دربار شاہ پیاراؒ میں مجلس و جلوس تابوت امام سجاد ؑ؛ مجاہد علی ناشاد کی نوحہ خوانی

ولایت نیوز شیئر کریں

راولپنڈی ( ولایت نیوز)قائد ملتِ جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کردہ عالمی عشرہ بیمارکربلا کی مناسبت سے سید الساجدین حضرت امام زین العابدین ؑ کا یوم شہادت سوموار کومذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔اس موقع پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح راولپنڈی ریجن ،اسلام آبادمیں بھی مجالس عزاء ہوئیں جن کے اختتام پر تابوت کے جلوس برآمد کیے گئے ۔امام جمعہ والجماعت دربارسخی شاہ پیارا علامہ سیدمطلوب حسین تقی کے زیراہتمام دربارسخی شاہ پیارا چوہڑہڑپال میں عالمی عشرہِ بیمارِ کربلا کی مجلس عزاسے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید قمرحیدر زیدی نے کہا کہ بیمارِ کربلا حضرت امام زین العابدین ؑ نے دین محمدؐی کی خاطرطوق خاردار اور بیڑیوں کی تکالیف برداشت کر کے دنیا کو یزیدی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سلیقہ سکھایا۔انہوں نے کہاکہ شہیدانِ کربلا کے وارث ہونے کے ناطے امام زین العابدین ؑ کیلئے ضروری تھا کہ آپؑ سانحہ کربلا کے خانوادہ ہا کے گراں قدر اثاثہ کا تحفظ کریں اور شہدائے کربلا کے گراں بہا خون اطہرکو ضائع ہونے سے بچائیں،سید الساجدین کی یہ مسؤلیت اور ذمہ داری حساس ترین اور سنگین ترین تھی،آپ ؑ نے مقصد کربلا کو زندہ جاوید رکھنے کیلئے راہِ مشکلات میں انتہائی صبر و برداشت و استقامت و پائیداری کا وہ عظیم ترین مظاہرہ کیا جس نے یزیدیت کے چہرے سے اسلام کے مصنوعی نقاب کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا اور کوفہ و شام کے بازاروں اور ابن زیاد و یزید کے درباروں میں اپنی عمہ بزرگوار عقیلہ بنی ہاشم سیدہ زینب بنت علی ؑ کے ہمراہ وہ جراتمندانہ خطبات ،بیانات و تقریرات اپنی پاکیزہ و طاہر زبان سے جاری فرمائے جنہوں نے قصر ہائے یزیدیت کی بنیادیں ہلا کررکھ دیں اور یزیدیت کو تا ابدالاباد ذلت و رسوائی سے دوچا ر کردیا۔علامہ قمرزیدی نے کہا کہ امام زین العابدین ؑ نے انبیاء کے اسلحہ ،دعاؤں اور مناجات کے ذریعے پیغام توحید و رسالت کو اس طرح عام کیا کہ لوگوں نے آپ ؑ کی دعاؤں کے مجموعے صحیفہ کاملہ (صحیفہ سجادیہ) کو زبور آل محمد ؐ سے تعبیر کیا،امام سجاد ؑ یہ بتانا چاہتے تھے کہ کوئی بھی انقلاب ،روحانی پشت پناہی اور تعلیمی و اخلاقی تربیت کے بغیرناپائیدار ہے ،روحانیت سے نابلداور علم و آگہی سے بے بہرہ افراد تندو تیز سیلابوں اور طوفانوں کے سامنے بہہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صحیفہ کاملہ دنیائے مظلومین عالم کیلئے مشعلِ نور ہے۔
ذاکرملک علی رضاایڈووکیٹ نے کہا کہ اسوہ امام سجاد ؑ محرومین و مستضعفین کیلئے مینارہ نور ہے کیونکہ بعدِ شہادت امام حسین آپ ؑ نے ؑ تمام مصیبتوں کو برداشت کرتے ہوئے ہر مقام پر آوازِ حق کو بلندکیا اور یہ ثابت کردیا کہ کسی قسم کے مصائب و آلام میں اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے کیونکہ حق کبھی باطل قوتوں سے گھبر ایا نہیں کرتا۔ذاکرناہیدعباس جگ نے کہاکہ حضرت زینب ؑ نے امام زین العابدین ؑ کے ساتھ مل کر مقصدِ حسینی کونہ صرف ابلاغ کیا بلکہ تاقیامت اسے زندہ وجاوید کردیا۔امام حسین ؑ نے اسلام بچایا تھا مگر زینب ؑ و زین العابدین ؑ نے مقصدِ حسین ؑ کو بچایا اور پھیلایا۔مجلس عزاء سے ذاکرصفدرعباس نوتک ، ذاکرسیدصغیرحسین کاظمی نے بھی خطاب کیا۔اختتام مجلس جلوس تابوت بیمارکربلابرآمدہوا اس موقع پر سندھ کے معروف نوحہ خواں مجاہد علی ناشاد نے نوحہ خوانی کی اس موقع پر زبر دست زنجیر زنی کی گئی ۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتاہوادرباعالیہ سخی شاہ پیاراکاظمی میں اختتام پذیرہوا۔

اسلام آباد میں مرکزی جلوس تابوت مرکزی امبارگاہ قصر امام موسیٰ کاظم آئی ٹین سے برآمد ہوا ۔اس موقع پر مجلس عزا سے مختلف ذاکرین نے بھی خطاب کیا۔قصر ابوطالب ؑ مغل آباد میں والدہ عظمت حسین نقوی کے زیراہتمام تابوتِ بیمار کربلا برآمد ہوا ۔انجمن فیض پنجتن ؑ شعبہ خواتین کے زیراہتمام امامبارگاہ زین العابدین ؑ میں تابوت بیمار کربلا برآمد ہوا ۔انجمن دختران اسلام کے زیراہتمام مرکزی امام بارگاہ جامعہ المرتضیٰ جی نائن فور میں کے زیراہتمام مجلس بیمار کربلا ہوئی۔ بعدازاں تابوت بیمار کربلا برآمد ہوا اور ماتمداری کی گئی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727