تاریخ کی سب سے بڑی توہین رسالتؐ کا دکھ کبھی فراموش نہیں کرسکتے،عزاداری کو قیامت تک جاری رکھیں گے، ایام عزا کے الوداع و شہادت امام حسن عسکریؑ پر آقائے موسوی کا پیغام

ولایت نیوز شیئر کریں

تحفظ ناموس رسالت ؐ کے عہد کی تجدید کیلئے8ربیع الاول کوشہر درشہر پرامن عزاداری برپا کریں گے،آغا حامد موسوی
طے شدہ معاملات سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جاتی توملک کبھی انتشار کا شکار نہ ہوتا؛موجودہ صورتحال کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایاجائے
اولاد نبی ؐ کو بھوکا پیاسہ ذبح کرنے اور نبیؐ کی بیٹیوں کو سر ننگے بازاروں میں پھرائے جانے کا غم ہرسچے عاشق رسولؐ کے دل میں سدا رہے گا
ہر حریت پسند کیلئے سیرت امام عسکری مشعل راہ رہے گی، شہادت امام حسن عسکری اور ایام عزائے حسینی ؑ کے اختتام کی مناسبت سے یوم عہد وپیمان پر پیغام

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ؐ کے عہد کی تجدید کیلئے پیر8ربیع الاول کوشہر درشہر پرامن عزاداری برپا کریں گے، طے شدہ مسائل اور معاملات سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جاتی تو وطن عزیز کبھی انتشار کا شکار نہ ہوتا، ختم نبوتؐ کے حلف میں تبدیلی اور بعد میں پیدا ہونے والی صورتحال کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے جج کی سرکردگی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیاجائے ، امام حسین ؑ کا سوگ منانا سنت نبوی ؐ ہے دشت کربلا میں تاریخ کی سب سے بڑی توہین رسالت کا دکھ کبھی فراموش نہیں کرسکتے اولاد نبی ؐ کو بھوکا پیاسہ ذبح کرنے اور نبی کی بیٹیوں کو سر ننگے بازاروں میں پھرائے جانے کا غم ہرسچے عاشق رسول ؐکے دل میں سدا رہے گا عزاداری سید الشہداء امام حسین ؑ کو قیامت تک جاری رکھیں گے ، امام حسن عسکری ؑ نے اسلام کی حقانیت ، قرآن کی سچائی اور شریعت مصطفوی ؐ کو تحریف سے بچانے کیلئے زندانوں کو قبول کیا اور زہر کا جام پیاہر حریت پسند کیلئے سیرت امام عسکری مشعل راہ رہے گی ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے ہفتہ عہدو پیمان کے آخری روز شہادت امام حسن عسکری اور یکم محرم سے جاری ایام عزائے حسینی ؑ کے اختتام کی مناسبت سے جاری ہونے والے اپنے پیغام میں کیا ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسو ی نے کہا کہ تمام شیعہ سنی کتب گواہ ہیں اور امہات المومنینؓ نے یہ احادیث روایت کی ہیں کہ شہادت امام حسین ؑ کو یاد کرکے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گریہ فرمایا تھا گویا امام حسین ؑ کا سوگ سنت نبوی ؐ ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ہر سچا عاشق رسول شہادت سبط نبی ؐ پر سوگوار و اشکبار نظر آتا ہے ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام حسن عسکری ؑ کی روحانی عظمت اس قدر زیادہ تھی کہ قیدخانوں کو مکتبہ تعلیم و تربیت میں بدل دیا۔انہوں نے معروف عالم اہلسنت علامہ ابن حجر مکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں حضرت امام حسن عسکری عباسی خلیفہ معتمد عباسی کی قید میں تھے تو علاقہ میں طویل خشک سالی ہوگئی اور قحط پڑ گیا جس پرمعتمد نے مسلمانوں کو طلب باران کیلئے دعائیں مانگنے کاکہالیکن بارش نہ ہوئی ،مسلمانوں کے بعد عیسائی ایک راہب کو لیے صحرا میں آئے جب وہ راہب دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا بادل گھر آتے اور بارش شروع ہوجاتی۔ جس سے بعض مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات نے جنم لیا اور بعض نے دین نصاریٰ اختیار کرلیا۔معتمد نے جب یہ دیکھا تو اس نے امام حسن عسکری ؑ کو قیدخانہ سے باہر بلوابھیجا۔اور کہاکہ اے فرزند رسول ؐ اپنے ناناکی امت کی اس سے قبل خبر لیں کہ امت ہلاک ہوجائے۔امام عسکری ؑ نے فرمایا کہ عیسائیوں سے کہا جائے کل پھر صحرا میں آجائیں میں انشاء اللہ دنیائے انسانیت کو بتادونگا کہ شریعت کے محافظ شریعت کی حفاظت کیسے کرتے ہیں)۔پس جس وقت راہب نصاریٰ کے ساتھ بارش کی دعا کیلئے آیا اوراسکی دعا سے ایک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوگئی ،امام نے حکم فرمایا کہ راہب کے ہاتھ میں جو شے ہے اسے چھین لیا جائے دیکھا گیا کہ راہب کے ہاتھ میں انسانی ہڈی تھی۔اسے لے لیا گیا ۔امام عسکری ؑ نے فرمایا کہ اب طلب باراں کی دعا کرو۔اس نے ہاتھ اٹھائے تو بجائے بارش کے مطلع صاف ہوگیا اور سورج نکل آیا۔امام نے فرمایا یہ کسی نبی کی ہڈی تھی جو اسکے ہاتھ میں آگئی ۔یہ اسکی خاصیت ہے کہ جب اسے زیر آسمان لایا جائے تو بارش ہوجائیگی۔لوگوں نے آزمائش کی تو واقعا ایسا ہی ہوا ۔اس کے بعد اولاد نبی امام حسن عسکری نے دعا کی تو کھل کر بارش برسی لوگوں کا شک زائل ہوگیا یوں دین محمدی ؐ ایک بہت بڑی آزمائش سے بچ گیا اور نصرانیت کے مقابلے میں اسلام پر آنے والے شکوک و شبہات زائل ہوگئے اور اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔

آغاسید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ عباسی دور تراجم اور تحقیق کا دور تھاامام حسن عسکری ؑ نیاس زمانے کے فلاسفر جو دہریت اور الحاد کی تبلیغ کر رہے تھے سے بھی مقابلہ فرمایا، عراق کا فلسفی اسحٰق کندی جو قرآن میں نقص ثابت کرنے کیلئے کوشاں تھا امام حسن عسکری نے اپنے شاگردوں کے ذریعے محض چند دلائل کیساتھ اس کے افکار کو باطل ثابت کردیااور وہ تائب ہو گیا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام حسن عسکری کو ہر طرح کے مصائب و آلام سے دوچار رکھا گیا لیکن حکمران امام عسکری کو جھکا سکے نہ راہ حق سے ہٹا سکے ۔آپ ؑ نے انتہائی گھٹن اور ظلم و جبر کے ادوار میں بھی حکمرانوں کے سامنے حرف انکار بلندکیا اور دین کا بول بالا کیااپنی جان قربان کر دی لیکن اسلام پر آنچ نہ آنے دی ، اسی راہ پر گامزن ہو کر اسلام کو ہر عہد میں سربلند کیا جا سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728