روضہ قمر بنی ہاشم حضرت عباس علمدار ؑ

کس کا عَلَم حسین ؑکے منبر کی زیب ہے​

ولایت نیوز
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سقائے اہلِ بیت ؑ کے حضور
کلام : میرزا سلامت علی دبیر (بشکریہ urduweb.org)
کس کا عَلَم حسین ؑکے منبر کی زیب ہے​
کسی جنتی کی مشک سے کوثر کی زیب ہے​
لشکر ہے اُس کی زیب وہ لشکر کی زیب ہے​
چہرے کی فرد مالکِ دفتر کی زیب ہے​
رفعت علم کی کہتی ہے ہر عقل مند سے​
سقے پہ پڑھ درود صدائے بلند سے​
کس کے علم کے سائے سے طوبیٰ نہال ہے؟​
سقہ ازل سے کون بہشتی جمال ہے؟​
ہر ماہ کس قمر کا عروج و کمال ہے؟​
وہ رشکِ بدر، حیدرِ صفدر کا لال ہے​
کہتے ہیں شیعیانِ علی کہہ کے ‘یا علی’​
عباس میں ہے دبدبۂ مرتضیٰ علی​
یہ اس کی بارگاہِ ملائک پناہ ہے​
دربارِ حق میں جس کی محبت سے راہ ہے​
فوجِ خدا گواہ، خدا بھی گواہ ہے​
عباس، شیرِ بیشۂ شیرِ الٰہ ہے​
تصویر ہے یہ فاتحِ بدر و حنین کی​
شمشیر ہے خدا کی، سپر ہے حسین کی​
کیوں حرفِ عین افسرِ عرشِ جلیل ہے؟​
کیوں حرفِ با بہشتِ بریں میں دخیل ہے؟​
کیوں اوجِ آسماں کی الف سے دلیل ہے؟​
کیوں سین سربسر سندِ سلسبیل ہے؟​
سب صورتوں سے حق نے فضائل دکھائے ہیں​
عباس کے خطاب میں یہ حرف آئے ہیں​
عرشِ بریں غبار ہے کس بارگاہ کا​
مہرِ مبیں نگینہ ہے کس رشکِ ماہ کا​
کس کا علم نشان ہے فضلِ الٰہ کا​
کس کی وِلا چراغ ہے کوثر کی راہ کا​
پھرتے ہیں کس کے دستِ بریدہ نگاہ میں​
ڈوبے ہوئے ہیں پنجتنی کس کی چاہ میں​
کس کے علم سے پنجۂ خورشید زرد ہے​
یہ دھوپ کس کے مرقدِ انور کی گرد ہے​
کس کی ضیا سے چاند کا بازار سرد ہے​
چہرہ وہ ہے کہ دفترِ قدرت میں فرد ہے​
ان کے سخن سے جوہرِ تیغ آشکار ہیں​
خود سیفِ ذوالجلال ہیں، لب ذوالفقار ہیں​
صلِ علیٰ، یہ شاہِ شہیداں کا بھائی ہے​
مشکل کشائی آپ نے بابا سے پائی ہے​
شانے نہیں پہ ہاتھ میں مشکل کشائی ہے​
تیغِ خدا کے قبضے میں ساری خدائی ہے​
سقائے شاہِ خشک لباں یہ دلیر ہے​
دریائے آبرو کی ترائی کا شیر ہے​
فولاد کی ضریح میں کس کا مزار ہے​
نمگیرہ جس کا رحمتِ پروردگار ہے​
باہم ضریح و قبر سے نور آشکار ہے​
اِس کی بہار وہ ہے یہ اُس کی بہار ہے​
قبر و ضریح سے ہے نمود آب و تاب کی​
وہ آفتاب ہے یہ کرن آفتاب کی​
تربت بھی اور ضریح بھی ہے نور سے بھری​
صاحب مزار ماہِ بنی ہاشمی، جری​
تربت پہ وہ ضریح مشبک نہیں دھری​
اُترا ہے برجِ سنبلہ بہرِ مجاوری​
کیا قبر نے ضریح کے رتبے بڑھائے ہیں​
حور و ملک نے دیدۂ حق بیں چڑھائے ہیں​
روضے کا فرش قدسیوں کی پاک دامنی​
جھاڑوں سے دونوں وقت ہے دنیا میں روشنی​
کیا جانے واں کی خاک ہے کس نور سے بنی​
ہنگامِ صبح دھوپ، سرِ شام چاندنی​
آتی ہے یہ ندا جو درِ روضہ وا کرو​
خیبر کشا! محبوں کی حاجت روا کرو​
روشن چراغ شمعوں سے عقل و شعور کا​
پروانوں کے پروں میں پرا فوجِ حور کا​
قندیل کہہ رہی ہے: میں ایماں ہوں طور کا​
تربت کا یہ سبق ہے کہ سورہ ہوں نور کا​
کیوں کر پڑھیں نہ معتقدِ خاص فاتحہ​
الحمد کی ندا ہے بہ اخلاص فاتحہ​
پیارے ستون و سقف ہیں عرشِ جلیل کو​
جیسے عصا کلیم کو کعبہ خلیل کو​
قُبّے کی تازگی سے حیا سلسبیل کو​
سدرہ کی راہ بھولتی ہے جبرئیل کو​
دبتا ہے چرخ گنبدِ انور کی شان سے​
جس طرح پیر زور میں عاجز جوان سے​
حاضر جو اس جناب کی درگاہ میں ہوا!​
گھر اس کا شاہ کے دلِ آگاہ میں ہوا​
جو غرق حبِ ابنِ ید اللہ میں ہوا!​
نہرِ لبن سے بہرہ ور اس چاہ میں ہوا​
قربان ہے عرش زائرِ مولا کی شان پر​
سر آستان پر ہے قدم آسمان پر​
ہونے کو تو جہان میں کیا کیا نہیں ہوا​
پر حضرتِ حسین سا آقا نہیں ہوا​
عباس سا حسین کا شیدا نہیں ہوا​
سقہ شہید نہر پہ پیاسا نہیں ہوا​
یہ آب و گِل میں حبِ شہِ نیک خو ملی​
جتنی تھی پیاس اس کے سوا آبرو ملی​
سقائیِ حسین کی مدت تمام ہے​
پیاسی سکینہ ہے نہ شہِ تشنہ کام ہے​
اب کیوں حضور کا لبِ دریا مقام ہے؟​
درپیش اپنے خاص غلاموں کا کام ہے!​
اب جو کنارہ کش نہیں دریا سے ہوتے ہیں​
شیعہ گناہ کرتے ہیں عباس دھوتے ہیں​
چشمِ کرم ہے شیعوں کے حالِ تباہ پر​
جیسے خدا کی مِہر حسینی سپاہ پر​
یوں بند ہے زبانِ سخن عذر خواہ پر​
جیسے کھلا ہوا درِ توبہ گناہ پر​
مشرق کا سکہ مِہر ہے مغرب کا ماہ ہے​
دن رات اختیارِ سفید و سیاہ ہے​
بے دست و پا کے کام سرِ دست آتے ہیں​
پاؤں کے ناخنوں سے گرہ کھول جاتے ہیں​
قاتل کو طُرفہ زورِ شہادت دکھاتے ہیں​
شب کو اسے جَلاتے ہیں دن کو جلاتے ہیں​
سب اُن کے اختیار سے بے اختیار ہیں​
