شہزادی سکینہ ؑ کے اسیر تابوت کی برآمدگی پر قیامت کا سماں ، سکینہ جنریشن کے زیر اہتمام مجلس میں کم سن خطیبہ نے سامعین کو حیرت زدہ کردیا

ولایت نیوز شیئر کریں

صالح ؑ نبی کے ناقہ کی قدر نبی ؐ کی بیٹیوں سے زیادہ نہ تھی اگر نبی کی بیٹیاں بددعا کردیتیں تو روئے زمین پر ہر انسان ہلاک ہو جاتا لیکن آل محمد ؐ نے اپنا سب کچھ لٹا کر دین کو بچالیا

اسلام آباد( ولایت نیوز)سکینہ جنریشن کی کم سن بچیوں کے زیر اہتمام جامعۃ المرتضی ٰ جی نائن فور میں خانوادہ رسالت کے دلوں کاچین شہزادی سکینہ بنت الحسین ؑ کی شہادت کی مناسبت سے مجلس عزا منعقد ہوئی جس میں پاکستان بھر سے ہزاروں کم سن بچیوں اور ان کی والدات نے شرکت کی ۔

مجلس عزا سے کم سن خطیبہ سید لواء زینب کاظمی نے خطاب کیا۔انہوں نے ناقہ صالح کی فریادکے نتیجے میں قوم ثمود کی تباہی کا احوال مفصل بیان کیا جس پر سامعین حیرت زدہ رہ گئے ۔

لواء زینب نے کہا کہ قوم ثمودیہ قوم ترقی یافتہ ہوئی تو گمراہ بھی ہوتی چلی گئی۔انبیاء کی دعوت کے سامنے مراعات یافتہ خوشحال طبقہ ہی رکاوٹ بنتا ہے کیونکہ عدل و انصاف سے یہی طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ محروم طبقہ ہمیشہ عدل و انصاف چاہتا ہے نیز مراعات یافتہ طبقے میں غرور و سرکشی آجاتی ہے،ثابت ہوا جب ترقی ملتی ہے تو تکبر گمراہی کی طرف لے جانا شروع کردیتا ہے ،جب کسی کودولت ملے آسانی ملے تو اللہ سے دوری کاآغاز بھی ہو جاتا ہے تاریخ میں دولت اور دین کا اگر تعلق قائم ہے تو صرف مادر زہرا حضرت خدیجہ ؑ کی بدولت ہے۔

لواء زینب نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ قوم ثمود جس پر اللہ کا عذاب نازل ہوااس کے آثار کو حرمین شریفین کے محافظوں نے عالمی ورثے میں شامل کررکھا ہے یعنی کہ وہ مقام جہاں اللہ کا بدترین عذاب نازل ہوایو نیسکو کے پاس عالمی ورثے کے طور پر درج کروایاگیا ہے اس کی حفاظت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن مکہ ومدینہ کے وہ آثار جہاں اللہ کی رحمتیں نازل ہوئیں آل اطہار اور پاکیزہ صحابہ کبار کے آثار کو بیدردی سے مٹایا جا رہا ہے لیکن افسو س کہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی اورتحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سوا پوری دنیا خاموش ہے ۔

انہوں نے نہج البلاغہ میں مولا علی ؑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ناقہ ثمود کو صرف ایک ہی شخص نے ہلاک کیا تھا ، لیکن خد انے عذاب میں پوری قوم ثمود کو سب کو شامل کیا کیونکہ وہ سب اس امر پر راضی تھے ، ‘‘انہوں نے عزاداروں سے اپیل کی کہ ان لوگوں کو محترم نہ بناؤ جو شعائر حسینی پر اعتراض کرتے ہیں ان کے اعمال پر خاموشی اختیار نہ کرو جو ماتم مجلس زنجیر زنی قمہ زنی پر اعتراض کرتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ بروز محشرخاموش رہنے والوں کا شمار اعتراض کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوجائے۔

لواء زینب کاظمی نے جب حضرت فاطمہ زہرا ؑ کا درواززہ جلانے ،نبی کی نواسی سیدہ زینب ؑ کو بازار میں لانے اورمعصومہ سکینہ بنت الحسین ؑ پر مظالم کا مصائب پڑھا تو قیامت کا سماں بندھ گیا۔انہوں نے کہا کہ صالح ؑ نبی کے ناقہ کی قدر نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بیٹیوں سے زیادہ نہ تھی اگر نبی کی بیٹیاں بددعا کردیتیں تو روئے زمین پر ہر انسان ہلاک ہو جاتا لیکن آل محمد ؐ نے اپنا سب کچھ لٹا کر دین کو بچالیا۔

مجلس کے بعد جب شہزادی سکینہ ؑ کا اسیر تابوت برآمد ہوا تو کہرام مچ گیا،خواتین اور کم سن بچیوں نے ماتم اورنوحہ خوانی کے ذریعے معصومہ کا پرسہ پیش کیا۔اس موقع پر قائد ملت جعفریہ ٓاغا سید حامد علی شاہ موسوی کی صحت سلامتی ،زائرین کی مشکلات کے خاتمہ ، پاکستان کے ا ستحکام، مومنین کی پریشانیوں کے خاتمہ اور تعجیل ظہور امام زمانہ ؑ کی دعائیں کی گئیں ۔

مجلس عزا سے دینہ ، پشاور ، کوہاٹ ، پنڈی گھیب ، لاہور ، کراچی کی کم سن ذاکرات نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727