اربعین مقصد حسینیت ؑ سے وابستگی کی علامت اور آزادی و حریت کا عالمگیر درس ہے۔قائد ملت جعفریہ آغاحامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

زندانِ شام کے عصمت مآب قیدی مقصدِ حسینیت ؑ کو چا ر چاند لگاکر یزیدکی دائمی شکست کا موجب بن گئے۔چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر قائد ملت جعفریہ کا پیغام

اسلام آباد( ولایت نیوز) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علما بورڈ قائد تحریک نفاذ فقہ جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ یوم اربعین کو زندہ رکھنا اور منانا نواسہ رسول ؐ حضرت امام حسین ؑ ابن علی ؑ کے عظیم مقصد سے وابستگی کی علامت جو آزادی و حریت کا عالمگیر درس ہے ،عشق حسین ؑ انسانی اقدار اور اعلیٰ مقاصد کیلئے قربانی کے جذبے کو بیداررکھنے اور ظالموں کا خوف دلوں سے ختم کرنے کا وسیلہ ہے،کربلا اسلام کے تحفظ کی ضمانت ہے جسکا خوف اسلام دشمن قوتوں کے دلوں پر ہمیشہ کیلئے بیٹھ چکا ہے ،جس طرح نماز انسان کو برائیوں اورمنکر ات سے بچاتی اور روزہ تزکیہ نفس کا درس دیتا ہے اسی طرح امام حسین ؑ کی یاد منانا اور ان کا تذکرہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جذبے کو زندہ رکھتا ہے کیونکہ امام حسین ؑ کے قیام کا مقصد ہی اسلام پر چھا جانے والی برائی کا خاتمہ اور رسول ؐ خداحضرت نبی کریم کی شریعت کا احیاء تھا،جب تلک کربلا والوں کا تذکرہ زندہ ہے دین پر فداکاری کا جذبہ بھی زندہ رہیگا جس سے سرشار ہوکشمیر و فلسطین کے نہتے حریت پسندجدید ترین ہتھیاروں سے لیس طاقتورترین قوتوں سے بے خوف ہو کر ٹکراتے رہیں گے، کوئٹہ دھماکے میں ایس ایس پی سمیت تین پولیس اہلکارو ں کی شہادت کا سانحہ سی پیک اور آپریشن رد الفساد سے بوکھلائے ہوئے ازلی دشمن کی کارستانی ہے، حکومت بیرونی آقاؤں کیلئے کا م کرنے والے کالعدم گروپوں کے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چہلم شہدائے کربلا عالمگیر یوم اربعین حسینی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا ہے جو جمعہ کو دنیا بھر کی طرح پورے پاکستان میں مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کیساتھ منایا جائیگا۔اس موقع پر تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں ذوالجناح و تعزیہ اور علم مبارک کے جلوس برآمد ہونگے اور مجالس برپا کی جائیں گی۔

