں نے کی لیکن ان دہشت گردوں کا چہرہ دکھا کر بدنام اسلام کو کیا جارہا ہے ۔
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
مزارات مقدسہ کی عظمت رفتہ کی بحالی محض شیعہ یا سنی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے جس عدم برداشت اور ایک عقیدے پر دوسرے کو مسلط کرنے کی سازش کے بیج استعماری قوتوں نے مسلمانوں کی طاقت ختم کرنے کیلئے بوئے تھے آج وہ دنیا کے ہر ملک کو متاثر کررہی ہے اور دنیا کا ہر امن پسند اور انسانیت دوست اس سے پریشان ہے حالات کی سنگینی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو گا کہ شعائر اللہ کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں نے مسجد نبوی اور مسجد الحرام تک بھی پہنچ چکے ہیں ۔تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے جنت البقیع و جنت المعلی سمیت سرز مین حجاز پر موجود اسلامی آثار کی عظمت رفتہ کی بحالی کی عالمی تحریک کسی مسلک مکتب تک محدود نہیں اور نہ ہی کسی مکتب مسلک ملک کے خلاف ہے اس کا مقصد ایک طرف انسانی اقدار کی سربلندی وبحالی ہے جنہیں استعماریت کے پروردہ جنونی دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے اور دوسری جانب شعائر اللہ یعنی اسلام کے اثاثے کو بچانا ہے جو اہلبیت اطہار ؑ پاکیزہ صحابہ کبارؓ امہات المومنینؓ کو ستاروں کی مانند مرکز ہدایت سمجھنے والے ہر مسلمان کیلئے قیمتی و انمول سرمایہ ہیں ۔جنت البقیع و جنت المعلی کے مقامات مقدسہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کی تحریک دراصل بد ترین جنگ و جدل کا شکار دنیا کو امن کی منزل سے ہمکنار کرنے کی تحریک ہے جس میں بلا تفریق مسلک مکتب مذہب ملک ہر انسان کو شامل ہو نا ہو گا کیونکہ یہ آئندہ نسلوں کو ایک پرامن ومحفوظ دنیا فراہم کرنے واحد راستہ ہے ۔
یوم انہدام جنت البقیع صرف مسلمانوں کے آثار کی تباہی کی یاد نہیں دلاتابلکہ مسلمانوں کو پارہ پارہ کرنے کی بین الاقوامی شیطانی سازش سے بھی پردہ اٹھاتا ہے استعماری قوتوں کی جانب سے سلطنت عثمانیہ کو ختم کرکے مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کو ہی ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ دراصل سرزمین حجاز میں مسلمانوں کے روحانی مرکز حرمین شریفین کی نشانیوں کو تاراج کرکے مسلمانوں کے انتشار کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جو آج تک جاری و ساری ہے اور ہر عشرے اور ربع صدی کے بعد اس کی نئی قسط سامنے آتی ہے ،مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ ہو،مسلمان لیڈروں کی قتل و غارت ہو،دہشت گردوں کا بیج بو کر انہیں اسلام کا لباس پہنانا ہو یانائن الیون کا ڈرامہ ہویا امریکی عرب اسلامی اتحاد کے نام پر مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو افتراق انتشار کی نذر کرنا تمام سازشوں کا مقصد شمع توحید کوبجھانا ہے اور اس سازش کی بنیاد سر زمین حجازمیں اسلامی آثار کی تباہی کروا کے رکھی گئی ۔مختصر یہ کہ مسلمانان عالم شعائر اللہ کی بے حرمتی اور توہین کے بدترین نتائج بھگت رہے ہیں ۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ثریا سے زمیں پہ آسمان نے ہم کو دے مارا(اقبال ؒ )
اگر مسلمان اس شیطانی جال سے نکلنا چاہتے ہیں اور استعماری سازشوں کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں اور شعائر اللہ کی توہین کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے قدم کے طور پر سر زمین حجاز میں نبی کریم اہلبیت اطہار پاکیزہ صحابہ کبار کے مزارات مقدسہ اور ان سے منسوب دیگر آثار کی عظمت رفتہ بحال کرنی ہوگی ،ایک دوسرے پر عقائد مسلط کرنے کی روش ترک کرنی ہوگی ،ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا کسی غیر کی جانب سے کسی ایک بھی مسلم ملک پر حملہ عالم اسلام اور پوری اسلامی امہ پر حملہ تصور کرنا ہوگا،اقوام متحدہ میں ویٹو پاور حاصل کرنا ہوگی ،بحرین یمن شام افغانستان لیبیا سمیت عرب و عجم کے مسلم ممالک میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ روک کر کر دنیا کے سامنے تعلیمات مصطفوی کی روشنی میں ایک مکمل انسانی حقوق کے ماڈل کا عملی مظہر ونمونہ پیش کرنا ہو گا،سیاسی دفاعی روحانی سفارتی سائنسی تعلیمی میدانوں میں وحدت کا عملی مظاہرہ کرنا ہو گا یوم انہدام جنت البقیع کی پکاریہی ہے جب تک عالم ا سلام اس پکار سے چشم پوشی برتتا رہے گا ذلت و رسوائی کی دلدل میں مزید دھنستا جائے گا شعائر اللہ کی عظمت و توقیر کی بحالی کیلئے جنت البقیع کی پکار اور فریاد پر لبیک کہنا ہی امت مسلمہ کی سرخروئی فلاح اور عظمت و سربلندی کی ضمانت ہے۔ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
و ما علینا الا البلاغ
خاکپائے عزاداران جنت البقیع
آغا سید حامد علی شاہ موسوی
(سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ و سرپرست اعلی سپریم شیعہ علماء بورڈ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721