یوم یکجہتی پاراچنار:جنرل باجوہ کی جانب سے پاراچنار کے درد کا احساس لائق تحسین ہے متاثرین کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ کی جانب سے پاراچنار کے درد کا احساس کرنا لائق تحسین ہے حکومت اہلیان پاراچنار کے تمام گیارہ مطالبات پورے کرے تاکہ دہشت گردی سے مجروح کرم ایجنسی کے عوام کو مطمئن کیا جا سکے ، پاراچنار کے عوام کسی غیر ملک کے مہاجر یا پناہ گزین نہیں ،کرم ایجنسی کے عوام سے سے متعصبانہ رویے کا جواب حکومتی امداد واپس کرکے ہی دیا جا سکتا تھا،آمر کی باقیات آج بھی ضیائی روش پر گامزن ہیں ایک ملک کے شہریوں سے مختلف رویہ محرومیاں جنم دیتا ہے حکمران آج تک اپنے خول سے باہر نہیں نکا ل پائے ،شیعہ بھی پاکستان کے درجہ اول شہری ہیں حکمران سیاستدان پاکستان کو گروہی سٹیٹ ثابت کرنے پر تلے ہیں،پاکستان بنانے اور بچانے میں خون جب تک دم میں دم ہے وطن عزیزکو بانیان پاکستان کے نظریہ سے نہیں ہٹنے دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم یکجہتی پاراچنار کوئٹہ و احمد پور شرقیہ کے موقع پر تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاراچنار کے قبائل پاکستان کے بازوئے شمشیر زن ہیں نہوں نے اپنے آپ کو ہر آڑے وقت میں ہراول دستے کے طور پر پیش کیا جب دہشت گرد پورے فاٹا میں قابض ہو چکے تھے واحد پاراچنار میں پاکستان کا پرچم سربلند تھا،لیکن گذشتہ چار عشروں سے مسلسل پارا چنار کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے صرف سال رواں میں پاراچنار متعدد مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جمعۃ الوداع کے روز دہشت گردی میں عید کی تیاریوں میں مصروف 80بے گناہوں نے جام شہادت نوش کیا عورتیں بیوہ بچے یتیم ہوئے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی حکمرانوں کو احساس مردہ ہو چکا ہے۔آغا سید حام دعلی شاہ موسوی نے کہا کہ احمد پور شرقیہ یقیناًدل خراش سانحہ نے پوری قوم کو سوگوار کردیا وہاں ارباب حل و عقد کا پہنچ جانا احسن اقدام تھا لیکن پہلے رونما ہونے والے سانحہ پاراچنار نہ جانے سے وہاں کے محب وطن عوام میں احساس محرومی جنم لینا اچنبھے کی بات نہیں ،پھر شدید احتجاج کے بعد اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر امداد کا اعلان نے پاراچنار کے عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم وفاقی وزراء گورنر صوبائی رہنما اوروفاقی حکمران جماعت و پی ٹی آئی کے سربراہ پاراچنار جاتے لیکن تمام نے عمداً گریز کیاجس سے شکوک و شبہات نے جنم لیا کہ حکمران مکتب تشیع کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر عساکر پاکستان نے قوم کو بحران سے نکالنے کیلئے پیش رفت کی ہے ہم بھی پاک فوج کو یقین دلاتے ہیں کہ پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نیواضح کیا کہ پاراچنار کے مسئلے کا بنیادی حل یہی ہے کرم ملیشیاء کو پاراچنا ر میں تعینات کیا جائے کیونکہ ہمارادشمن دہشت گردی کے ذریعے افراتفری پیداکر کے سی پیک کو سبو تاژ اور کشمیر سے توجہ ہٹا نا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ حکمران ہی ہیں چھ درجن جماعتیں نام کی کالعدم ہیں ان کے لیڈر اور سہولت کار کھلے عام پھررہے ہیں ن پر آج تک ہاتھ نہیں ڈالا گیا حکمران اپوزیشن سبھی ان کے ساتھ فوٹو سیشن کرتے ہیں ۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارا اوڑھنا بچھونا عوام اسلام اور پاکستان ہیں ان پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727