آزمائشوں میں ممتاز و سرخرو ۔ مختار رضاکا ر ممتاز کاظمی

ولایت نیوز شیئر کریں

راولپنڈی (ولایت نیوز)مختار فورس راولپنڈی کینٹ کے ایریا کمانڈر ممتاز کاظمی کی رسم چہلم ڈھوک سیداں میں ادا کی گئی  جس میں مختار فورس کے رضا کاروں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری اطلاعات علامہ قمر حیدر زیدی نے کہا کہ سید ممتاز حسین کاظمی نے مختار فورس کے رضاکار کے طور پر پوری زندگی وقف کر رکھی تھی اُنکا نام شعائر اللہ کے تحفظ کے مشن میں یا د رکھا جائے گا ۔  ذاکر اقبال حسین بجاڑ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور فضائل و مصائب آل محمد ؑ بیان کیے۔

مجلس کے آخر میں علامہ سید محسن ہمدانی نے مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دعا اور فاتحہ خوانی کرائی۔بعد ازاں رضا کار مختار فورس اور ابراہیم اسکاؤٹس اوپن گروپ کے چاق و چوبند دستوں نے ممتاز حسین کاظمی مرحوم کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھا کر گارڈ آف آنر پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔مرحوم کے برادران سید آصف کاظمی ، عدیل کاظمی اور فرزند سید مختار کاظمی نے تمام شرکاء سے دلی اظہار تشکر کرتے ہوئے اس عہد کا اظہار کیا کہ وہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شا ہ موسوی کے حکم پر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور ممتاز حسین شاہ مرحوم کے مشن کو جاری رکھیں گے۔  نیز اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے غیور عوام دہشتگردی کیخلاف افواج پاکستان کے آپریشن ردالفساد کی حمایت جاری رکھیں گے اوروطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

ممتاز کاظمی نے پوری زندگی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا وفادار اور مشن ولاء و عزا کا پاسدار بن کر بسر کی ۔ تمام معصومین کے تذکرے کو عام کرنے کیلئے قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے  ڈھوک سیداں راولپنڈی میں امام محمد تقی ؑ کی شہادت و ولادت پر جلوس تابوت و محفل میلاد کی بنیاد رکھی جو ضلع کے مرکزی پروگراموں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

2012 ء میں 6 محرم کو ڈھوک سیداں کے جلوس عزا میں ہونے والے بدترین دہشت گردی کے سانحہ میں دو درجن سے زائد شیعہ سنی عزاداروں کی شہادت  کے بعد ممتاز کاظمی نے رضاکار مختار فورس کو منظم کرنے کی ٹھانی اور ڈھوک سیداں میں 60 سے زائد رضاکار وں پر مشتمل راولپنڈی کی فعال ترین سیکشن قائم کی اور سیم و زر سے لیس عقائد کے سوداگروں کے تمام مذموم مقاصد کو  ناکام کرکے رکھ دیا ۔ راولپنڈی کینٹ سے برآمد ہونے والے ہر جلوس کے آگے مختار فورس ڈھوک سیداں کے رضاکاروں کے ساتھ ممتاز کاظمی سینہ سپر نظر آتے ۔

نو مبر 2013 ء میں عزاداری سید الشہداء اور پاکستان کی مسلکی ہم آہنگی پر ہونے والے بدترین حملے سانحہ عاشورا راجہ بازار کے دوران بھی ممتاز کاظمی کا کردار منفرد رہا۔ ایک طرف دشمنان اسلام و پاکستان اس سانحہ کی آڑ میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنا چاہتے تھے عزاداری سید الشہداء کو محدود و مسدود کرنا چاہتے تھے وہیں بعض عناصر بھیس بدل کر ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے تھے کہ نہ صرف عزاداری پر حملہ آور قوتوں کے مقاصد پورے ہو جائیں بلکہ عزاداری ثانوی حیثیت اختیار کر جائے ۔

ممتاز کاظمی ان ہزاروں عزاداروں کے ساتھ ساتھ نمایاں اور ممتاز رہے جنہوں نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی پالیسی اور ہدایات کے عین مطابق  عزاداری سید الشہدا ء کو ترجیح دیتے ہوئے دیگر تمام کالوں کو مسترد کیا اور مر کز مکتب تشیع تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی پالیسی پر ثابت قدم رہتے ہوئے واضح کیا کہ ہم مظلوم کے ماننے والے ہیں مظلومیت میں رہ کر ظلم و زیادتی پر فتح پائیں گے اور ہم سارے بھی اسیر یا شہید ہو جائیں کبھی اپنے دکھ کو کربلا والوں کے دکھ پر ترجیح نہیں دیں گے اور عزاداری پر کوئی مفاہمت یا سودا بازی قبول نہیں کریں گے ۔

اور بالآخر زمانے نے دیکھ لیا کہ چہلم شہدائے کربلا کا جلوس بھی بے مثل آب و تاب کے ساتھ برآمد ہوا اور سانحہ عاشورہ راجہ بازار کے پس پردہ سازش کا پول بھی پاک فوج نے کھول کر رکھ دیا  فسادیوں اور اندرونی بیرونی سازشیوں کو شکست فاش سے دوچار ہو نا پڑا اور حسینیوں کی ثابت قدمی جیت گئی عزاداری سید الشہداء مزید سربلند ہوئی اس حسینی فتح میں آقائے موسوی کی بیدار قیادت کے ساتھ ساتھ  ممتاز کاظمی جیسے کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی ثابت قدمی اور پامردی کا پورا پورا حصہ شامل تھا۔ اسی لئے تو دنیا ششدر حیران ہے کہ

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں      یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

ممتاز کاظمی یقیناً مختار فورس ہی نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے سرمایہ تھے ان کی زندگی بھی قوم کیلئے سبق تھی اور وفات کے بعد بھی انہیں جس انداز میں خراج پیش کیا گیا وہ دنیا کیلئے قابل رشک تھا ۔ممتاز کاظمی جیسے مشن مختار کے بے لوث ورکر کی رحلت نے اس حقیقت کو مزید بھی اجا گر کردیا ہے کہ  عشق نبی ؐ و علی ؑ و اہلبیتؑ میں زندگی بسر کرنے والوں کا موت کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔

کچھ اس طرح سے زیست کو اپناو دوستو           تاحشر موت کو بھی رہے انتظار زیست

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3729