عسکری اتحاد اُسی وقت اسلامی کہلا سکتا ہے جب او آئی سی کے تمام رکن ممالک کو شامل کیا جائے۔ آغاحامد موسوی کاحضور اکرم ؐ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے یوم تزویج پر خطاب 

ولایت نیوز شیئر کریں

اسلام آباد (ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشتگردی عروج پر ہے دنیا بھر کے مسلمان پوچھنا چاہتے ہیں کہ اسلامی عسکری اتحا دنے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کونسا کلیدی کردار ادا کیا ہے ؟ یہ اتحاد اُسی وقت نمائندہ کہلا سکتا ہے جب او آئی سی کے تمام ممالک کو اُس میں شامل کیا جائے، وطن عزیز پاکستان اندرونی بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہے لہٰذا ایسے میں تمام معزز اداروں پارلیمنٹ ، عدلیہ کوایک پیج پر آنا ہو گا ،جب سب ادارے آئین کی بالا دستی کو قبول کرینگے تو مشترکہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے،حضور اکرم ؐ تمام انبیاء کے سردار اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ اسلام کی خاتون اوّل ہیں جن کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے خدا وند عالم نے آپ پر سلام بھیجا،اس محسنہ اسلام کا احترام نہ صرف واجب بلکہ اوجب ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری سلام علیہا اور رسول اعظمﷺ کے یوم تزویج کے موقع پر محفل نور سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر اُنہوں نے جشن میلا النبیؐ اور ولادت پرُ نور حضرت امام جعفر صادق ؑ کے سلسلے میں12تا 18ربیع الاول عالم گیر ہفتہ وحدت و اخوت منانے کا اعلان بھی کیا ۔ آقای موسوی نے باور کرایا کہ شیطانی قوتیں مدت مدید سے عالم اسلام کے پیچھے ہاتھ چھوڑ کر پڑی ہوئی ہیں تاکہ اُنہیں شکست و ریخت سے دوچار کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 70ء کی دہائی میں روس کی افغانستان میں مداخلت کو جواز بنا کر مختلف ممالک سے جہاد کے نام پر جنگجوؤں کو بلایا گیا ، پھر پاکستان کے آمر مطلق کو استعمال کیا گیا، افغانستان سے روس کا انخلاء تو کرا لیا گیا مگر جنگجوؤں کا سارا ملبہ پاکستا ن پر ڈال دیا گیا اور ہمیں ہیروئن اور کلاشنکوف کے تحائف سے نوازا ، گروہی عصبیتوں کے نام پر گروپ بنائے ، ایک عالمی ڈکٹیٹر نے نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر اُسامہ کے بہانے پاکستان کے آمر مطلق کو استعمال کر کے فرنٹ لائن پر لاکر بے حد نقصان پہنچایا ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ 17سال گزرنے کے باوجودعالمی سرغنہ اور اُسکے پٹھو افغانستا ن میں امن تو کجا پوری دنیا بالخصوص مسلمانوں کا امن تباہ کررہے ہیں، عراق ، لیبیا، یمن اور دیگر ممالک میں خون کی ندیاں بہا دی گئیں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے مسائل کشمیر و فلسطین القدس شریف کو بھلا دیا گیاہے ، برادر ملک سعودی عرب نے نیا کھیل کھیلنے کیلئے اسلامی عسکری اتحاد کی داغ بیل ڈالی اورشیطان اعظم کی سرپرستی میں ریاض کانفرنس میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے مودی کے سر پر دست شفقت رکھا گیا کشمیریوں کو دہشتگرد جبکہ ایک برادر ملک کو دہشتگردی کاسر چشمہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلامی عسکری اتحاد اُس برادر ملک کیخلاف ہے، پھر قطر کو نشانہ بنایا گیا اور اسوقت لبنان نشانے پر ہے۔

اُنہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہا کیا کہ اقوام متحدہ مسلمانوں کیساتھ معاندانہ روش اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں استصواب رائے کرا دیا گیا ہے ۔قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں عالم انسانیت کے اجتماعی مفاد کیلئے متحدہ محاذکی تشکیل ،پاکستان کی خارجہ پالیسی نئے خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728