استعمار گردی کا شکار دنیائے مظلومیت راہِ حسین ؑ اختیار کرے،قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کاپیغام عاشورہ

ولایت نیوز شیئر کریں

جب تک حسین ؑ کا تذکرہ باقی ہے دین پرمر مٹنے کا جذبہ بھی باقی رہے گا، ہرمحب دین و انسانیت کی آنکھ دوش نبیؐ کے سوار کے غم میں اشکبار ہے
حریت کا راز پالینے والی ہر قوم کہہ رہی ہے کہ ہمارا حسین ؑ ہے ، کشمیر فلسطین وروہنگیا میں آزادی اور حقوق کی صدائیں کربلا کی مرہون منت ہیں
یزید اسلام و قرآن میں تحریف کرنا چاہتا تھا امام حسینؑ نے نوک نیزہ پر کلامِ خدا کی تلاوت کرکے یزیدیت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا
افغانستان میں عزاداری پر حملوں میں بھارتی سازش کارفرما ہے ،مقبوضہ کشمیر میں عزاداری پر پابندی کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے، یوم عاشور پر پیغام

اسلام آباد (ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ کربلا ظالمین کی طاقت کا خوف زائل کردیتی ہے استعمار گردی کا شکار دنیائے مظلومیت راہ حسین ؑ اختیار کرے،جب تک حسین ؑ کا تذکرہ باقی ہے دین کی حفاظت پرمر مٹنے کا جذبہ بھی باقی رہے گا، کشمیر و فلسطین میں آزادی کی تڑپ اور روہنگیا، یمن بحرین العوامیہ قطیف نائجیریا میں حقوق کی بازیابی کی صدائیں تحریک کربلا کی مرہون منت ہیں ،قرآن میں اللہ کا وعدہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گاامام حسین ؑ نے سجدہ خالق میں سر کٹا کر عبدیت کو معراج بخشی تو خدا نے بھی حسین ؑ کا نام لازوال کردیا،حسین ؑ نے زیر خنجر خدا کا ذکر بلند کیا تھاخدا نے حسین کا ذکر کائنات کی وسعتوں پر پھیلا دیا،آج آزادی و حریت کا راز پالینے والی ہر قوم پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہمارا حسین ؑ ہے ،مقبوضہ کشمیر میں عزاداری پر پابندی اور جلوسوں پر فائرنگ و شیلنگ کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے، افغانستان میں عزاداری پر مسلسل حملوں کے پیچھے بھارتی سازش کارفرما ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواسہ رسول الثقلین حضرت امام حسین ؑ اور انکے جانثاروں و جگر پاروں کی میدان کربلا میں دی جانے والی قربانی کی یاد میں 10محرم کو دنیا بھر میں منائے جا نے والے ’’یوم عاشورہ ‘‘ کے موقع پر اپنے پیغا م میں کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اسلام سے پہلے آنے والے ادیان اور شرائع انہیں لانے والے انبیاء کی زندگی کے فورا بعد ہی شیطانی سازشوں سے تبدیل کردیئے جاتے رہے۔لیکن کامل و اکمل دین اسلام کی محافظت کا ذمہ تو خدا نے خود لیا ہوا تھا لہذا جب ایسا ہی وار نبی کریم ؐ کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد ہی اسلام پر ہوا اور یزید جیسا فاسق و فاجر تخت اسلامی پر متمکن ہونے میں کامیاب ہو گیاشریعت محمد ی ؐ کا کھلم کھلا مذاق اڑانے لگا تو فرزند رسول ؐ امام حسین ؑ ارشاد خداوندی کی عملی تصویر بن کر دین و شریعت پر حملے کی راہ میں حائل ہو گئے ۔

انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول ؐ نے یزید کی بیعت کا انکار کرکے قیام کرتے ہوئے اپنے خطبات کے ذریعے دنیا کے سامنے واضح کیا کہ کہ اسلام اور قرآن میں تحریف کے سامنے سر جھکا لیناذلت میں گرنے کے مترادف ہے۔جس حسین ؑ کے بارے میں اللہ کے نبیؐ نے ’’حسین منی و انا من الحسین ‘‘ کہہ کر شریعت محمدی ؐ کے دوام کو وابستہ کیا تھاکہ تا ابد دین مصطفوی ؐحسین ؑ کی قربانی کی سبب زندہ رہے گا وہ حسین کیسے دین میں تحریف کے سامنے سر جھکانے کی ذلت قبول کرتا؟حسین ؑ نے دین کی بقا کی خاطر عزت کے ساتھ شہادت کوذلت کی زندگی پر ترجیح دی ۔امام حسین ؑ نے اپنے جوان بھائی عباس کے بازو دیئے اکبر سے نوجوان کا جگر دیا،قاسم جیسے بھتیجے کی لاش کی پامالی دیکھی ،۹بھائیوں کے لاشے اٹھائے ، حتی کہ3دن کے پیاسے ششماہے بیٹے کے گلے پر تیر چلتا دیکھا اور پھر اپنا سر بھی سجدہ خالق میں کٹا دیا۔یزید اسلام و قرآن میں تحریف کرنا چاہتا تھا امام حسین ؑ کے کٹے ہوئے سر نے نوک نیزہ پر کلام خداکی تلاوت کرے یزیدیت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔حفاظت دین کی خاطر ابد تک لازوال رہنے والی قربانی کا یہ منظر دیکھ کر سلطان الہند معین الدین چشتی اجمیری پکار اٹھے کہ دین بھی حسین دین پناہ بھی حسین ہیں اور حق تو یہ ہے کہ بنائے قلعۂ توحید لا الہ بھی حسین ؑ ہیں ۔امام حسین ؑ نے اسلام کے گرد اپنی قربانی سے ایسی فصیل قائم کردی کہ قیامت تک کوئی اسلام کے احکام کو بدلانے کی جرات نہ کرسکے گا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام حسین ؑ نے اپنی قربانی سے دنیا کو یہ بتا دیا کہ نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے نواسے کے ساتھ بے مثل محبت محض رشتے کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس وہ عظیم کردار نبھانے کے سبب تھی جو دین اسلام کی بقاء کا سبب بن گیا۔انہوں نے کہا کہ تمام شیعہ سنی کتب گواہ ہیں کہ امام حسین ؑ کی ولادت کے موقع پر نبی کریم نے گریہ کرکے واقعۂ کربلا کی پیش گوئی فرمائی تھی آج نواسہ رسول الثقلین ؐ حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کو1378 برس گزر چکے ہیں ذکر حسین ؑ میں ایسی تازگی ہے کہ ہر محرم میں ایسے لگتا ہے جیسے نبی کے لاڈلے نے آج ہی مدینہ چھوڑا ہے اور حسین ؑ آج ہی شہید ہوئے ہیں ہرمحب دین و انسانیت کی آنکھ دوش نبیؐ کے سوار جنت کے سردار امام حسین ؑ کے غم میں اشکبار ہو جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721