کیا کہیے اور قدرتِ پروردگار ہیں​
کہتا ہے اک مجاورِ فرزندِ مرتضیٰ​
شب کو بھی باریاب میں ہوتا تھا بارہا​
اک شخص دفن صحنِ علم دار میں ہوا​
اُس شب گیا جو روضے میں تو دیکھتا ہوں کیا​
آ کر گرا وہ شعلہ کہ شورِ فغاں اٹھا​
فانوسِ قبر جلنے لگی اور دھواں اٹھا​
مردے نے پھر تو دھوم مچائی دُہائی ہے​
اے حضرتِ حسین کے بھائی، دُہائی ہے​
نارِ سقر جلانے کو آئی، دُہائی ہے​
یاں بھی نجات ہم نے نہ پائی، دُہائی ہے​
سقائے دخترِ شہِ ابرار، الغیاث​
عباس الغیاث، علم دار الغیاث​
اُس عارضِ سکینہ کی مولا تمہیں قسم​
شمرِ لعیں کی جس پہ لگی سیلیِ ستم​
اُس ناتواں کے واسطے، اے صاحبِ کرم!​
جو بیڑیوں کے بوجھ سے گرتا تھا ہر قدم​
مجھ سے فلک کے رنگ بدلنے کو دیکھیے​
روضے کو اپنے اور مرے جلنے کو دیکھیے​
کہتا تھا یہ کہ نار وہیں نور ہو گئی​
زیرِ کفن جو آگ تھی کافور ہو گئی​
فانوسِ قبر قمقمۂ طور ہو گئی​
آئی ندا کہ خوش ہو بلا دور ہو گئی​
ہم کو رلا دیا جو ترے شور و شین نے​
تجھ کو بچا لیا مرے آقا حسین نے​
کیوں مومنو! کہاں سے کہاں ہے یہ معجزہ​
آیاتِ کبریا کا نِشاں ہے یہ معجزہ​
عاجز کنندۂ دو جہاں ہے یہ معجزہ​
دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ ‘ہاں ہے یہ معجزہ’​
عباس چاند ہیں شہِ بدر و حنین کے​
لیکن یہ سارے جلوے ہیں حبِ حسین کے​
دیکھی جہاں ضریح شہِ کم سپاہ کی​
پہلو میں اس کے اُن کے علم پر نگاہ کی​
شربت پہ ہے جو نذرِ شہِ دیں پناہ کی​
حاضر ہے حاضری بھی علمدارِ شاہ کی​
کچھ شیعہ ‘یا حسین’ بصد یاس کہتے ہیں​
کچھ رو کے ‘ہائے حضرتِ عباس’ کہتے ہیں​
وہ رازِ حق، تو سینۂ مشکل کشا یہ ہیں​
علمِ خدا وہ ہیں، تو دلِ مرتضی یہ ہیں​
حسنِ قبول وہ ہیں، علی کی دعا یہ ہیں​
عیسیٰ گواہ ہیں کہ شفا وہ، دوا یہ ہیں​
غازی کے سر پہ شاہِ حجازی کے ہاتھ ہیں​
حق ہے علی کے ساتھ، علی حق کے ساتھ ہیں​
بچپن سے تھے یہ عاشقِ سلطانِ مشرقین​
طاعت خدا کی جانتے تھے طاعتِ حسین​
آقا کے دیکھنے کو سمجھتے تھے فرضِ عین​
اور بے طوافِ کعبۂ رخ، دل کو تھا نہ چین​
جھکنا قدم پہ شاہ کے معراج تھی اُنہیں​
نعلینِ ابنِ فاطمہ سرتاج تھی اُنہیں​
لیتے تھے اٹھتے بیٹھتے شبیر کا جو نام​
ہنس ہنس کے اُن سے والدہ کرتی تھی یہ کلام​
تم کون ہو حسین کے؟ یہ کہتے تھے، غلام​
وہ پوچھتی تھی، کچھ سند اے عاشقِ امام!​
قیمت میں کیا دیا ہے شہِ مشرقین نے​
کتنے کو – واری – مول لیا ہے حسین نے​
یہ کہتے تھے: غلام بھی حاضر جواب ہے​
اس بات کی حضور، نہیں دل کو تاب ہے​
دعویٰ تمہیں بتول سے کیا اے جناب ہے؟​
کہتی ہو، میری بی بی وہ عفت مآب ہے​
آقا ہے یہ مرا جو وہ بی بی تمہاری ہے​
قیمت جو آپ کی وہی قیمت ہماری ہے​
بے ساختہ لپٹ کے وہ کہتی تھی ‘مرحبا’​
کیا ڈھونڈ کر جواب دیا، واری، واہ وا​
تیوری نہ اب چڑھائیے، بس غصہ ہو چکا​
کچھ خیر ہے میں ہنستی تھی، تم ہو گئے خفا​
شفقت رہے مُدام شہِ مشرقین کی​
روزی نصیب تم کو غلامی حسین کی​
اب روئیں مومنین کہ شبیر روتے ہیں​
نامی جواں تو گنجِ شہیداں میں سوتے ہیں​
بچے تمام پیاس سے جاں اپنی کھوتے ہیں​
اور اب جدا حسین سے عباس ہوتے ہیں​
خالی رفیق و یار سے ہے پہلوئے حسین​
کس وقت توڑتی ہے اجل بازوئے حسین​
آرام جانِ فاطمہ اب بے قرار ہے​
رو دیتے ہیں، کچھ اور نہیں اختیار ہے​
اتنا ہی غم ہے جتنا کہ بھائی کا پیار ہے​
پھر ماتمِ علیِ ولی رُو بَکار ہے!​
حضرت کو موت ان کی جدائی کا داغ ہے​
یہ داغ اور کا نہیں بھائی کا داغ ہے​
پوچھو علی کی روح سے یہ حالِ دردناک​
کیسا کفن، جگر ہے امیرِ عرب کا چاک​
اب تک نجف میں کانپ رہا ہے مزارِ پاک​
کہتے ہیں انبیائے سَلَف یہ اڑا کے خاک​
عباس نام ناموری داشتی چہ شد؟​
یا مرتضی علی! پسری داشتی چہ شد؟​
جب رن میں گل چراغِ مزارِ حسن ہوا​
یعنی شہید قاسمِ گل پیرہن ہوا​
رختِ شہانہ لاش کی خاطر کفن ہوا​
حجلہ دولہن کے واسطے بیت الحزن ہوا​
غل تھا اُدھر تو دولہا کو مہمان روتے ہیں​
یاں شاہ سے وداع علمدار ہوتے ہیں​
ہوتا ہے بے پسر پدرِ شیعیانِ پاک​
کیسا کفن، جگر ہے امیرِ عرب کا چاک​
چھپتا ہے چاند ہاشمیوں کا بزیرِ خاک​
افلاک پر ہے فاطمہ کی آہِ دردناک​
واں عرش ہل رہا ہے فغانِ حسین سے​
یاں حشر ہے حسینیوں کے شور و شین سے​
تصویرِ خاصِ حیدرِ کرار مٹتی ہے​
تفسیرِ نورِ خالقِ غفار مٹتی ہے​
لشکر کے بعد شکلِ علمدار مٹتی ہے​
شیعوں کے بادشاہ کی سرکار مٹتی ہے​
افسوس، جس کی مادرِ بیوہ وطن میں ہے​
باری اب اُس جوان کے مرنے کی رن میں ہے​
تمہید شہ سے بہرِ اجازت اٹھائی ہے​
