کالعدم جماعتوں کو سیاسی چھتریاں فراہم کرنے والوں کو بھی سزائیں دی جائیں سیاسی قیادت قحط الرجال کا شکار ہے,،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

محض اشتہارات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا  بعض ممالک آج بھی اپنے تنخواہ دار ایجنٹوں کی پیٹھ تھپکانے میں مصروف ہیں بیرونی دباؤکے سامنے سر جھکانے کی روش ترک کی جائے
قومی  سیاست کا محور ذات کے بجائے ملک ہوتا تو ٹرمپ جیسوں کو پاکستان کو دھمکانے کی جرات نہ ہوتی
سیاسی افق پر چھائی منافقت کے سبب قو م اور فوج کی لامتناہی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی، ایکشن پلان کی ہر شق پر عمل کرنا ہوگا
کالعدم جماعتوں کی نظریاتی کونسل امن کمیٹیوں اور انتخابات میں شمولیت پر بھی پابندی لگائی جائے، مختار فورس کی نگران کونسل سے قائد ملت جعفریہ کا خطاب

اسلام آباد (ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ محض کالعدم جماعتوں کو کھالیں یا چندہ صدقات دینے سے روکنے کے اشتہارات شائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کالعدم جماعتوں کو اتحادوں میں شامل کرکے سیاسی چھتریاں فراہم کرنے والوں کو بھی سزائیں دی جائیں انہیں نظریاتی کونسل امن کمیٹیوں اور انتخابات میں شا مل کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے، بعض ممالک آج بھی اپنے تنخواہ دار ایجنٹوں کی پیٹھ تھپکانے میں مصروف ہیں قومی مفادات پر بیرونی ممالک کے دباؤکے سامنے سر جھکانے کی روش ترک کی جائے،قومی سیاسی قیادت قحط الرجال کا شکار ہے سیاست کا محور اگر ذات جماعت کے بجائے ملک و قوم ہوتے تو ٹرمپ جیسوں کو پاکستان کو دھمکانے کی جرات نہ ہوتی، دہشت گردی کے پھلنے پھولنے کا بنیادی سبب بھی سیاستدانوں کی مفادپرستی ہے ، ملکی سلامتی کے مشن میں قوم ہر قسم کی قربانی کو تیار ہے سیاستدان وحکمران بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں ، امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی ہر شق پر عمل کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختارفورس کی نگران کونسل کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں کالعدم ہونے کے باوجود گذشتہ دو دہائیوں سے وج تج کر انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں ان کے عہدیداران نظریاتی کونسل کے ممبران بھی بنائے گئے ہیں سیاسی پارٹیاں کالعدم گروپوں کو اجلاسوں میں بلاتی اور ساتھ بٹھاتی ہیں جس سے ثابت ہو تا ہے کہ حکمرانوں سیاستدانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی افق پر چھائی منافقت اور دوغلے پن کے سبب قوم اور پاک فوج کی لامتناہی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نائن الیون ایک ڈرامہ تھا جس کی آڑ میں امریکہ نے پاکستان کو اپنا اتحادی بننے پر مجبور کیا اور پاکستان کو اس فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی امریکی ڈالرز پر پلنے والے دہشت گردوں نے امریکہ کے خلاف جہاد کے بجائے پاکستان کے طول و عرض کو مقتل بنا ڈالاخود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا دہشت گردی کے سانحات میں 75ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوگئے اور پاکستان کو ناقابل تلا فی نقصان اٹھانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے بعد جمہوری دور بھی پاکستان کیلئے صائب ثابت نہ ہوا تواتر کے ساتھ ڈرون حملوں نے قومی خود مختاری کے پر خچے اڑا دیئے سی آئی اے کو ملک میں کاروائیوں کی کھلی چھوٹ دستیاب تھی امن و امان کی مخدوش صورتحال کے ساتھ کرپشن بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ نے باقاعدہ کاروبار کا روپ دھار لیابعض جرائم پیشہ گروپوں کو کھلم کھلا سرکاری سرپرستی حاصل تھی صرف ایک صوبے میں اسلحے کے تین لاکھ لائسنس جاری کئے گئے جو قومی المیہ ہے ۔

آغا سید حامد علی شا ہ موسوی نے واضح کیا کہ اے پی ایس پشاور میں بچوں اور اساتذہ کے قتل عام کے بعد قومی اتفا ق رائے سے تشکیل پانے والے نیشنل ایکشن پلا نکی ہر ہر شق پر عمل کرنے سے ہی امن کا خوب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729