اسد عاشورہ بلتستان

بلتستان میں اسد عاشورہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، لاکھوں عزاداروں کا پرسہ

ولایت نیوز شیئر کریں

سکردو(ولایت نیوز) بلتستان و گلگت کے طول و عرض میں نواسہ رسول (ص) کی عظیم قربانی کی یاد میں 31 جولائی کو اسد عاشورہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔مجالس عزا منعقد ہوئیں ماتمی جلوس نکالے گئے جن میں مسلمانوں نے بلاتقفریق شرکت کرکے نواسہ رسول کے حضور خراج عقیدت پیش کیا۔
برصغیر کے مٰؒختلف علاقوں میں ہندوستانی تقویم کے مطابق یوم عاشور 18 جیٹھ اور 10 ہاڑ کے ایام میں منایا ججاتا ہے اسی طرح شمالی علاقہ جات میں مقامی تقویم کے مطابق گرمی کے ایام میں شہادت حسین ؑ کی عزائی مجالس کا انعقاد کرکے سبط رسول (ص) امام حسین کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے چونکہ محرم کا واقعہ شمسی تقویم میں ماہِ اسد میں پیش آیا تھا، چنانچہ کشمیر میں محرم کے علاوہ اسد میں بھی ایامِ عزاء منانے کے رواج نے فروغ پایا۔ یوں یہ سلسلہ کشمیر سے چل کر بلتستان آیا اور قریباً ایک صدی سے یہ عشرہ اسد تمام بلتستان میں مذہبی جوش و جذبے اور دینی حمیت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

اسد عاشورہ بلتستان
اسد عاشورہ بلتستان

اہل بلتستان کے رگوں میں خون حسینی دوڑ رہا ہے یہ لوگ نام حسینؑ پر سب کچھ فدا کرنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔تعجب اور عقیدت کی انتہا یہ ہے کہ بلتستانی اہل معرفت لوگ سال بھر میں ہر روز نماز صبح کے بعد ایک مرثیہ پڑھ کرکربلا والوں پر چند قطرے آنسو بہانا فرض عین سمجھتے ہیں ۔نہ صرف مرد حضرات ایسا کرتے ہیں بلکہ خواتین کی بھی سال بھر یہی روش رہتی ہے۔
بلتستان میں جلوس عاشورا اور جلوس اسد کوترویج دینے اور پھیلانے میں علامہ سید علی الموسوی اعلی اللہ مقامہ نے نمایاں کردار ادا کیا ان سے پہلے صرف کھرگرونگ ،گنگوپی،سکمیدان،چھومیک اور سزگرکھور کے عوام ہی شرکت کرتے تھے۔ان کی تبلیغی کاوشوں کے نتیجے میں آج ماہ اسد میں ۲۵ سے زیادہ جلوس عزا نکالے جاتے ہیں۔
خاندان اہل بیت اطہار علیہم السلام سے شیعیان بلتستان کی محبت کا یہ عالم ہے کہ یہ لوگ نواسہ رسول مظلوم کربلا سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری بے حد عقیدت و احترام سے سال میں دو بار مناتے ہیں۔ ایک مرتبہ ماہ محرم الحرام میں اور دوسری مرتبہ شمسی ماہ اسد میں۔ عقیدت کی حد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر لوگ اول سال سے ہی محرم کی مجالس کے لئے تبرکات کا انتظام کر رکھتے ہیں لوگ آٹا وغیرہ جدا کر کے رکھ دیتے ہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجلس کے وقت یہ ختم ہوجائے اور ہم تبرک دینے سے محروم رہ جائیں۔
آداب عزاداری کے اعتبار سے بلتستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے یہاں شروع میں آداب مجلس ایرانی طرز کے تھے، بعد میں ان میں کشمیری روایات بھی شامل ہو گئیں۔ مجلس کی ابتدا درج ذیل فارسی اشعار سے ہوتی ہے
ازما سلام برتن صد پارہ حسین بر ہمراہان کشتہ و آوارہ حسین
بر خفتگان ماریہ و رفتگان شام آن اختران ثابت وسیارہ حسین
ایں خدمت وصال برایشان قبول باد صلوٰۃ بر رسول و بر آل رسول باد
برآں دو دست دادہ براہِ وفائے دوست عباس ؑ تشنہ کام جگر پارہ حسین ؑ
جب نوحہ خوانی اور ماتم اپنے عروج کو پہنچ جائے تومجلس کو ختم کروانے کی خاطر کوئی فارسی کے یہ کلام بلند آواز میں پڑھ لیتے ہیں۔
داد از قتل حسین ؑ بیداد از زہر حسینؑ
یوں اس کلام کے ختم ہونے پر ماتم تمام ہو جاتے ہیں اور دعاوزیارت ابا عبداللہ الحسین کے بعد مجلس ختم ہوجاتی ہے۔

اسد عاشورہ بلتستان
اسد عاشورہ بلتستان
اسد عاشورہ بلتستان
اسد عاشورہ بلتستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728