کوئی بھول میں نہ رہے پاک فوج ہر جارحیت کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

پوری قو م عساکر پاکستان کی پشت پرایستادہ ہے اگر کوئی شرارت کی گئی تو دشمن کو نانی یاد کرا دینگے۔ قائد ملت جعفریہ کا گرینڈ ورکشاپ سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مودی نیتن یا ہو گٹھ جوڑ انسانیت کیلئے خطرہ عظیم ہے کیونکہ یہود نے پون صدی سے فلسطینیوں جبکہ ہنود نے ستر سال سے مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اسرائیلی وزیرا عظم کے حالیہ دور بھارت کے موقع پر کنٹرول لائن پر بھارتی فو ج کی یکطرفہ کاروائی اور بلا اشتعال فائرنگ پاکستان کے مد مقابل بھارتی دفاع مضبوط ہونے کا پیغام دینا ہے مگر کوئی بھول میں نہ رہے کہ افواج پاکستان عالمی سرغنے اور اُسکے پٹھوؤں سمیت ہر جارحیت کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر کوئی شرارت کی گئی تو پوری پاکستانی قو م عساکر پاکستان کی پشت پرایستادہ ہو کردشمن کو نانی یاد کرا دے گی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے بدھ کو ٹی این ایف جے کی گرینڈ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔آقای موسوی نے باور کرایا کہ اسرائیلی وزیراعظم کہ102کمپنیوں کیساتھ دور بھارت میں مختلف معاہدوں پرد ستخط کیے گئے جن میں بھارتی نجی اداروں کی ٹیکنالوجی میں عالمی اداروں کیساتھ شراکت داری بھی شامل ہے مگر اہم ترین معاہدہ پاکستان اور چین کے گھیراؤ کی مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے ۔ اُنہوں نے کہا امریکی صدر ٹرمپ نے عہد صدار ت سنبھال کر دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا، نصف درن جسے زائد مسلم ممالک کے باشندوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی لیکن جن عرب ممالک کی کمر میں اسرائیل نے خنجر گھونپا اُنکی غیرت مر چکی ہے۔ جنہوں نے سعودیہ میں ٹرمپ کی مہمان داری کی اور نام نہاد اسلامی عسکری اتحاد بنا کر ایران کو دہشتگردی کا محور قرار دیا ، پاکستان کی مہربانیاں بھلا کربھارت کو دہشتگر دی کا شکار کہا ،مودی کو تھپکی دی اور اسرائیل کو نواز کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کو دہشتگرد گردانا ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اسرائیل اوربھارت کے درمیان 1992ء میں دو طرفہ تجارت 20کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2016ء میں 4.16ارب ڈالر ہو گئی ہے اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار امریکہ اور یورپی یونین ہے ، اسی طرح ہیروں کی تیاری اور اُنکی پالش کے موضوع پر بھی بات ہوئی کیونکہ بھارت دنیا میں ہیروں کا پہلا اور اسرائیل دوسرا بڑا تاجر ملک ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ عالمی استعمار بھارت کیساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے جبکہ مسئلہ فلسطین و کشمیرجوں کا توں اور بھارت کے رویے میں قول و فعل کا تضاذ ثابت کرتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں سفارتکاری کی ذمہ داریاں انجام دینے والے آرتھر لینک کا تجزیہ ہے کہ بھارت کے خیال میں فلسطین میں اُس کے لئے کیا ہے؟ بہت سے ممالک کیطرح بھارت یہ واضح کر رہا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک طرف رکھ کر اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کر سکتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین میں سابق بھارتی سفیر نروپماراٹے کے الفاظ میں اسرائیل کیساتھ تعلقات میں پختگی بھارت کیلئے تزویراتی ضرورت ہے اور وہ پاکستان اور چین کے گردگھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھار ت کی پاکستان کیساتھ دشمنی پوری دنیا پر واضح ہے ، اسی لئے بھارتی آرمی چیف نے چند روز قبل پاکستان کی جوہری طاقت کے بارے میں ہرزہ سرائی کر کے حملے کی دھمکی دی جسکا منہ توڑ جواب دے کر پاک آرمی کے سپہ سالار نے قوم کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729