جوڑے ہیں ہاتھ، پاؤں پہ گردن جھکائی ہے​
یوں حرف زن وہ فدیۂ حق کا فدائی ہے​
سب مر چکے غلام کی باری اب آئی ہے​
کوثر دیا شہیدوں کو مولا ہمیں بھی دو​
اک قبر کی جگہ لبِ دریا ہمیں بھی دو​
سوکھے ہیں ساتویں سے لبِ شاہِ بحر و بر​
ہوتا ہے خون خشک مرا دیکھ دیکھ کر​
آنکھیں ملا کے کہتے ہیں خادم سے بدگہر​
سقائے اہلِ بیت ہو تو آؤ نہر پر​
تم بھی فقط زبان سے قربان جاتے ہو​
پانی نہیں امام کو اپنے پلاتے ہو؟​
دیکھی ہیں جاں نثار نے آنکھیں حضور کی​
چشمک زنی اٹھے گی نہ اہلِ غرور کی​
حالت ہے اب تباہ دلِ ناصبور کی​
آیندہ جو رِضا ہو امامِ غیور کی​
گو بے کفن ہے بھائی ہر اک اس غلام کا​
پر مجھ کو غم ہے خشکیِ حلقِ امام کا​
صِفّین میں بھی گھیرے تھے یہ نہر خود پسند​
فوجِ معاویہ لبِ دریا تھی بہرہ مند​
مشکل کشا کی فوج پہ آبِ رواں تھا بند​
تھی مورچوں سے ‘وا عطشاء’ کی صدا بلند​
پر مضطرب نہ والدِ عالی صفات تھے​
اصغر سے ننھے بچے نہ بابا کے سات تھے​
طاقت دکھائی آپ نے زہرا کے شِیر کی​
دیکھی گئی نہ پیاس جنابِ امیر کی​
سقائی کی سپاہِ شہِ قلعہ گیر کی​
الٹیں صفیں جناب نے فوجِ شریر کی​
بابا کو لا کے نہر سے پانی پلا دیا​
سب مر چکے تھے پیاس سے تم نے جِلا دیا​
آقا نے میرے حقِ پدر یوں ادا کیا​
فرمائیے، غلام نے حضرت سے کیا کیا​
فدوی کو پال پوس کے تم نے بڑا کیا​
بابا کے آگے بھی تمہیں ‘بابا’ کہا کیا​
میں جانتا ہوں قبلۂ کونین آپ کو!​
اور دیکھتا ہوں پیاس سے بے چین آپ کو​
اصرار کر کے آپ نے بابا سے لی رضا​
میں بار بار عرض کروں یہ مجال کیا​
جو ناز کرتے آپ علی سے وہ تھا بجا​
سبطِ نبی ہو اور پسرِ اشرف النسا!​
پڑھتا ہوں کلمہ آپ کے میں نانا جان کا​
ہے فرق مجھ میں تم میں زمیں آسمان کا​
پانی ہے جب سے بند مجھے انفعال ہے​
کہتا ہوں دل سے صبر کر اب انفصال ہے​
حضرت کو آبرو کا مری خود خیال ہے​
اب بھی مُصِر نہیں ہوں فقط عرضِ حال ہے​
یوں فوج کو نہ کوئی علمدار روئے گا​
ایسا بھی واقعہ نہ ہوا ہے نہ ہوئے گا​
صِفّین میں جو پیاسے شہِ ذوالفقار تھے​
منہ اُن کا دیکھ دیکھ کے آپ اشکبار تھے​
پھرتے تھے آس پاس بہت بے قرار تھے​
عباس کی طرح سے نہ بے اختیار تھے​
اپنا ہی سا ہر ایک کا دل جان لیجیے​
اب تو غلام کا بھی سخن مان لیجیے!​
تم باپ کی جگہ ہو یہ خادم پسر کی جا​
صفین کا وہ دشت تھا یہ دشتِ کربلا​
واں اک معاویہ تھا، یہاں لاکھ اشقیا​
واں ابتدا تھی پیاس کی اور یاں ہے انتہا​
شامی وہی ہیں اور وہی نہرِ فرات ہے​
انصاف اب غلام کا آقا کے ہات ہے​
رو کر کہا حسین نے: دریا پہ جاؤ گے؟​
عباس پانی لاؤ گے، ہم کو پلاؤ گے!​
واللہ بھائی داغِ جوانی دکھاؤ گے​
ہم آئے تھے فرات سے پر تم نہ آؤ گے​
سمجھو تو خیمہ کیوں لبِ دریا سے اٹھ گیا​
پانی مرے نصیب کا دنیا سے اٹھ گیا​
صفین میں گیا تھا جو دریا پہ میں حزیں​
بابا بھی میرے بے کس و تنہا تھے کیا یونہیں؟​
حیدر کو میرے پانی کے لانے کا تھا یقیں​
ہم کو تو آس آپ ہی کے آنے کی نہیں​
یہ جان لو جدا جو ہوئے تم تو ہم نہیں​
کٹنے سے سر کے ٹوٹنا بازو کا کم نہیں​
بھائی! جدائی بھائی کی، بھائی کی ہے قضا​
بن ہاتھ کا کرے نہ کسی بندے کو خدا​
اکبر عصا ہے میری ضعیفی کا، یہ بجا​
پر ہاتھ ہی نہ ہوں گے تو بے کار ہے عصا​
کس درد سے جگر کا مرے سامنا ہوا​
دشوار اب حسین کو دل تھامنا ہوا​
خیمے کے ایک گوشے میں یہ حشر تھا بپا​
اور سن رہی تھی چپکی سکینہ یہ ماجرا​
مولا جو چپ ہوئے تو پکاری وہ مہ لقا​
اے لوگو! یاں تو آؤ کہ یہ گفتگو ہے کیا​
دریا کے آنے جانے کے کچھ ذکر ہوتے ہیں​
اے لو، چچا بھی روتے ہیں بابا بھی روتے ہیں​
شہ سے کہا: چچا کو نہ آنسو بہانے دو​
اچھا تو کہتے ہیں، انہیں دریا پہ جانے دو​
پانی حضور کے لیے لاتے ہیں لانے دو​
غصے کی آنکھ اہلِ ستم کو دکھانے دو​
پانی جو آپ کے لیے عباس لائیں گے​
صدقہ تمہارا ہم بھی کوئی گھونٹ پائیں گے​
میں بیچ میں پڑوں جو یہ ضامن کسی کو دیں​
ضامن جو دیں تو روحِ جنابِ علی کو دیں​
ایسا نہ ہو کہ رنج یہ میری چچی کو دیں​
عباس بولے: آپ تسلی یہ جی کو دیں​
مولا بھی ہیں حسین مرے اور امام بھی​
آقا کو بھول جاتا ہے کوئی غلام بھی​
صدقے چچا، نثار چچا التجا کرو​
کچھ تو سفارش اور برائے خدا کرو​
حضرت سے جو کہا تھا ابھی پھر ادا کرو​
حاجت روا کی پوتی ہو، حاجت روا کرو​
ضامن چچا کے آنے کی ہوتی ہو کیوں نہ ہو​
حلّالِ مشکلات کی پوتی ہو کیوں نہ ہو​
لے لو قسم فرات سے آگے نہ جائیں گے​
اور جائیں گے تو کیا شہِ دیں لے نہ آئیں گے​
