10 فروری 1984:آغا حامد موسوی دینہ میں آل پاکستان شیعہ کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

قومی و سیاسی تقاضے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی بصیرت افروز حکمت عملی

ولایت نیوز شیئر کریں
تحریر: کاظم مہدی
مکتب تشیع کی نمائندہ جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ (ٹی این ایف جے) کا یہ خاصا ہے کہ اسنے ہر دور میں اپنے قیام کے بنیادی مقاصد اوررہنما اصولوں کی پاسبانی و پاسداری کی اور ہر آن ملت تشیع کے دینی حقوق کے حصول اور دفاع کیلئے کوشاں رہی ہے۔ جب اور جہاں کہیں بھی ملت تشیع کے حقوق پرحملہ کر کے انہیں صلب کرنے کی کوشش کی گئی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اس سازش کی راہ میں آہنی دیوار ثابت ہوئی، اور ایسی کمال بصیرت اورحکمت سے ملت کے حقوق کا دفاع کیا کہ سازش کو ناکام بھی بنایا جبکہ اس دوران اسکے کسی بھی عمل یا فیصلہ و بیان سے فرقہ وارانہ عصبیت کی بوتک نہیں آئی۔ ضیاء الحق کے مارشل لائی دور میں پولیس ایکٹ30 کی شق 3 میں ترمیم کے ذریعہ عزاداری کو محدود و مسدود کرنے کی سازش کی گئی تو اسکے جواب میں سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور ملت جعفریہ کے دینی و روحانی پیشوا آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے8 ماہ تک مسلسل جاری رہنے والی ملک گیر ایجی ٹیشن کے ذریعہ اس سازش کو ناکام بنایا اور حکومت سے ملت تشیع کے دینی حقوق عزاداری حسین ؑ کے حق کا پاسبان” موسوی – جونیجو معاہدہ” اسوقت کے وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ کے قائد محمد خان جونیجو سے تسلیم کروا کر قوم کے حوالے کیاجبکہ یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اس تحریک کے دوران جہاں ایک جانب قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے عزاداری کے حقوق کی صلبی کے خلاف جاری ایجی ٹیشن میں فرزندانِ قوم گرفتاریاں پیش کر رہے تھے، تودوسری جانب ملت فروش نام نہاد متوازی قیادت ضیاء الحق کے ریفرنڈم میں اسکی اتحادی بن کر کھڑی تھی۔
جولائی 1984 کی تاریخٰ پریس کانفرنس: جس میں آغا حامد موسوی نے ضیاء الحق کو عزاداری پر پابندی کے خاتمے کیلئے 3 ماہ کا الٹی میٹم دیا جس کے نتیجے میں اکتوبر 84 میں تاریخی حسینی محاز ایجی ٹیشن کا آگاز ہوا
جولائی 1984 کی تاریخٰ پریس کانفرنس: جس میں آغا حامد موسوی نے ضیاء الحق کو عزاداری پر پابندی کے خاتمے کیلئے 3 ماہ کا الٹی میٹم دیا جس کے نتیجے میں اکتوبر 84 میں تاریخی حسینی محاز ایجی ٹیشن کا آگاز ہوا
بعدازاں شریعت بل کے نام پروطن عزیز میں مخصوص گروہ کی بالادستی قائم کرکے دیگر مکاتب کو دیوار سے لگانے کا گھناونا منصوبہ تیار ہوا تو شیعہ جماعتوں میں سے کوئی اور نہیں بلکہ صرف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ وہ جماعت تھی جو اس بل کی آڑھ میں پوشیدہ سازش کو بھانپ کر اسکے راستے میں رکاوٹ بنی اور اسے یکسر مسترد کیا جبکہ دیگر نام نہاد شیعہ قائدین نے اس بل کو تسلیم کیا اوراس کی حمایت میں بیانات جاری کیئے، تاہم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے ضیائی حکومت ہو یا شریفی حکومت ، دونوں ادوار میں شریعت بل کے آڑھ میں ملک کو نظریہ اساسی سے ہٹانے کا منصوبہ ناکام بنایا۔
90 کی دہائی میں شیعہ دشمن ایجنڈے کے ذریعہ ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے ایک جانب پیپلز پارٹی (جسے اہل تشیع کی بڑی تعداد بالعموم غیر متعصب جماعت تصور کرتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کیلئے بہتر تصور کرتی تھی) کو سیاسی طور پر کمزور کرنے اور دوسری جانب ملت تشیع کو پاکستان میں اقلیت اور کمزور ثابت کرنے کیلئے فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کومتعارف کروایا گیا اور اپنے ایجنٹوں کو شیعہ کے نام پر ووٹ مانگنے کیلئے میدان سیاست میں اتارا، تو یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی