میلا د مصطفیؐ کا تقاضاہے کہ مسلمانان عالم متحد ہو جائیں، مسلم حکمران استعمار کی دست نگری چھوڑ دیں، آغا حامد موسوی 

ولایت نیوز شیئر کریں

نبی کریم ؐبنی نو ع انسانیت کیلئے اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہیں جن کی آمد پر خوشی منانا اور شکر بجا لا نا ہر انسان پر واجب ہے ،عید میلا دالنبی ؐکے مو قع پر پیغام

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ میلا د مصطفی ؐ تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانان عالم شیطانی قوتوں کے مقابلے میں متحداور یکجان ہو جائیں اتحادکا مرکز فقط ذات مصطفی ؐ ہے،مسلم حکمران اقتدار کو بچانے کیلئے استعمار کی دست نگری کرنے کے بجائے دین مصطفی ؐ کی سربلندی کیلئے کام کریں دامن مصطفی ؐ کو تھامنے میں ہی امت مسلمہ کی نجات کا راز پوشیدہ ہے ،عقیدہ ختم نبوت دین و شریعت کا جزو لا ینفک ہے ناموس رسالت ؐ اور ختم نبوت کے تحفظ کیلئے امت مسلمہ کو راہ حسین ؑ اختیار کرنا ہوگی جنہوں نے مشن مصطفوی کی بقا کیلئے اپنا سر کٹا دیا گھر لٹا دیا لیکن مکہ و مدینہ کو جنگ و جدل کا مرکزنہیں بننے دیا، نبی کریم ؐ کی آمد پر فرشتوں اور بہشت نے بھی خوشیاں منائیں خدا وند عالم نے انسانیت کی مسیحائی کیلئے اپنی اولین تخلیق حضرت محمد مصطفیؐ کو لباس بشر میں دنیا میں بھیجا تاکہ اللہ کی ہدایت کی تکمیل ہو جائے محمد مصطفےٰ ؑ ہر مظلوم اور محروم کے دل کی پکار اور صدابن کر دنیا میں آئے جس پرآسمانی مخلوقات بھی انسانوں کے مقدر پر رشک کرنے لگیں، میلاد النبی ؐ کے موقع ہفتہ وحدت و اخوت منا کر شیعہ سنی تفریق کے استعماری پروپیگنڈے کو عملا ناکام بنائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید میلا د النبی ؐ کی مناسبت سے ہفتہ وحدت و اخوت کے آغاز پراپنے پیغام میں کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ جس نبیؐ کی آمد پر شیطان کا آسمان پر داخلہ بند کیا گیاآج اس کی امت کو ہر سو شیطانوں کی یلغار کا سامنا ہے ،خون مسلم پانی سے بھی ارزاں ہو چکا ہے مسلمانوں کے وسائل اغیار کے بنکوں کو بھرنے کیلئے استعمال ہورہے ہیں ۔جس نبی ؐنے فتح مکہ کے وقت اپنے پیارے چچا حضر ت حمزہ ؑ کا جگر چبانے والوں کو انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود نہ صرف معاف کیا بلکہ ان کے گھر کو جائے امن قرار دے دیااپنوں کی نادانی و مفادپرستی اور اغیار کی مکاری و عیاری کے سبب آج اس رحمۃ اللعالمین کے دین کو بے گناہوں کے گلے کاٹنے والے دہشت گردوں کے ساتھ جوڑا جارہا ہے شیطنت کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے عالم اسلام کودامن مصطفی تھامناہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریم آمد سے قبل پوری انسانیت جہالت وگمراہی کی عمیق پستیوں میں گھری تڑپ اور سسک رہی تھی کمزوروں اور غریبوں کا جینا محال تھا ۔کہیں پر انسان خدا کے کسی نبی کے معجزات کو دیکھ کر اس کو خدا تسلیم کر بیٹھے تھے تو کہیں اپنے ہی ہاتھوں تراشے ہوئے بتوں کے سامنے سجدہ ریز تھے۔شراب نوشی،جوا ،بدکاری ،لو ٹ مار عام تھی جو برائیو ں میں جتنا ملوث ہوتا اتنا ہی زیادہ طاقتور اور معزز سمجھا جاتا۔عورت محض ہوس کی تسکین کا ذریعہ بن چکی تھی۔بیٹیو ں کو زندہ درگور کرنا فخر کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ الہامی کتب کی شکل تحریف در تحریف کرکے بگاڑ دی گئی تھی ۔محرومین ،مظلومین اور پسے ہوئے طبقات کسی نجات دہندہ اور مسیحاکے منتظر تھے۔پھر قدرت کو ان پر رحم آگیا اور ظلمتوں کے اندھیروں میں نور محمدی ؐ کی سحر کے آثار نمودار ہونا شرو ع ہوئے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ آمد مصطفیؐ کی بشارتیں آدم ؑ سے عیسٰی ؑ تک تمام نمائندگان خدا دیتے چلے آئے تھے، آدمؑ کی طرح صفا و پاکیزگی ، نوحؑ کی طرح نرمی و سادگی، ابراہیم علیہ السلام کی طرح حلت و محبت ، اسمعیل ؑ کی طرح رضا و خوشنودی ، یوسف ؑ کی طرح حسن و زیبائی،موسیٰ ؑ کی طرح تکلم، داؤدؑ کی طرح لحن اور عیسی علیہ السلام کی طرح کرامت و بزرگواری ومسیحائی غرضیکہ ہر نبی کی صفات کا مجموعہ بناکر خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا میں بھیجا گیا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے امیر المومنین حضرت علی ؑ ابن ابی طالب ؑ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آنحضرت ؐ کی ولادت ہوئی تو کعبہ کے گرد رکھے ہوئے تمام بت منہ کے بل گر پڑے ۔اور شام ہوتے ہی آسمان سے آواز آئی حق آیا اور باطل مٹ گیا۔بیشک باطل مٹ جانے والا ہی تھا‘‘اس رات تمام دنیا روشن ہوگئی۔پتھر اور درخت بہ زبان حال خوشی اظہار کرنے لگے۔زمین و آسمان میں موجود ہر شے خدا کی تسبیح کرنے لگی اور شیطا ن حواس باختہ ہوکر بھاگا بھاگا پھرنے لگا۔آنحضور ؐکی ولادت پرآسمانوں اور زمینوں پر منادی کرائی گئی کوئی چلنے والا اور پرواز کرنے والا ایسانہ تھا جس کو آنحضور ؐ کی ولادت کی خبر نہ ہوئی ہو۔تمام بہشتوں کو آراستہ کیا گیا اورہر بہشت خوش ہو کر مسکرائی۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐبنی نو ع انسانیت کیلئے اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہیں جن کی آمد پر خوشی منانا اور شکر بجا لا نا ہر انسان پر واجب ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728