دل میں کہا امام نے ہاں لاش لائیں گے​
پر کیوں کر ایسے شیر کا مردہ اٹھائیں گے​
حضرت نے اس خیال میں دریا بہا دیا​
عباس کو سکینہ نے مشکیزہ لا دیا​
رو کر پکارے عترتِ اطہار، الوداع!​
عباس الوداع، اے علم دار الوداع​
اے زیبِ پہلوئے شہِ ابرار! الوداع!​
اے نام دارِ حیدرِ کرار، الوداع!​
جعفر کی روح آپ کے لاشے پہ روئے گی​
ہے ہے اب اس علم کی زیارت نہ ہوئے گی​
زینب نے بڑھ کے کان میں سقے کے کچھ کہا​
سنتے ہی بہرِ سجدہ جھکا ابنِ مرتضیٰ​
زینب سے پوچھنے لگیں رانڈیں جدا جدا​
ہم سے بھی کہہ دو، بھائی سے ارشاد کیا کیا؟​
بانچھیں خوشی سے کھل گئیں اس باتمیز کی​
بولو! قسم حسین کی جانِ عزیز کی​
رو کر کہا یہ زینبِ عالی مقام نے​
ام البنین پھرتی ہے آنکھوں کے سامنے​
یثرب سے جب کہ کوچ کیا تھا امام نے​
کی تھی سفارش اِن کی یہ اُس نیک نام نے​
جب مشک یہ اٹھائیں سبک دوش کیجیو​
میری طرف سے دودھ مرا بخش دیجیو​
لوگو گواہ رہیو کہ تم سب کے سامنے​
اُن کا سخن ادا کیا مجھ تشنہ کام نے​
کھوئے حواس بیبیوں کے اِس کلام نے​
پردہ اٹھایا بازوئے شاہِ انام نے​
جھک کر ہلال برجِ فلک سے نکل گیا​
نورِ نگاہ تھا کہ پلک سے نکل گیا​
عباس جب کہ جانبِ باغِ جناں چلے​
شانے پہ لاکھ شان سے رکھ کر نشاں چلے​
زوجہ نے پوچھا: اے مرے والی، کہاں چلے؟​
بولے: جہاں سے اب نہ پھریں گے، وہاں چلے​
اب آخری وداع کی باری نہ آئے گی​
آئی ہے سب کی لاش ہماری نہ آئے گی​
عباس سے سنا جو یہ اس تشنہ کام نے​
دنیا سیاہ ہو گئی آنکھوں کے سامنے​
اک آہ کی کمر کو پکڑ کر امام نے​
پردہ اٹھایا بازوئے شاہِ انام نے​
جھک کر ہلال برجِ فلک سے نکل گیا​
نورِ نگاہ تھا کہ پلک سے نکل گیا​
پاسِ ادب سے مجرے کو سب دور دور آئے​
عفوِ قصور کے لیے کبر و غرور آئے​
غل پڑ گیا، جِلَو کے لیے فوجِ نور آئے​
ہاں لاؤ مرکبِ دورکابہ، حضور آئے​
آیا سجا سجایا تگاور جناب کا!​
پاکھر کرن کے تاروں کی، زین آفتاب کا​
پابوسی کو رکاب کا حلقہ وہاں بنا​
اور اُس دہن میں پائے مبارک زباں بنا​
پھر آستانِ خانۂ زین آسماں بنا​
عرشِ جلیل زینِ تجلی نشاں بنا​
آنسو مگر نہ تھمتا تھا اُس راہوار کا​
یعنی مجھی پہ آئے گا لاشہ سوار کا​
انگلی سے لکھ کے گردنِ توسن پہ ‘یا علی’​
اک جست میں سوار ہوا حق کا وہ ولی​
فی الفور نور و طور کے معنی ہوئے جلی​
بجلی جلانا بھول کے خود رشک سے جلی​
ٹھنڈی ہوئی ہوا جو یہ گرمِ عناں ہوا​
صرصر کی سانس رک گئی جب یہ رواں ہوا​
رکھنے لگا جو ہاتھ تصور عنان پر​
بگڑا بنا کے منہ کہ نہ کھیل اپنی جان پر​
بولی زمیں ‘کدھر’؟ تو کہا ‘آسمان پر’​
پوچھا جو آسماں نے، کہا، ‘لامکان پر’​
یہ کہہ کے فکر و وہم کی حد سے گذر گیا​
سایہ ہوا سے پوچھ رہا تھا کدھر گیا​
غل، ہر مکاں سے ‘واہ’ کا تا لامکاں اٹھا​
ایسا جھکا کہ پھر نہ سرِ آسماں اٹھا​
شعلہ علم کے نور سے اک ناگہاں اٹھا​
جنگل میں دھوپ جل گئی کوسوں دھواں اٹھا​
انسان کیسے جان جنوں کی نکل گئی​
گاوِ زمیں یہ تڑپی کہ مچھلی اچھل پڑی​
کچھ عقل سے سروں میں نہ بن آئی، گر پڑی​
تسکین نے کہیں نہ جگہ پائی، گر پڑی​
ہر سقفِ سینہ خوف سے تھرائی، گر پڑی​
لرزے یہ طاقِ چشم کہ بینائی گر پڑی​
قائم نہ دین لشکرِ کفار کا رہا​
۔۔۔ ۔۔۔ وحدتِ غفار کا رہا​
خیبر شکن کے لال کی آمد ہے صف شکن​
گرتی ہے فوج فوج پہ، پڑتا ہے رن پہ رن​
تیغِ خدا کی تیغ کا سایہ ہے تیغ زن​
غلطاں کہیں قدم ہے، کہیں سر، کہیں بدن​
نے حوصلہ، نہ بغضِ امامِ مبیں رہا​
اب دل میں بھاگنے کے سوا کچھ نہیں رہا​
آمد کی غلغلے سے پراگندہ ہوش ہیں​
قبریں کفن سے مردوں کی پنبہ بگوش ہیں​
گاہک اجل کے شامیِ ایماں فروش ہیں​
بازار مثلِ شہرِ خموشاں خموش ہیں​
پیدل جِلو میں خضر اور الیاس آتے ہیں​
اک دھوم ہے حضرتِ عباس آتے ہیں​
اب فرقِ روز و شب سپہِ شام کو نہیں​
ہلنے کا ہوش گردشِ ایام کو نہیں​
دنیا میں آبرو کسی صمصام کو نہیں​
سُوفار کے لبوں پہ ہنسی نام کو نہیں​
تیروں سے بے گریز نہ کچھ رن میں بن پڑی​
ترکش میں آستین کی صورت شکن پڑی​
بڑھ کر کہا عمر نے وحیدِ زماں یہ ہے​
ہم نامِ ذوالجلال کا نام و نشاں یہ ہے​
ہاں لشکرِ خدا کا نمودی جواں یہ ہے​
جعفر شکوہ، حمزۂ صاحب قِراں یہ ہے​
سیفِ خدا خطاب ہے عباس نام ہے​
یہ بازوئے حسین علیہ السلام ہے​
عباس بولے مدح کے قابل امام ہیں​
بھائی بھی اُن کے بس حسنِ سبز فام ہیں​
باقی جو اور بھائی ہیں وہ سب غلام ہیں​
وہ رہنما وہ قبلۂ ہر خاص و عام ہیں​
گمراہ ہے تو دور ہو، جا اپنی راہ لے​
ورنہ یہ ہے نبی کا علم، آ، پناہ لے​