تھی جس نے اس عمل کی بھرپور مذمت کی اور فرقہ و زبان کے نام پر ووٹ مانگنے کو وطن عزیز پاکستان کے نظریہ اساسی سے انحراف قرار دیاجبکہ ملت تشیع کو مدبرانہ اور بصیرت افروز الیکشن پالیسی دیکر اس سازش کو ناکام بنایا جس کے تحت فرقہ و زبان کے بجائے قومی خدمات اور دیگر مکاتب کے ساتھ ملت تشیع کے حقوق کو بھی یکساں طور پر تسلیم کرنے والے امیدواروں اور جماعتوں کے حق میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی تاکید کی، قوم نے اس پالیسی پر بھرپور عمل کیا اور اسطرح  چند نشستوں کی لالچ میں ملک بھر میں فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کو اقلیت ثابت کرنے کیلئے کوشاں کالی بھیڑوں کو ناکام بنایا۔
تاریخ گواہ ہے کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے جب بے نظیر بھٹو کی درخواست پرانتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی پالیسی دی اور اسے فتح نصیب ہوئی تو اس تعاون کے نتیجہ میں وجود میں آنے والی پیپلزپارٹی حکومت سے ملک بھر میں محرم کنٹرول رومز کے قیام کا اپنا دیرینہ مطالبہ منوایا جسکے ذریعہ محرم الحرام میں عزاداری کے پروگراموں کی اہمیت کو نہ صرف حکومت سے تسلیم کروایا بلکہ ا ن پروگراموں کو باقاعدہ سرکاری پشت پناہی حاصل ہوئی جبکہ یہ امر بھی واضح ہوا کہ محرم صرف دس دن تک نہیں بلکہ یکم محرم الحرام تا آٹھ ربیع الاول ایام عزا ئے حسینی ؑ جاری رہتے ہیں۔ہر سال محرم کی آمد پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے قائم ہونیوالے محرم کنٹرول رومز تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی انہی کاوشوں کا نتیجہ اور مطالبات کے ثمرات ہیں۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پرویز مشرف حکومت سے ملاقات کی تو 1997 میں سپریم کورٹ میں انسداد دہشتگردی کیلئے پیش کیئے گئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے ” موسوی امن فارمولہ "کے اہم ترین نکتہ کے مطابق وطن عزیز میں تشدد اور دہشتگردی کی آگ بھڑکانے والے گروپوں اور جماعتوں کو سرکاری طور پر کالعدم کرواکر پاکستان کی تاریخ میں پہلی با رحکومت سے تسلیم کروایا کہ دراصل ملک کا امن وامان تباہ کرنے والے دہشتگردگروپ کون ہیں اور انکی ملک دشمن سرگرمیاں کسطرح ملک و ملت کو نقصان پنہچا رہی ہیں، جبکہ پابندی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار انٍ گروپوں کے خلاف باقاعدہ کریک ڈاون کا آغاز ہوا۔آج تک کالعدم جماعتوں کے خلاف ہونیوالے مختلف سیکیورٹی اداروں کے آپریشن، موسوی امن فارمولہ کی تجویز کردہ نکات کے عین مطابق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان کی سالمیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے1997 میں نافذ کردہ انسداد دہشتگردی ایکٹ ہو، 2014میں تیار کی گئی قومی سلامتی پالیسی برائے 2014-2018 ہو یا پھر تمام جماعتوں کا تائید شدہ نیشنل ایکشن پلان ،ان تمام کے نکات کی آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے 1997 میں پیش کیے گئے موسوی امن فارمولے کے نکات سے حیران کن حد تک مماثلت کی وجہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی قومی و سیاسی محاذ پر عصبیت سے پاک اور حب الوطنی سے بھرپورجد وجہد ہے جبکہ ضرب عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز کی صورت میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی انہی کاوشوں، ملاقاتوں اور مطالبات کا نتیجہ ہے جن کے ذریعہ حکومتوں کو انسداد دہشتگردی کیلئے ایسا منطقی اور عملی بیانیہ فراہم کیا گیا کہ جو نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ دنیا بھر میں جاری دہشتگردی کے انسداد کیلئے قابل عمل قرار پایا اور اسی لیئے اس بیانیہ کو قومی و بین الاقوامی سطح پر یکساں پزیرائی حاصل ہوئی جبکہ بعد ازاں دہشتگردی کی مذمت کیلئے اقوام متحدہ نے بھی اسی بیانیہ کو اختیار کیا۔
