جنرل اسمبلی کاالقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو مسترد کر نا ٹرمپ کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

شہدائے حسینی محاذ سید صفدر علی نقوی اور سیداشرف علی نقوی کی قربانی کے نتیجے میں ڈکٹیٹر کی جانب سے پاکستان کو مکتبی سٹیٹ بنانے کی سازش ناکام ہوئی 
عالم اسلام ، نظریہ پاکستان کے تحفظ ،بقا و سلامتی اورحقوق کے بارے میں کسی کو سودا بازی نہیں کرنے دیں گے۔ قائد ملت جعفریہ کا یوم شہداء پر دعائیہ اجتماع سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بو رڈ کے سرپرست اعلی ٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو مسترد کر نا ٹرمپ کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جبکہ مسلم حکمران کا اپنی توانائیاں ایکدوسرے کو زیر کرنے پر صرف کرنا آپس میں یکسوئی،یکجہتی کا فقدان سوالیہ نشان ہے؟ ۔ 22دسمبرنظریہ پاکستان اور حقوق کے تحفظ کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے حسینی محاذ راولپنڈی کے عظیم سپوتوں سید صفدر علی نقوی اور میلسی ضلع وہاڑی کے سید اشرف علی نقوی کا یوم شہادت ہے جن کی قربانی اور چودہ ہزار سے زائد رضاکارانہ گرفتاریاں دینے والے اسیروں کی قید و بندکی صعوبتوں کے نتیجے میں ڈکٹیٹر کی جانب سے پاکستان کو مکتبی سٹیٹ بنانے کی سازش ناکام ہوئی اور 21مئی 1985ء کا جونیجو موسوی معاہدہ عمل میں آیا ، شہداء کے مقدس لہو کی قسم کھا کر عہدو پیمان کرتے ہیں کہ عالم اسلام ، وطن عزیز پاکستان کے تحفظ و استحکام اور بقا و سلامتی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور کسی مائی کے لال کو نظریہ اور حقوق کے بارے میں ہر گز سودا بازی نہیں کرنے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو عالمگیر یوم شہداء کے موقع پر دعائیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

آقای موسوی نے باور کرایا کہ یہودیوں نے استعماری سرغنے اور اُسکے آلہ کاروں کی ایما پر گھناؤنی سازش کے تحت مسلم فلسطینی آبادی میں صہیونی اسرائیلی ریاست بنا کر قبلہ اوّل پر اپنا تسلط جما لیا۔ اور ایک ایسا وقت آیا جب مسجد اقصیٰ کو ناپاک صیہونی ہاتھوں سے نذر آتش کر دیا گیا جس کے رد عمل میں او آئی سی کا وجود عمل میں لایا گیا جس کا دوسرا نمائندہ اجلاس پاکستان میں ہوا تو شیطانی قوتوں میں کھلبلی مچ گئی اور اجلاس میں شریک مسلم سربراہان شاہ فیصل ، ذوالفقار علی بھٹو ، یاسر عرفات اور کرنل قذافی کو ہمیشہ کیلئے راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ اسرائیل کو عالمی شیطان کی مستقل سرپرستی حاصل ہے تاہم کسی امریکی صدر نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت قرار دینے کی جرات نہیں کی جبکہ ٹرمپ وہ واحد شیطان ہے جس نے اسے اپنا انتخابی ایجنڈا قرار دیا اور حال ہی میں اسکا اعلان کر کے اسلامی دنیا پر دہشتگردی کا لیبل لگایا، بعض مسلم ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں داخلہ ممنوع قرار دیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ القدس شریف کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کی امریکی اعلان کیخلاف دنیائے اسلام کے علاوہ دیگر اقوام بھی سراپا احتجاج ہیں، سلامتی کونسل کے اجلاس میں فلسطین کے حق میں قرارداد کو ویٹو کر کے ٹرمپ کاروایتی ڈھٹائی کا مظاہر ہ اُسکی شیطانی ذہنیت کا ثبوت ہے۔ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ ہر دور میں یہ رسم رہی ہے کہ کسی مخصوص دن کو کسی شخصیت ،گروہ یا کسی یادگا ر کیساتھ منسوب کر کے اظہار محبت و عقیدت کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے اس شرف شہادت سے سبق حاصل کر کے غیر اقوام بھی اپنے ہیروز اور محسنوں کے ایام مناتی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلم دنیا میں بھی بنیادی نظریے کیلئے جانیں نچھاور کی جاتی رہی ہیں، پاکستان میں آغاز سے آج تک ہزاروں عساکر پاکستان ، سیکورٹی اہلکاروں ، پولیس جوانوں اور بیگناہ شہریوں نے جانیں قربان کر کے دنیا کو بتایا کہ اسلا م ہمیں عزیز ترین ہے اور مسلمانوں کے جذبہ شہادت سے دنیائے ابلیسیت ہمیشہ کیطرح آج بھی لرزہ براندام ہے اسی بنا پر وہ نہ صر ف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ مشاہیر اسلام اور شعائر خداوندی بھی اُنکا ٹارگٹ ہیں ۔

اُنہوں نے کہا کہ بیت المقدس وہ محترم مقام ہے جسے قبلہ اوّل کہا جاتا ہے اور اس کا ذکر حضور اکرمؐ کے سفر معراج میں شامل ہے چنانچہ قرآن میں ہے کہ ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘‘،یہ سفر ساتویں آسمان کی جانب رواں دواں رہا اسی بنا پر مسلم دنیا بیت المقدس کے تحفظ کیلئے جانیں تک قربا ن کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729