سیدہ زینبؑ کی فتح ارض و سماوات پر چھا گئی ؛اربعین حسینی ؑ پر کربلا میں روئے زمین کا سب سے بڑا انسانی اجتماع

ولایت نیوز شیئر کریں

کربلائے معلی ( رپورٹ – ابو زیاف )10نومبر 2017 کو کربلائے معلی میں روئے زمین کا سب سے بڑا انسانی اجتماع اربعین حسینی ؑ منعقد ہوا ۔ولایت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اس اجتماع میں فاکس نیوز اور انڈیپنڈنٹ  نے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد  کی شرکت کی خبریں نشر کی ہیں ۔ صاحبان معرفت کی نگاہ آدمؑ سے لیکر ۤآج تک کے انسانوں ملائک اور جنات پر بھی تھی جن کی تعداد کا اندازہ لگانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ۔

10 محرم 61 ھ کو جس بہن کو اس کے پیارے بھائی کی لاش پر رونے کی اجازت نہ ملی تھی اس نے اپنی استقامت سے تاریخ کا دھارا کچھ اس انداز سے بدلا کہ کہ جب وہ  شام کی قید نبھا کر  اپنے مظلوم بھائی کا چہلم کرنے کربلا آئی تو ایسی رسم کی بنیاد رکھ چکی تھی جس کا نام عزاداری ہے دنیا کا ہر ظاہر اور چھپا ہوا ظالم اس سے خوفزدہ ہے ۔

نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی پیاری نواسی کی کربلا آمد کی یادگار کے طور پر دنیا کے دو سو سے زائد ممالک سے کئی کروڑ افراد جمع ہوئے ۔ جن میں صرف مسلمان نہیں ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ملحد بھی شامل تھے جو تاریخ انسانی کی عظیم مجاہدہ سیدہ زینب ؑ اور اسیران کربلا کی جدوجہد کو سلام پیش کرنے آئے تھے ۔ کربلا کے شہیدوں کو خراج پیش کرنے آئے تھے۔

اس تاریخی اجتماع کو کئی اعزازات حاصل ہیں اس اجتما ع میں شامل ہونے والے زائرین 85 کلومیٹر پیدل چل کر کربلا پہنچے تھے یون اسے دنیا کی سب سے بڑی واک کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔

ہر زائر کو امام حسین ؑ  کے نام پر کھانا یعنی نیاز بلا قیمت وافر دستیاب تھی یوں یہ کرہ ارض کی سب سے بڑی ضیافت بھی تھی ۔ اس ان گنت انسانوں کے اجتماع میں کوئی بھگڈر نہیں تھی ۔

یہ اجتماع دنیا کے اس خطے میں منعقد ہو رہا تھا جسے  عہد حاضر کے بدترین دہشت گرد ٹولہ یعنی داعش کے حملوں کا سامنا ہے یون اربعین کا یہ اجتماع دنیا کا بے خوف ترین اجتماع بھی تھا جس میں شامل انسانوں کو اپنی جانوں کی ذرا بھر بھی پرواہ نہ تھی ۔ ایسا بے نظیر اجتماع شاید ہی آسمان والوں نے کبھی زمین پر دیکھا ہو۔۔۔۔۔۔

شہید محسن نقوی کے بقول

پہن کے خاکِ شفا کا احرام، سر برہنہ طواف کر کے​
حسینؑ تیری لحد کو کعبہ بنا گئی ہے علیؑ کی بیٹی​
نہ کوئی لشکر، نہ سر پہ چادر، مگر نجانے ہوا میں کیونکر​
غرورِ ظلم و ستم کے پُرزے اڑا گئی ہے علیؑ کی بیٹی​

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728