ویٹو پاور کو ختم کیا جائے یہ کمزور ملکوں کو کچلنے کا لائسنس ہے، ایام عزائے معصومہ قم ؑ کی مجلس سے آقائے موسوی کا خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

استنبول اسلامی کانفرنس کو بعض ممالک نے غیر موثر بنا دیا ،مسلم حکمران جان لیں سرفرازی امریکی کاسہ لیسی نہیں باہمی اتحاد میں ہے
مسلم حکمران برادر ممالک میں مداخلت بند کردیں، اقوام متحدہ نے گذشتہ 72سال میں بڑی طاقتو ں کی کنیزی کے سوا کچھ نہیں کیا
حضرت فاطمہ معصومہ قم کی ذات علم وروحانیت کا مرکزہے آپکی تعلیمات گمراہیوں کے اندھیروں میں روشنی بکھیر رہی ہیں ، عزاداروں سے خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ عالمی امن کے قیام اور اقوام متحدہ کو موثر بنانے کیلئے بڑی طاقتوں کی ویٹو پاور کو ختم کیا جائے ، سلامتی کونسل میں5مما لک کی ویٹوپاور دنیا بھر میں جاری جنگوں کا بنیادی سبب اور طاقتور ممالک کو کمزور ملکوں کو کچلنے کا لائسنس ہے جس سے دہشت گردی کی افزئش ہو رہی ہے ، القدس کو اسرائیلی حکومت قرار دینے کے خلاف استنبول کی اسلامی سربراہی کانفرنس کو بعض عرب ممالک کے گھناؤنے کردارنے غیر موثر بنا دیا ،مسلم حکمران یاد رکھیں ان کی بقا و سرفرازی امریکی کاسہ لیسی میں نہیں باہمی اتحاد میں ہے ، مسلم حکمران برادر ممالک میں مداخلت بند کردیں ، حضرت فاطمہ معصومہ قم کی ذات ہدایت وروحانیت اور علم و حکمت کا مرکزہے ،خاندان رسالت ؐ کی عظیم ہستی کی تعلیمات اور سیرت آج بھی فسق و فجور اور گمراہیوں کے اندھیروں میں روشنی بکھیر رہی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وصال کریمہ اہلبیت ؑ حضرت فاطمہ معصومہ قم بنت امام موسی کاظم سلام اللہ علیھاکی مناسبت سے ملک گیر ایام عزاکے موقع پر عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شا ہ موسوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد دنیا کو جنگوں کے شعلوں سے بچانا، عالمی امن کو درپیش خطرات کم کرنا، بین الاقوامی تنازعات کو برابری کی سطح پر حل کرنا، قوموں کی آزادی و خود مختاری کا احترام کرنا ، ملکوں میں برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات استوار کرنا، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز، دنیا کے اقتصادی سیاسی مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی تعاون بڑھانا، رنگ زبان نسل کی تمیز کے بغیر انسانی حقوق و آزادیوں کے احترام جیسے اقدامات شامل تھے ، لیکن آج تک اقوام متحدہ ان اہداف پر عمل کرانے سے قاصرو لاچار ہے اس کے اقدامات میں تضاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی امن و سلامتی کے قیام یا عالمی امن کو درپیش خطرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں تو بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق انہیں ویٹو کردیتی ہیں اور وہ اقدامات دہرے کے دہرے رہ جاتے ہیں اور نئے تنازعات جنم لینے لگتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال امریکہ کا سلامتی کونسل میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے خلاف سلامتی کونسل کے 14ارکان کی متفقہ قرارداد کو ویٹو کرنا ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اگرچہ جنرل اسمبلی نے 9کے مقابلے میں 128کی اکثریت کے ساتھ امریکی اقدام کو مسترد کردیا لیکن اس قرارداد کا امریکہ پر کچھ اثر نہیں ہو گااس سے پہلے بھی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کیخلاف 122ممالک کی قرار داد سے برمی حکومت کے کانوں پر جون تک نہیں رینگی ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ 72سال میں بڑی طاقتو ں کی کنیزی کے سوا کچھ نہیں کیا مسلمانوں کے ساتھ بالخصوص معاندانہ و منافقانہ ہے جو کشمیر و فلسطین پر اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی لیکن مشرقی تیمور سوڈان می استصواب رائے سے اس نے کوئی تامل نہیں کیا دوغلی پالیسیوں سے امن نہیں فساد برپا ہوتا ہے ۔آغا سید ھامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی تربیت ایسے گھر میں ہوئی جو گھر اسرار الہٰی کا خزانہ اور علم و حکمت کا سر چشمہ تھا ، آپ نے اپنے والد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور بھائی امام رضا علیہ السلام کے ساتھ رہ کر علم و حکمت کے عظیم مقامات حاصل کئے یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کی غیر موجودگی میں آپ لوگوں کو درپیش مسائل کے جوابات عطا کرتی تھیںآپ مدینہ کی عورتوں کو درس قرآن و حدیث دیا کرتی تھیں اور اپنے جد بزرگوا رحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے آگاہ کرتیں اور قرآن کی تفسیر بیان کرتی تھیں ۔آج تک معصومہ کا روھانی فیض جاری ہے ملا صدر شیرازی فرماتے ہیں انہیں جب بھی کسی علمی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کوجاتے تھے اوران کے وسیلہ سے ان کی علمی مشکلات حل ہوجاتی تھیں قم ایران میں حضرت فاطمہ معصومہ قم ؑ کا مزار عالم اسلام کے ان مقامات میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ زائرین حاضری دیتے ہیں ۔آقای موسوی نے مطالبہ کیا کہ اوآئی سی مشاہیر اسلام کے کردارسیرت تعلیمات کو عام کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729