ذکرِ حسین حور و ملک کا وظیفہ ہے​
تیرا خلیفہ طالبِ دنیائے جیفہ ہے​
وہ ہے خلافِ حق یہ نبی کا خلیفہ ہے​
وہ خود غلط ہے اور یہ خدا کا صحیفہ ہے​
ناداں بتا! خدا کا شناسا نہیں حسین؟​
لے تو ہی کہہ نبی کا نواسہ نہیں حسین؟​
یہ رتبہ زر کے زور سے حاشا نہ ہوئے گا​
ادنیٰ ہوا و حرص سے اعلا نہ ہوئے گا​
فرعون جا کے طور پر موسیٰ نہ ہوئے گا​
حکمت سے اپنی کوئی مسیحا نہ ہوئے گا​
کس نے دی انگوٹھی رکوع و سجود میں​
آیا نہ آیہ مثلِ علی مدح وجود میں​
ہر سبز پوش خضر نہیں عز و جاہ میں​
سرسبز حیدری ہیں جنابِ الٰہ میں​
یوسف نہ ہوگا لاکھ گرے کوئی چاہ میں​
دن رات کا ہے فرق سپید اور سیاہ میں​
کوئی یتیم فاطمہ سا خوش گہر نہیں​
ہر اک یتیم دُرِّ یتیم، اے عمر نہیں​
چاہے زِرہ بنا کے جو داؤد کا وقار​
واللہ، جعل ساز ہے، کیا اس کا اعتبار​
ہر بخیہ گر نہ ہو کبھی ادریسِ نام دار​
ہر ناخدا کو ‘نوح’ کہے گا نہ ہوشیار​
کیا جاہلوں کے عیش کا سامان ہو گیا​
بیٹھا جو تخت پر وہ سلیمان ہو گیا​
گوسالے نے کیا تھا جو دعویٰ، تو کیا ہوا​
کہہ تو ہی صدق کذب ہوا، بت خدا ہو؟​
یوں ہی یزید بھی جو خلیفہ ہوا، ہوا​
باطل نہ اُس سے حقِ امامِ ہُدا ہوا​
جس طرح سے خدا کوئی غیر از خدا نہیں​
یوں ہی بجز حسین امامِ ہُدا نہیں​
وارث ہر اک نبی کا ہے یہ سیدِ جلیل​
بیٹے کو ذبح کرنے لگے جس گھڑی خلیل​
دنبہ ریاضِ خلد سے لے آئے جبرئیل​
فدیہ ہوا ذبیح کا حیوانِ بے عدیل​
نعلین اس کے پوست کی ہے شہ کے پاؤں میں​
اور چتر حق کے سائے کی ہے دھوپ چھاؤں میں​
قرآں ورق ورق سے سپر ہے حسین کی​
چشمِ نبی زرہ ہے شہِ مشرقین کی​
اور تیغِ تیز فاطمہ کے نورِ عین کی​
ہے ذوالفقار فاتحِ بدر و حنین کی​
اتری تو ہے زمین پہ عرشِ جلیل سے​
پر کاٹنے کا حال کھلا جبرئیل سے​
جس کی زمین عرش ہے وہ گھر ہمارا ہے​
کرسی خدا کے نور کی منبر ہمارا ہے​
ایماں ہے جس کی فرد وہ دفتر ہمارا ہے​
مکتب ازل سے عرشِ منور ہمارا ہے​
احمد مدینہ علم کے، در بوتراب ہے​
اس باب میں حدیثِ رسالت مآب ہے​
اپنی ولا سے فوق ملک پر ہے روح کو​
ہم روحِ تازہ دیتے ہیں سام ابنِ نوح کو​
حکمِ خدا سے قبض بھی کرتے ہیں روح کو​
ہم کھولتے ہیں جنگ میں بابِ فتوح کو​
فیصل ہوا ہے قول یہ خیبر کے قصے میں​
آیا ہے لافتیٰ مرے بابا کے حصے میں​
پہلے مصرعے میں روح= جبرئیل​
لذت ملے گی حشر کے دن ان کلاموں کی​
جس دم نکل پڑے گی زباں تشنہ کاموں کی​
کوثر نبی کا ہو گا حکومت اماموں کی​
سقائی ہم کریں گے علی کے غلاموں کی​
آلِ رسول مالکِ روزِ حساب ہے​
کیا قہر ہے انہیں کے لیے قحطِ آب ہے​
یہ دن وہ ہیں تپش کے کہ سب رحم کھاتے ہیں​
اکثر سبیلیں رکھتے ہیں، پانی پلاتے ہیں​
پردیسیوں کو سائے میں لا کر بٹھاتے ہیں​
یاں اپنے مہمانوں سے پانی چھپاتے ہیں​
ہے ہے قلق یہ ہوں چھ مہینے کی جان کو​
آنکھیں پھرا کے ہونٹوں پہ پھیرے زبان کو​
اب بھی سمجھ خدا کے لیے، آ، جناں میں آ​
دے پانی، لے بہشت، نہ جا نار میں، نہ جا​
بیعت ہے ابنِ فاطمہ کی بیعتِ خدا​
تیری بھلائی کے لیے کہتے ہیں، ہم کو کیا​
سب خاک ہے، نہ زر نہ پسر کام آئیں گے​
تربت میں بوتراب ہی آ کر بچائیں گے​
بولا وہ منہ پھرا کے ۔ سنو اے گروہِ شام!​
لو، ہم سے لینے آئے ہیں یہ بیعتِ امام​
میں حُر نہیں کہ مان لوں۔ حاکم کا ہوں غلام​
دنیا مجھے پسند ہے، ایمان کو سلام​
بیعت یزید کی تو نہ شاہِ امم کریں؟​
قدرت خدا کی، بیعتِ شبیر ہم کریں؟​
یاں کان آشنا تھے کب اس بول چال سے​
دیکھا لرز کے تیغ کو قہر و جلال سے​
بھاگا چھپا کے روئے سیہ کو وہ ڈھال سے​
بادل اٹھے نشانوں کے دشتِ قتال سے​
تیغیں اُپی ہوئیں جو یکایک نکل پڑیں​
بازو کی مچھلیاں سرِ بازو اچھل پڑیں​
بڑھ کر نقیب بولے کہ ہاں، سرفروشو ہاں​
شیرو، دلیرو، غازیو! تازی کی لو عناں​
مرتے ہیں مرد نام پہ، نامرد بہرِ ناں​
سنبھلے ہوئے، کہ سامنے ہے ہاشمی جواں​
لینا نہ منہ پہ ڈھال کہ ہستی حباب ہے​
دینا نہ آبرو کہ یہ موتی کی آب ہے​
بولی یہاں رضائے خداوند ذوالجلال​
بسم اللہ اے جنابِ امیرِ عرب کے لال​
عدلِ خدا پکارا کہ خونِ عدو حلال​
پنجہ بڑھایا مہرِ علی نے سوئے ہلال​
قبضہ وفورِ شوق سے دو ہاتھ اچھل پڑا​
قالب سے ماہِ نو کے مہِ نو نکل پڑا​
نکلی غلافِ نور سے تفسیرِ جوہری​
یا آ کے دست بوسِ سلیماں ہوئی پری​
یا حجلے سے عروس نے کی جلوہ گستری​
یا تھی یہ شاخِ میوۂ طوبیٰ ہری بھری​
اس ہاتھ سے مرادیں تھیں جو جو وہ مل گئیں​
باچھیں خوشی سے تیغ کے قبضے کی کھِل گئیں​
شاخِ نیام سے ہوا اس طرح پھل جدا​