نومبر 2013کے دوران روز عاشور راولپنڈی میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی جسکا مقصد ایک طرف تو فرق و مکاتب کو باہم الجھاکر امن و امان تباہ کرنا تھا تو دوسری طرف یہ عزاداری امام حسینؑ کے خلاف ایک گہری چال تھی۔ جسکے بعد ملک کے طول و عرض میں عزاداری کے جلوسوں کے خلاف حکومتی انتظامیہ و الیکٹرانک و پرنٹ میڈیاسمیت ہر اہم فورم پر دشمنان دین و وطن کی جانب سے پروپیگنڈہ کیا جانے لگا۔ اس تمام سازش کو بھانپتے ہوئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ سانحہ عاشورہ فرقہ واریت نہیں بلکہ دہشتگردی کی سوچی سمجھی سازش تھی اور یہ واقعہ ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے، جبکہ سانحہ عاشور کے فوری بعد اسلام آباد میں مرکزی امامبارگاہ جی سکس کے باہر قومی و بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں دیا گیا یہ بیان بھی مکتب تشیع کی تاریخ کا حصہ ہے جسمیں قائد ملت جعفریہ آغا موسوی نے دشمنان دین و وطن کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی مائی کے لعل کو عزاداری میں رخنہ ڈالنے یا جلوسہائے عزا کو روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہی حالات کے پیش نظر وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا جسکے نتیجہ میں تحریک کے نمائندہ وفد نے ن ۔لیگ کے اسوقت کے وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سانحہ راولپنڈی جسمیں مساجد و امامبارگاہوں کو شدید نقصان پنہچانے ا اور اسکے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے علاوہ جلوسہائے عزا کی سیکیورٹی کا معاملہ بھی اٹھایا گیاجسکے نتیجہ میں حکومت سے ملک بھر میں آمدہ چہلم امام حسین ؑ کے جلوسوں کی عزت و احترام اور حسب روایت برآمدگی کی یقین دہانی کروا کر دشمنانِ عزائے حسینؑ کی جانب سے جاری پروپیگنڈے کو ناکام کردیا گیا اور اسکے نتیجہ میں ملک بھر میں تمام جلوسہائے عزا اپنے مقررہ راستوں پر پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت اور عزت و وقار کے ساتھ برآمد ہوئے ۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے اسی سیاسی و قومی بصیرت پر مبنی پالیسی کے سفر میں اب ذرا ماضی کے جھروکوں سے نکل کر حالات حاضرہ کی جانب آتے ہیں،اور لاہور میں17 ستمبر 2017 کو منعقد ہونیوالے NA-120 کے انتخابات میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ صوبائی کونسل پنجاب کی جانب سے اختیار کی گئی الیکشن پالیسی کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ امر واضح و عیاں ہے کہ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے،9 ڈویژنز اور تین درجن اضلاع پر مشتمل صوبہ پنجاب کی صوبائی اور قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جسکے مطابق قومی اسمبلی کی 342نشستوں میں سے 183صوبہ پنجاب کی ہیں جبکہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 371 ہے ۔ شریف خاندان جنرل ضیاء الحق کے دور میں پہلی بار اس صوبہ کے حکمرانو ں کی حیثیت سے متعارف ہوا اور میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلی ٰ مقرر کیا گیاجس سے شریف خاندان کے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز ہو ا جو تقریبا ہر دور میں کم از کم صوبہ پنجاب کی حد تک نہایت کامیابی سے جاری رہا۔پنجاب کا دارالخلافہ لاہور وہ مقام ہے جہاں پر موجود ایوانان اقتدار میں صو بہ کی گورننس سے متعلق تمام تر پالیسیاں وضع کی جاتی ہیں اور یہیں سے صوبہ بھر میں انکا نفاذکیا جاتا ہے جسکا اطلاق پاکستان کی کل آبادی کی اکثریت پر ہوتا ہے ۔ جو عناصر ، گروپ یا جماعتیں پنجاب حکومت کے قریب رہیں، صوبائی حکومتی پالیسوں کی تشکیل اور نفاذ پر بھی اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال لاہورکے علاقے ماڈل ٹاون میں مکتب تشیع کے نام پر قائم ایک جامعہ ( شیعہ حوزہ) ہے جو 1960 کی دہائی میں لاہور میں قائم اور منظم کیا گیا ۔ اس ادارے نے جہاں مذہبی فرنٹ پر کام کیا وہاں صوبہ پنجاب اور بالخصوص لاہور میں سیاسی محاذ پر بھی حکومتی ایوانوں کے ساتھ متحرک رہا۔جہاں اہل تشیع کی اکثریت ایک طویل عرصہ تک مسلم لیگ و شریف خاندان کی ماضی میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق سے وابستگی و قربت کے باعث ” ن۔لیگ” سے دور رہی، وہاں اس ادارے نے صوبائی انتظامی فورموں پر ملت تشیع کی نمائندگی کے خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت سے گہرے روابط قائم کیئے اور اداروں میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے نمائندگان اور ہم فکر عناصر آج پنجاب کی صوبائی حکومت کے زیر اثر و زیر انتظام قائم تمام اداروں بشمول علماء بورڈ ، صوبائی ، ڈویژنل و ضلعی امن کمیٹیوں، اوقاف کی کمیٹیوں سے لیکر وزارت اعلیٰ کے مشیر ان کے عہدوں تک ، ہر اہم ادارے میں شامل اور ہر قابل ذکر منصب پر براجمان نظر آتے ہیں جبکہ ملت تشیع کے نظریاتی بدن سے عقیدہ کی روح نکالنے اور مقصریت کے نظریات کو فروغ دینے میں بھی اس ادارے کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
دشمنان تشیع کی جانب سے بنیادی شیعہ عقائد میں مقصریت کا زہر گھولنے کا خطرناک سلسلہ شروع کیا گیاتو اسمیں وقت گزرنے کے ساتھ تیزی آتی گئی جس میں اصلاح کے نام پر ولایت امیرالمومنین ؑ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، عزادار ی کوغیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، شعائر عزاداری کے خلاف بیانات داغے گئے، ماتمیوں اور عزاداروں کو جاہل، چرسی و بھنگی قرار دیا گیا ، ذاکرین کو گلوکار اور مراثی کہا گیا ،مزارات مقدسہ اور صاحبان فقر اولیائے کرام کی تضحیک کی گئی، اور مجالس عزا پڑھنے اور عزاداری کو عبادت تصور کرنے والے علماء و ذاکرین پر بیرونی ایجنسیوں کا ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ مقصریت کا یہ پرچار ایک عرصہ تک تونظریات کی تبلیغ تک محدود رہا تاہم کچھ مدت سے سے ا س میں شدت اور جارحیت کا پہلو بتدریج نمایاں ہوتا گیا ، جسکے تحت نہ صر ف ولا و عزا کے پرچارک عزاداروں ، ماتمیوں اور خوش عقیدہ علماء و ذاکرین کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی جانے لگی بلکہ جہاں کہیں موقع ملا ان پر باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے حملے بھی کیئے گئے۔ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب اس سازش کو ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے مقصرین نے حکومت پنجاب کے اداروں میں موجود اپنی مظبوط جڑوں کا فائد ہ اٹھانے کا فیصلہ کیا، چنانچہ علماء بورڈ ز اور دیگر انتظامی کمیٹیوں میں شیعوں کیلئے مخصوص نشستوں پر براجمان اپنے ہم فکر عناصر کے ذریعہ بانیانِ مجالس و جلوس کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، علماء و ذاکرین پر مجالس عزا سے خطاب کرنے پر ناروا پابندیاں و زبان بندیاں لگوائی جانے لگیں اور انکے خلاف توہین کے جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں اپنے زیر اثر لانے اور صوبہ بھر میں مجالس عزا کے سلسلہ کو متاثر کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں جنکا سلسلہتاحال جاری ہے۔ ان حالات میں ملت تشیع کی حقیقی نمائندہ ہونے کے سبب عزاداران، ماتمیان، علماء کرام اور ذاکرین عظام غرض کہ تمام خوش عقیدہ مومنین کی نظریں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب لگی ہوئی ہیں کہ ان تمام مسائل سے انہیں نکالنے کے لیے حکومت پنجاب سے رابطہ استوارکر کے عملی اقدامات کرے ۔اس حوالے سے حال ہی میں نارتھمپٹن، برطانیہ میں منعقد ہونیوالی یورپ کی نمائندہ مجلس عزا کے اختتام پرعلماء و ذاکرین و عزادارا ن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ ، اورلاہور میں منعقد ہونیوالی خوش عقیدہ علماء و ذاکرین اور عزاداران و ماتمیان کی ولایت عظمیٰ کانفرنس کا اعلا میہ ملت تشیع کی انہی خواہشات اور امیدوں کے مظاہر ہیں جنکی تکمیل کیلئے اسکی نظریں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب لگی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب صوبائی اداروں سے اپنی طویل وابستگی اور اثر و رسوخ کے سبب قوم کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں نے صاحبانمنصب و اقتدار کی آنکھوں پر اپنی چاپلوسی کی پٹی باندھ کر انہیں ملت تشیع کے حقیقی نمائندوں سے دور کر رکھا ہیجسکے باعث ان تک موثر رسائی انتہائی مشکل ہو چکی تھی۔
