حضرت خدیجہؑ کی کی دولت و جائیداد سے غریب الوطن صحابہ کو آزادی ملی۔ وفاقی وزیرریاض حسین پیرزادہ کا خدیجۃ الکبری ؑ کانفرنس سے خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

 

اسلام آباد (جواد اعوان کی رپورٹ) مختار آرگنائزیشن کے زیر اہتمام عالمگیر یوم الحزن کی مناسبت سے اسلام آباد کے مقامی میں ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریؑ کی حیات مبارکہ اور انسانیت کے لیے کارہائے نمایاں کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جسمیں وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ ، سابق چیئرمین سینیٹ سید نیر حسین بخاری ، سنیٹر میا عتیق ، علامہ حافظ اقبال رضوی، سید شجاعت بخاری، علامہ حسین مقدسی، سید قمر حیدر زیدی، کرنل سید سخاوت کاظمی، سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ حضرت خدیجہؑ کی دولت و جائیداد سے غریب الوطن صحابہ کو آزادی ملی اور وہ جانثاران رسول بن گئے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہؑ کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ،ام المومین کی سیرت عالم خواتین کے لئے نمونہ عمل ہے ،حضرت خدیجہ ؑنے اپنے مال و دولت اور حضرت ابوطالب نے اپنی اولاد سے اسلام کی خدمت کی ۔ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان میں سوچی سمجھی سازش کے تحت مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا گیا ، انہوں نے کہا کہ مذہب پڑھانا حکومت یا ریاست کا کام نہیں ، مذہب حکومت نہیں ماں کی گود پڑھاتی ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے سوچی سمجھی سازش کے تحت حکومت کو مذہب میں مداخلت کی راہ دی ۔ انہوں نے کہا کہ میلاد و عزاداری کے جلوس امن کے داعی ہیں کاروبار کے رستے میں رکاوٹ نہیں مذہبی اتحاد زبانی جمع خرچ سے نہیں عملی اظہار سے ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر میاں عتیق نے کہا کہ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریؑ کے کردار اور اسلام کے لئے خدمات کو جھٹلانا ممکن نہیں،ہمارا فرقہ کوئی بھی ہو سب ایک رسول اور آل رسول کو مانتے ہیں، مسلم امہ کو تفریق کے دھانے پر لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا مسلمان کسی فرقے کا ہو اس نے کعبہ کی طرف نماز پڑھنی ہے، ایک اللہ کی عبادت کرنی ہے۔ میاں عتیق نے کہا کہ پاکستان کو آج بیرونی سے بڑھ کہ اندرونی دشمن سے خطرہ ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی میئر اسلام آباد سید ذیشان نقوی نے کہا کہ تمام مکاتب کا مل کر ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری کا یوم وفات منانا خوش آئیند ہے۔ ذیشان نقوی نے کہا کہ حضرت خدیجہ کی ذات مقدسہ ملت اسلامیہ کے اتحاد کا مرکز ہے۔ حضرت خدیجہ الکبریؑ کا یوم وفات سرکاری سطح پر منایا جانا چاہئے۔ سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دین اسلام پر حضرت خدیجہ کے بہت احسان ہیں ،امت کے اتحاد کی باتیں تو ہوتی ہیں عمل نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا جس نہج سے گذر رہی ہے اس میں پاکستان کو کردار ادا کرنا ہوگا پاکستان اس عالمی منظر نامہ میں کہیں کھڑا نظر نہیں آرہا ۔ نیئر بخاری نے کہا کہ اسلامی دنیا پاکستان کا 1973 کا کردار دیکھنا چاہتی ہے جسکے لیے قوم قیادت کے فقدان کا شکار ہے،ہم ان قوتوں پر انحصار کرتے ہیں جو ہمارا ہی خون چوستے ہیں ، آج پاکستان کے اپنے کسی ہمسائے ملک سے تعلقات اچھے نہیں اور پاکستان کے گرد شدید خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ کانفرنس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین ایم او نے کہا کہ مشاہیر اسلام کی تعلیمات کو اپنا کر امت مسلمہ بحرانوں سے نکل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجہ محسنہ اسلام ہیں جنہوں نے اپنی تمام دولت اور اثاثے راہ اسلام میں خرچ کی۔ سید حسن کاظمی نے جنت المعلی ٰ میں حضرت خدیجہؑ کا مسمار شدہ مزار کی عظمت رفتہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ کا نفرنس ک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسمیں مطالبہ کیا گیا کہ ام المومنین حضرت خدیجہ سمیت سرزمین حجاز میں موجود تمام امہات المومنین اہلبیت اطہار کےء مزارات مقدسہ کی عظمت رفتہ بحال کی جائے ، ام المومنین حضرت خدیجہ کی تعلیمات سیرت اور خدمات کو عام کرنے کے لیے او آئی سی خصوصی اقدامات کیے جائیں، اسلام آباد میں بین الاقوامی خدیجتہ الکبری خواتین یونیورسٹی قائم کی جائے، حکومت پاکستان عالم اسلام میں انتشار و افراق کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ، مسلم ممالک دہشتگردی کے خاتمے کے کیے مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں، کشمیر فلسطین کی آزادی کے طلبگار وں کو حق خودارادیت دلوانے کے لیے عاکم اسلام مشترکہ کردار ادا کرے، وطن عزیز میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کروایا جائے ، پوری قوم آپریشن ردالفساد کی بھرپور حمایت کرتی ہے ، مغرب کی ثقافتی یکغار کے مقابکہ کے لیے عاکم اسلام مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے ، حضرت خدیجہ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے حکمران سیاستدان اپنا سرمایہ پاکستان میں لائیں تاکہ ملک خشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے، وطن عزیز میں انتشار کے خاتمے کے لیے آئین وقانون کی بالادستی یقینی بنائی جا ئے، بیرونی امداد لینے والی مزہبی جماعتوں کا آڈٹ کیا جائے ، پاکستان میں سنی شیعہ برادران یکجان ہیں یکجان رہیں گے۔ اعلامیہ کی منظوری کے بعد امت مسلمہ کی سرخروئی ، وطن عزیز کی کامیابی ، قیام امن۔ کشمیر و فلسطین کی آزادی، اور مظلومین کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727