پیروں کے قد سے جیسے جوانی کا بل جدا​
ہستی جدا زمین پہ تڑپی، اجل جدا​
خنجر جدا فلک پہ گرا اور زحل جدا​
غل تھا کہ اب مصالحۂ جسم و جاں نہیں​
لو تیغِ برق دم کا قدم درمیاں نہیں!​
سایہ بھی صاف تیغ سے فوراً جدا ہوا​
مطلب ملا کہ پانی سے روغن جدا ہوا​
تنہا نہ رنگِ چہرۂ دشمن جدا ہوا​
گردن سے سر، تو روح سے ہر تن جدا ہوا​
پیہم صدا دلوں کے دھڑکنے کی آتی تھی​
آوازِ بوق اٹھتی تھی اور بیٹھ جاتی تھی​
سیدھی ہوئی جو تیغ تو لشکر الٹ گیا​
میداں سے پاؤں، جینے سے دل سب کا ہٹ گیا​
سب رو رہے تھے زور کو واں، سن بھی گھٹ گیا​
مانندِ ناف خوف سے سینہ سمٹ گیا​
بولی یہ تیغ دم سرِ اعدا پہ لوں گی میں​
بُرّش پکاری تو بھی ٹھہرنے نہ دوں گی میں​
پڑھتی ہوئی زبان سے وہ ‘لا فتا’ چلی​
‘روشن نگاہ’ کہنے کو آگے قضا چلی​
بائیں کو قہر داہنی جانب بلا چلی​
بالکل چراغِ عمر ہوئے گل ہوا چلی​
کہیے نہ تیغ دولھا کو برچھی لگائی تھی​
ابنِ حسن کی آہ نے بجلی گرائی تھی!​
پھل وزن میں تھا پھول، تجلی میں نخلِ طور​
گرمی میں محض نار تو نرمی میں صاف نور​
آسیب سایہ، چال پری، قبضہ چشمِ حور​
خود لہر، آب زہر، تڑپ قہر، شور صور​
یوں دفعتاً زمیں سے گئی آسمان پر​
جس طرح غصہ آئے کسی ناتوان پر​
تیغیں بڑھیں تو اور گھٹی شانِ اشقیا​
دستِ سوال جیسے سب اعضا میں بدنما​
الزام ان کی تیغ نے سب تیغوں کو دیا​
گرمی سے اس کی سرد تھے اعدا کے دست و پا​
جوہر کے خرمنوں پہ یہ مثلِ شرر گری​
ہر تیغ پھلجڑی کی طرح چھوٹ کر گری​
پھر تو پکار تھی یہ اِدھر، وہ اُدھر گرا​
وہ نیمچہ، وہ ہاتھ، وہ خود، اور وہ سر گرا​
بن بن کے برق، سایۂ تیغِ ظفر گرا​
واں مورچے سے باپ اٹھا، یاں پسر گرا​
گر گر کے سر یہ رن میں برابر تپاں ہوئے​
جو رن میں سرزمین کے معنی عیاں ہوئے​
اس تیغ سے تھا سارے زمانے میں ماہِ عید​
روشن تھا پنجتن کے گھرانے میں ماہِ عید​
آنے میں روزِ وعدہ تو جانے میں ماہِ عید​
صائم کو تھا غذا کے کھلانے میں ماہِ عید​
دل کے شکست ہونے سے روزے کا در کھلا​
برسوں کے بعد روزۂ فتح و ظفر کھلا​
مشکل ہے ابتدا بہ سکوں، سب کو ہے خبر​
کلیہ یہ حسام نے باطل کیا مگر​
ساکن بنائی زخم کے جِرموں سے سینِ سر​
سب وقف پیشِ تیغ تھے، کیا زیر کیا زبر​
آخر کی صف میں کچھ حَرَکَت آشکار تھی​
سو بسملوں کی طرح وہ بے اختیار تھی​
دینارِ تیغ رونقِ بازار ہو گیا​
نادار اُس کے چلتے ہی زردار ہو گیا​
اور دور مفلسی کا سب آزار ہو گیا​
یہ آبِ تیغ شربتِ دیدار ہو گیا​
صد پارہ رن میں قالبِ ہر بیدریغ تھا​
اس تیغ میں یہ خوردۂ دینار تیغ تھا​
آندھی تھی گرد، گھوڑے نے وہ خاک اڑائی تھی​
دریائے تیغ نے نئی گرمی دکھائی تھی​
آندھی نے آگ پانی کے اندر لگائی تھی​
نعلوں کی بجلیوں سے ہر اک صف جلائی تھی​
چل پھر سے اس کی تیغ کی جنبش زیاد تھی​
کشتیِ تیغ کے لیے بادِ مراد تھی​
چہروں پہ مردنی کی طرح تیغ چھا گئی​
ہر استخواں میں مثلِ تپِ دق سما گئی​
اعجازِ خاکساریِ حیدر دکھا گئی​
مانندِ خاک ناریوں کے تن کو کھا گئی​
سب کے گلوں سے ملتی تھی لیکن رکی ہوئی​
جوہر یہ تھے کہ بوجھ سے تھی خود جھکی ہوئی​
باطل کو حق سے، تیغ نے یوں کر دیا پرے​
خورشید جیسے رات کو دن سے جدا کرے​
خالی طرارے رخشِ جہندہ نے جو بھرے​
میدان سے ہرن ہوئے روباہوں کے پرے​
شعلہ جو اس کے مشعلِ سُم سے عیاں ہوا​
کیا کیا چراغ پا فرسِ آسماں ہوا​
آتے تھے جوڑ توڑ غضب تیغِ تیز کو​
سر سے ملی جدا کیا پائے گریز کو​
اپنے سے گرم دیکھ کے اس شعلہ ریز کو​
برق و شرر نے نذر کیا جست و خیز کو​
بو گل نے رنگ لالے نے سرعت ہوا نے دی​
یہ ہدیہ کیا ہے اپنی نیابت قضا نے دی​
قربان، فیضِ بازوئے شاہِ جلیل پر​
ترجیح دستِ جود کو ہے سلسبیل پر​
یوں فوج کا ہجوم تھا تیغِ اصیل پر​
گرمی میں جیسے پیاسوں کا بلوہ سبیل پر​
تازے خواص تیغِ رواں نے دکھا دیے​
پانی کے بدلے پیاس کے تیور بجھا دیے​
ڈوبی سپر میں گر کے نئی چال ڈھال سے​
پاکھر کے بیچ میں نہ پڑی سیدھی چال سے​
اٹھ کر زرہ میں آئی شکوہ و جلال سے​
اک جال میں تڑپ کے گئی ایک جال سے​
گذری جو چار آئینے سے منہ کو موڑ کے​
غل تھا پری نکل گئی شیشے کو توڑ کے​
سُکّانِ شام و کوفہ میں اک باخدا نہ تھا​
ان کا سوائے قہرِ خدا ناخدا نہ تھا​
مطلب بجز خلاصیِ جاں تیغ کا نہ تھا​
ڈوبا وہی حسین سے جو آشنا نہ تھا​
رنگِ سیہ کے اڑنے میں یہ امتیاز تھا​
دریائے تیغ میں وہ دھویں کا جہاز تھا​
بازو و دست و گردن و سر بہتے پھرتے تھے​
گھوڑے اِدھر، سوار اُدھر بہتے پھرتے تھے​
طائر تھے آشیانوں میں پر بہتے پھرتے تھے​