ایسے حالات میں حلقہ NA-120 کے الیکشن کا موقع آیا جب پنجاب میں حکومتی جماعت ن۔لیگ کے نمائندگان اور ایم پی ایز نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے دفتر آ کر لاہور میں حلقہ NA-120 کے انتخابات میں تعاون کے لیے ن۔لیگ کی انتخابی مہم کے عہدیداران اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے وفد کے مابین باقاعدہ میٹنگ کی درخواست کی ، ماضی کے رویوں کے پیش نظر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے ملاقات کے امکان کو مشروط رکھا گیا جسمیں شرط یہ تھی کہ تحریک کا صوبائی وفد اگر ملاقات کرے گا تو صرف ن۔لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت سے کریگا۔ "ن۔لیگ "کی جانب سے اس شرط کو قبول کیا گیا اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے وفد کی ملاقات مریم نواز شریف اور انکے رفقاء سے کروائی گئی جسمیں مریم نواز شریف کے ہمراہ سابق و حالیہ وزراء و مشیر موجود تھے جنمیں پرویز رشید، خواجہ احمد حسان، طلال چوہدری، دانیال عزیز، مصدق ملک، عظمیٰ بخاری اور دیگر شامل تھے جبکہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے5 رکنی وفدکی قیادت صوبائی صدر علامہ سید حسین مقدسی نے کی۔ اس ملاقات میں کھل کر تمام امور پر بات ہوئی اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے اہم ترین معاملات پر اپنا موقف اور مطالبات پیش کیئے ، جنمیں آمدہ محرم الحرام کے حوالے سے صوبہ بھر میں بہتر انتظامات اور کوارڈینیشن اور عزاداروں اور بانیان کو درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومتی محرم کنٹرول رومز اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے عزاداری سیل کے مابین رابطہ ، علماء و ذاکرین پر ناروا پابندیوں اور زبان بندیوں کا خاتمہ، عزاداروں کے خلاف جھوٹے مقدمات اور شیڈول فور میں بکنگ کا خاتمہ، اور حکومتی اداروں ، بشمول بورڈز،اور کمیٹیوں میں کالعدم اور غیرنمائندہ عناصر کے منفی کردار سمیت ان اداروں میں مکتب تشیع کو حقیقی نمائندگی دینے او ر مستقبل میں رابطہ کو بہتر بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کیلئے حکومت کی جانب سے درکار اقدامات سمیت دیگر مطالبات شامل تھے۔مسل لیگ ن کی قیادت نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جانب سے پیش کردہ تمام مطالبات سے اتفاق کیا اور انہیں تسلیم کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا جسمیں انتظامی کمیٹیوں اور اداروں میں شامل کرنے کے لیئے ملت کے حقیقی نمائندگان کے تقرر ی کیلئے نام بھی تجویز کیئے گئے جبکہ ان تمام فیصلوں کے بدلے NA-120 میں ن۔لیگی قیادت نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب کے وفد سے این اے 120 کے انتخابات میں تعاون کی درخواست کی۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ پاکستان میں ایک جمہوری پارلیمانی نظام قائم ہے جسکے تحت حکومتوں کا تعین و تقرر انتخابات کے ذریعہ ہی ممکن ہوتا ہے، جبکہ ملت تشیع کے افراد بھی اس ملک کے دیگر شہریوں کی طرح اپنے ووٹ کا حق قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ فرقہ و زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والی جماعتیں قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے دیئے گئے پاکستان کے نظریہ اساسی سے انحراف ہیں اور بقول قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی ، قومی خدمت کے بجائے فرقہ و زبان کی بنیاد پر انتخابی سیاست میں حصہ لینا قومی خود کشی اور ملک کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ،تو باقی ماندہ قومی جماعتوں میں سے یہ فیصلہ کرنا قطعا مشکل نہ تھا کہ کون سی جماعت ملت تشیع کے حقوق کی پاسداری اور درپیش مسائل کے حل کی نہ صرف یقین دہانی کروا سکتی ہے بلکہ اسکے ساتھ عملی طور پر اقدامات کرنا اسکے لیے کسی بھی دوسری جماعت کی نسبت زیادہ ممکن ہے۔ ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پنجاب نے این اے 120 کے الیکشن میں ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کیا جسے لاہور کے تمام تر خوش عقیدہ علماء و ذاکرین، عزاداران، بانیان، ماتمیان اور مومنین کرام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روز اول سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا مشن ومقصد ولا و عزا کا فروغ اور ملت کے حقوق کا تحفظ ہے اور یہ انہی عظیم ترین اہداف کیلئے کوشاں ہے تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکمت عملی میں تغیر و تبدل کیا جا سکتا ہے اوراسی حکمت و بصیرت کی تعلیمات ہمیں معصومین ؑ کی حیات طیبہ سے بھی ملتی ہیں جن کے مقاصد قوم اور اسکے حقوق کا تحفظ اور اصل پیغام توحید و رسالت و ولایت کی پاسبانی و پاسداری ہی تھے لیکن انکے حصول کیلئے حکمت عملی میں وقت کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا یہ خاصا ہے کہ اسنے کبھی کسی کا آلہ کار بنے بغیر صرف قوم ملت کے حقوق اور نظریات کیلئے کام کیا ہے اور ہمیشہ مولا علی ؑ کے فرمان کی روشنی میں اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے افضل جانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ملت فروش نام نہاد قائدین جنکے پاس ماضی میں باندھنے کیلئے دھوتی اور پہننے کے لیے جوتی نہ تھی آج بے بہا دولت اور اثاثوں کے مالک بن چکے ہیں وہاں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی اپنے اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آج بھی اسی زمین پر بیٹھ کر قوم کی قیادت اور تحفظ کر ر ہے ہیں جس پر روز اول براجمان تھے ۔یہی وجہ ہے کہ بدترین دشمن بھی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکی قیادت پر کسی قسم کی ایڈ اور مالی بدعنوانی یا کسی ذاتی مفاد کے حصول کا الزام لگانے کی جرات نہیں کرتا جبکہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں فقط تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسکے سربراہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے ہر دور میں اور ہر پلیٹ فارم پر ببانگ دہل یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ ملک میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اثاثوں کا آڈٹ کیا جائے تاکہ سب راز افشا ء ہوں کہ کون کسکا آلہ کار ہے اور کسے کہاں سے کیا کچھ دیا جا رہا ہے ، جبکہ اس آڈٹ کے آغاز کیلئے سب سے پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ خود کو رضاکارانہ طور پر آڈٹ پیش کرتی ہے اور ہر وقت اسکے لیے تیار ہے۔
اگر غور کیا جائے توآقائے موسوی کاخود کو اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو سب سے پہلے آڈٹ کیلئے پیش کرناآپکی ساڑھے تین عشروں پر محیط ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک،اور امانت و دیانت سے بھر پور جدو جہد پر بین دلیل ہے ،جبکہ یہ عظمتِ کردارانہونی نہیں بلکہ اپنے اجداد اور آقا و مولاؑ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے اسی فرمان ذیشان اور پاکیزہ سنت کی تاسی وپیروی ہے جس کے تحت آپ ؑ نے کوفہ میں داخل ہوتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے کوفہ والو، تمہارے شہر میں داخل ہوتے ہوئے یہ تین اشیاء علی ؑ کا اثاثہ ہیں، تمہارے شہر سے جاتے ہوئے اگر کوئی چوتھی چیز تم علی ؑ کے پاس دیکھو تو سمجھ لینا کہ علی ؑ نے خیانت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721