آقای موسوی نے باورکرایا کہ شہادت امام حسین ؑ کے بعد اٹھنے والی آفاقی تحریک میں اربعین حسینیؑ کی حیثیت اہم سنگ میل کی ہے ، اربعین سے مراد 40ہے یہ اس تاریخی دن کی یادگار ہے جب نواسی رسول ؐ سیدہ زینب بنت علی ؑ اور حضرت امام زین العابدین ؑ کی سرکردگی میں اسیران کربلا کا قافلہ شام سے رہائی کے بعد روز عاشور61ھ کے شہداء کی زیارت کیلئے 20صفر کو کربلا پہنچا،جب یہ اسیروں کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا تو وہاں جلیل القدر صحابی رسول ؐ حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ نے مقصد حسینیت کو دائمی بقا بخشنے والی عظیم ہستیوں کا استقبال کیا،اسی مناسبت سے صحابی رسول ؐ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کو روضہ امام حسین ؑ کا پہلا زائر اور مجاور بھی کہا جا تا ہے ۔20صفر ہی کے دن سر مبارک امام حسین ؑ بدست امام زین العابدینؑ شام سے کربلا لایا گیا اور آپ ؑ کے جسم اطہر کیساتھ ملحق کیا گیااسی لیے یہ روز برصغیر میں چہلم شہدائے کربلا اور عرب و عجم میں اربعین حسینی کے نام سے منایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تاریخی واقعات کی یاد میں آج بھی کئی کروڑ لوگ بلاتفریق مسلک و مکتب ومذہب یوم اربعین امام حسین ؑ کے مرقد پر جمع ہوکرنواسہ رسول ؐ کے عظیم پیغام سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں ،ان زائرین کی اکثریت پاپیادہ کئی کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے امام حسین ؑ کے روضے تک پہنچتی ہے اور اسیران کربلا کی صعوبتوں کو یاد کرتے ہوئے دین اسلام اور انسانیت کیلئے ہر مصیبت برداشت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا کہ جس حسین ؑ نے خانہ کعبہ کی حرمت کی خاطر اپنا سر کٹایا ،اپنے کنبہ کی لازوال قربانی پیش کی رسول ؐ زادیوں کی چادریں قربان کیں آج خداوند عالم نے اس حسین ؑ کو یہ اعجاز بخشا ہے کہ آزادی وحریت کے اس عظیم پیشوا اور دین مصطفوی ؐ کے اس انمول محافظ کو خراج پیش کرنے کیلئے دنیا جو ق در جوق چلی آرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسیرانِ کربلا کی تاسی میں انگنت زائرین کا سرزمین کربلا پر ورددین کیساتھ وابستگی کے جذبے کا اظہار ہے کیونکہ دخترانِ رسول ؐ کی عالم اسیری میں شام سے کربلا واپسی ایک معنویت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حضرت امام زین العابدین ؑ اور سیدہ زینب ؑ بنت علی ؑ بظاہر ایک لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ دردناک انداز میں واردِ کربلا ہوئے جن کیساتھ کئی کمسن بچے اور بچیاں کربلا و کوفہ اور شام کے راستوں میں دم توڑتے رہے لیکن اسیران کربلا نے مقصدِ شہادتِ حسین ؑ کو بازاروں اور درباروں میں اپنے خطبات کے ذریعے عام کرنے کا عظیم فریضہ سرانجام دیا اور یزیدی حکومت کی طرف سے نواسہ رسول ؐ کو سرکش اور باغی قراردینے اور انکا سر کچلنے کے جھوٹے اور منافقانہ پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔

آقای موسوی نے کہا کہ حضرت زینب ؑ و سجاد ؑ کے قرآن و حدیث سے لبریز خطبات نے عوام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا اوررسیوں میں بندھی ہوئی خواتین عصمت اور طوق و سلاسل میں جکڑے ہوئے قیدیوں کے خطبات سن کرانکا تماشہ دیکھنے کیلئے جمع ہونیوالے مردوزن دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ،یوں ظالم حکومت کیخلاف ایک بڑے انقلاب نے انگڑائی لینی شروع کردی۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا کہ حاکم کے دربار میں حضرت زینب ؑ بنت علی ؑ نے حمد و ثنائے رب جلیل کرکے یزیدکو للکار کر انتباہ کیا کہ تیرے دن گنے جاچکے ہیں ،اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ بن اور ہوش کی سانس لے ،کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنیوالے یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کیلئے بہتر ہے بلکہ ہم نے انہیں یہ ڈھیل اس لیے دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کرلیں ،ان کیلئے خوفناک عذاب معین کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنتِ علی ؑ نے فرمایا کہ اے فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردہ غلاموں کی اولاد کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کرکے پردے میں بٹھا رکھا ہے اور رسول ؐ زادیوں کو سربرہنہ دربدر پھرارہا ہے جن سے ہمدردی کرنیوالا کوئی نہیں،ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بیبیوں کے سروں پر جمی ہیں،اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہوسکتی ہے جسکی دادی نے پاکیزہ لوگوں کا جگر چبا یا ہو اور اس سے انصاف کی کیا امید جس نے شہیدوں کا خون پی رکھا ہو؟جوانانِ جنت کے سردار حسین ؑ ابن علی ؑ کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر بے ادبی کرنے والے یزید تیرے ہاتھ شل ہوں تو شجر طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے لہذا تو رسول ؑ خدا کی بارگاہ میں ایک مجرم کی صورت میں لا یا جائیگا اور تجھ سے اس جرم کی بازپرس ہوگی کہ تو نے اولاد رسو ل ؐ کاخون ناحق کیوں بہایا اور رسول ؐ زادیوں کو کیوں در بدر پھرایا؟ خدا تجھ سے آل رسول ؐ کا انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ قائدملت جعفریہ آغاسیدحامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ خطبات سیدہ زینب ؑ نے یزیدیت کو ایسی حزیمت سے دوچار کیا کہ اسے ا پنے اقتدار کی بنیادیں ہلتی محسوس ہونے لگیں اور وہ اہلبیت رسول ؐ کو رہا کرنے پر مجبور ہوگیازندانِ شام کے عصمت مآب قیدی مقصدِ حسینیت ؑ کو چا ر چاند لگاکر یزیدکی دائمی شکست کا موجب بن گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727