سب سنگ دل تھے کوہ، مگر بہتے پھرتے تھے​
نے مرتے تھے نہ جیتے تھے لیکن سسکتے تھے​
بھیگے تھے مرغِ روح کے پر اڑ نہ سکتے تھے​
قربانِ برق و بارقۂ تیغِ شعلہ تاب​
موتی کی آب و تاب، سمندر کا پیچ و تاب​
خود نوح، خود سفینہ و خود ماہی و خود آب​
سرگوشیاں فرات میں کرنے لگے حباب​
ظرفِ تنک میں تھی نہ جگہ اس کے آب کی​
بندھتی تھی اور کھلتی تھی مٹھی حباب کی​
ہے قاعدہ کہ بھرتا ہے پانی جو ناگہاں​
دریا میں بیٹھ جاتی ہے ہر کشتیِ رواں​
پر اس جہازِ تیغ کو خطرہ نہ تھا وہاں​
عباس ناخدا تھے، علم شہ کا بادباں!​
دریائے خوں تھا تیغِ سبک رو کی ناؤ پر​
پر یوں رواں تھی جیسے کہ کشی بہاؤ پر​
پوچھا فلک نے، امن و اماں زیرِ ناؤ ہے؟​
آواز دی زمیں نے کہ ‘تیرا ڈباؤ ہے’​
اس نے کہا کہ تحتِ ثریٰ میں بچاؤ ہے؟​
بولی: نمودِ سینۂ ماہی و گاؤ ہے​
اس پوچھنے میں تیغ کا دریا جو بڑھ گیا​
نو پُل فلک کے کیا ہیں کئی پُل پہ چڑھ گیا​
کاٹا پلک میں آنکھ کو، پتلی میں نور کو​
پاؤں میں کج روی کو سروں میں غرور کو​
سینے میں بغض و کینہ کو دل میں فتور کو​
نیت میں معصیت کو طبیعت میں زور کو​
ذات اک طرف مٹا دیا بالکل صفات کو​
کیسی زباں، زبان میں کاٹ آئی بات کو​
جب سرکشوں پہ سایۂ تیغِ اجل پڑا​
بالوں کی طرح ہوش سروں سے نکل پڑا​
جھگڑا سر و قدم میں عجب بے محل پڑا​
دونوں کی بے خودی پہ بدن خود اچھل پڑا​
سر بھاگنے کو پائے سپاہِ عمر بنے​
بچنے کی آرزو میں قدم اٹھ کے سر بنے​
مردہ تھا سر میں ہوش، سراسیمہ سرفروش​
سر قبر، خود گنبدِ قبرِ حواس و ہوش​
بے جاں سلاحِ جنگ، پریشاں سلاح پوش​
دم مارا تیغ نے نہ ہلایا سپر نے گوش​
چلّایا کی کمان نہ تیر اک رواں ہوا​
ڈھالوں کے پھول چلنے کا چالیسواں ہوا​
روکی جو ڈھال اور بھی اندھیر چھا گیا​
روزِ سیاہ شامیوں کے منہ پہ آ گیا​
آخر بغیر بھاگے نہ ہرگز رہا گیا​
اور نہرِ علقمہ میں یہ بحرِ سخا گیا​
دریائے آبرو سے جو دریا کو بھر دیا​
دُرِّ نجف نے بحر کو بحرین کر دیا​
چلّو بھرا فرات سے سرکا کے آستیں​
عبرت سے دیر تک اُسے دیکھا کیے وہیں​
پھر لائے امتحاں کے لیے ہونٹوں کے قریں​
سینے میں دل تڑپ کے پکارا، نہیں نہیں​
گو مہرِ فاطمہ ہے پہ مجھ پر حرام ہے​
وارث جو فاطمہ کا ہے وہ تشنہ کام ہے​
پانی جو بے حسین کے منہ سے لگائے گا​
ہے ہے وفا کا نام ابھی ڈوب جائے گا​
اس وقت آبرو جو گئی پھر نہ پائے گا​
یہ روز اب زمانے میں کاہے کو آئے گا​
چلیے تو آبِ نہر سے کوثر بھی پاس ہے​
جب ہاتھ کٹ گئے تو نہ فاقہ نہ پیاس ہے​
غازی نے دل کے مشورے پر مرحبا کہا​
دریا سے رو کے پیاسوں کا سب ماجرا کہا​
کاندھے پہ مشک بھر کے دھری، ‘یا خدا’ کہا​
چلتے ہوئے اجل نے پیامِ قضا کہا!​
ہے ہے نصیب پیاسوں کا رستے میں پھر گیا​
سقہ حرم کا فوج کے طوفاں میں گھر گیا​
اکبر یہاں کھڑے تھے سنبھالے حسین کو​
سمجھا رہے تھے دیکھنے والے حسین کو​
اِن کی فغاں تھی ‘بھائی بلا لے! حسین کو’​
عباس آ گلے سے لگا لے حسین کو​
تنہائی اپنے بھائی کی بھائی پسند کی​
کوثر پہ آپ پہنچے ترائی پسند کی​
بانو پکاری: ضامنِ عباس کو بلاؤ​
لوگو کہو سکینہ سے لاؤ چچا کو لاؤ​
انگلی پکڑ کر فضّہ کی سوئے فرات جاؤ​
حضرت تڑپ رہے ہیں علم دار سے ملاؤ​
بھیجا تھا کیوں جو اُن کو نہیں اب بلاتی ہو​
عاشق ہو کیسی باپ کو اپنے رلاتی ہو​
سہمی ہوئی سکینہ قریب آئی ننگے پا​
ننھے سے ہاتھ جوڑ کے حضرت سے یہ کہا​
میں جاؤں بابا جان؟ نہ آئیں اگر چچا​
ضامن دیا ہے لو مجھے جھوٹا کریں گے کیا​
ایسے تو وہ نہیں ہیں کہ وعدہ بھلائیں گے​
فرما گئے ہیں نہر سے آگے نہ جائیں گے​
شہ رو کے بولے: ٹوٹ پڑا ہم پہ آسماں​
سچے ہیں بھائی، ٹھیک تمہارا بھی ہے بیاں​
اچھا نہ آگے جائے گا حیدر کا وہ نشاں​
کیا نہر پر اجل نہیں آ سکتی میری جاں​
دریا پہ کون روکنے والا قضا کا ہے​
دو لاکھ سے مقابلہ تیرے چچا کا ہے​
یہ سن کے ہو گئی وہ سراسیمہ اور کہا​
ہے ہے یہ اب کھلا مجھے بہلا گئے چچا​
لائے کہیں صحیح و سلامت انہیں خدا​
یوں روٹھوں میں کہ ان کو بھی معلوم ہو بھلا​
مجھ کو بھی ضد ہے پیاس سے جاں اپنی دوں گی میں​
پانی بھی ان کا لایا ہوا اب نہ لوں گی میں​
یہ ذکر تھا کہ نہر سے ماتم کا غل اٹھا​
نوحہ یہ تھا کہ ‘وا ولَدِی وا مصیبتا’​
اکبر لپٹ کے رونے لگے شہ سے اور کہا​
دادا کی روح روتی ہے، مارے گئے چچا​
ان کی عزا کا آپ بھی سامان کیجیے​
شہ بولے چاک میرا گریبان کیجیے​
ناگہ ندا یہ آئی: میں قربان یا حسین​
آقا حسین، قبلۂ ارض و سما حسین​
اے میرے وقتِ نزع کے حاجت روا حسین​
اے جاں بلب غلاموں کے مشکل کشا حسین​
ہچکی لگی ہے دم کو قرار ایک دم نہیں!​
بالیں پہ میری آہ تمہارا قدم نہیں!​
شہ نے کمر پکڑ کے کہا: ہائے بھائی جاں​
جانا نہ بے ملے ہوئے ہم آئے بھائی جاں​
اللہ تم تلک ہمیں پہنچائے، بھائی جاں​
دھڑکا یہ ہے نہ غش کہیں آ جائے بھائی جاں​
گو نورِ چشم تھامے ہوئے ہاتھ میرا ہے​
اس پر بھی دونوں آنکھوں کے آگے اندھیرا ہے​
اکبر کو ساتھ لے کے چلے شاہِ کربلا​
یاں قبۂ خیام گرے ہِل کے جا بجا​
دوڑی سکینہ ڈیوڑھی سے، اور رو کے دی صدا​
ہے ہے ستم ہوا، ارے لوگو غضب ہوا​
بابا سوئے فرات ابھی ننگے سر گئے​
لو صاحبو، ہمارے چچا جان مر گئے​
واں شہ کو نہر پر گہرِ مدعا ملا​
پر لال خون میں وہ دُرِ بے بہا ملا​
مچھلی کی طرح شیر تڑپتا ہوا ملا​
آنکھیں عطش سے بند ملیں، منہ کھلا ملا​
دیکھا کہ روحِ پاک سوئے حق رجوع ہے​
رکتی ہے سانس موت کی ہچکی شروع ہے​
یہ دیکھتے ہی آگے بڑھے اکبرِ جواں​
بڑھنا تھا بس کہ ہو گئے کپڑے لہولہاں​
دیکھا کہ دھار خون کی سینے سے ہے رواں​
حضرت نے پوچھا: کیا ہے؟ کہا: کیا کروں بیاں​
نوکِ سناں چچا کے جگر میں در آئی ہے​
کیا بے جگہ کسی نے یہ برچھی لگائی ہے​
لاشے پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ نام دار​
جھک کر کہا یہ کان میں ہو ہو کے برقرار​
ہم دم، رفیق، دوست، وفادار، جاں نثار!​
بازو، جگر، ضیائے بصر، رونقِ کنار​
ہر زخم پر حسین فدا ہو، نثار ہو​
آنکھوں کو کھولو، بات کرو ہوشیار ہو​
سننا تھا یہ کہ ہونٹ علم دار نے ہلائے​
شہ نے جو کان لب پہ دھرے تو سنا، یہ ہائے​
چپکے سے کہہ رہے ہیں ‘میں صدقے حضور آئے’​
بچپن سے ناز آپ نے کیا کیا مرے اٹھائے​
اپنا غلام کہہ کے پکارو تو بولیں ہم​
آئی نہ ہو سکینہ تو آنکھوں کو کھولیں ہم​
یہ کہہ کے بے کسوں کے مددگار مر گئے​
حمزہ سدھارے جعفرِ طیار مر گئے​
جبریل بولے حیدرِ کرار مر گئے​
اب مصطفیٰ کے سارے علم دار مر گئے​
مولا جدا نہ بھائی کے لاشے سے ہوتے تھے​
شانوں کا خون چہرے پہ مل مل کے روتے تھے​
مَل کر لہو جبیں پہ امامِ امم چلے​
لاشے سے مڑ کے بولے کہ لو بھائی ہم چلے​
اکبر اٹھا کے کاندھے پہ مشک و علم چلے​
دو حشر سوئے خیمۂ اہلِ حرم چلے​
سقے کو ڈھونڈتے ہوئے گھر میں پھرے حسین​
پھر ہائے بھائی کہہ کے زمیں پر گرے حسین​
بانو نے رو کے پوچھا علم دار کیا ہوئے​
بولے تمہاری بیٹی پہ پیاسے فدا ہوئے​
شبیر کے حقوق سب ان سے ادا ہوئے​
ہم مبتلائے صدمۂ شرم و حیا ہوئے​
اس بے کسی میں سوگ کا سامان کیا کریں​
عباس کے یتیموں پہ احسان کیا کریں​
اس نے کہا کہ سچ ہے نہ مقدور و نے وطن​
موجود ہے سکینہ و اکبر کا پیرہن​
عباس کے یتیموں کو بخشیں شہِ امم​
پہنیں پدر کا خلعتِ ماتم وہ گل بدن​
چادر کو پھاڑ کر کفنی اب بناتی ہوں​
رنڈ سالہ اُن کی بیوہ کی خاطر میں لاتی ہوں​
زیرِ علم بچھائی نبی زادیوں نے صف​
بیوہ بھی آئی کہتی ہوئی ‘یا شہِ نجف’​
سر ننگے بیٹی اِس طرف اور بیٹا اُس طرف​
ملبوس لائی بچوں کا بانوئے باشرف​
یہ پیرہن تو سقے کی اولاد کے لیے​
اور سادہ کپڑے بیوۂ ناشاد کے لیے​
آئی نظر جو اکبرِ مظلوم کی قبا​
تھرائی تڑپی بیوۂ عباسِ باوفا​
اور دونوں ہاتھ جوڑ کے بانو سے یہ کہا:​
ٹھہرو خدا کے واسطے، ہے ہے یہ کیا کیا​
اکبر کے کپڑے خلعتِ ماتم میں دیتی ہو​
زینب کھڑی ہیں ان سے نہیں پوچھ لیتی ہو​
کیوں لائیں فرشِ سوگ پہ بن بیاہے کا لباس؟​
زینب بھی بے حواس ہیں، لونڈی بھی بے حواس​
وسواس ہے خوزادے کی جانب سے بے قیاس​
میٹھا برس تو خیر، غضب ہے یہ بھوک پیاس​
سب کنبہ اب تو جیتا ہے اکبر کی آس پر​
صدقہ اتاروں بچوں کو میں اس لباس پر​
خوزادے = شہزادے​
اکبر پہ جو کہ آنی ہو میرے پسر پہ آئے​
اللہ شاہزادے کا سہرا تمہیں دکھائے​
کُرتی سکینہ جان کی اور میری بیٹی، ہائے​
بس اب سدھاریے کہ مرا سایہ پڑ نہ جائے​
پُرسے سے سرفراز نہ نہ فرمائیے مجھے​
یہ سادے کپڑے آپ نہ پہنائیے مجھے​
رو کر کہا یہ بانو نے اس نیک ذات سے​
بس بس کلیجہ پھٹتا ہے ہر ایک بات سے​
رنڈ سالہ پہنو فاطمہ کبریٰ کے ہات سے​
یہ نامراد بیوہ ہے شادی کی رات سے​
بیٹی حسین کی ہے بہو یہ حسن کی ہے​
گھونگھٹ میں فکر دولھا کی خاطر کفن کی ہے​
رو رو کے بین فاطمہ کبریٰ نے یہ کیے​
ہے ہے دولہن بنی تھی میں ان کاموں کے لیے​
بس اے دبیر خوب صلے نظم کے لیے​
تائیدِ غیب کے ہیں نمونے یہ مرثیے​
بحرِ رواں ہے یا کہ طبیعت ملی ہے یہ​
سقائے اہلِ بیت ؑ کی دریا دلی ہے یہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721