کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال

اللہ اپنے زائر سے پہلے حسینؑ کے زائر پر نگاہ کرتا ہے ،یوم عرفہ پرکربلا میں لاکھوں زائرین کا اجتماع

ولایت نیوز شیئر کریں

کربلائے معلی ( ولایت نیوز ) دنیا بھر سے آئے ہوئے  کئی ملین زائرین نےکربلائے معلی میں  مابین الحرمین یوم عرفہ کے اعمال ادا کئے اور دعائے عرفہ کی اجتماعی تلاوت کی ۔ کربلائے معلی کے شہر میں ہر جانب انسانی سروں کا سمندر نظرآرہا ہے ۔ یاد رہے کہ  نواسہ رسول الثقلین حضرت امام حسین ؑ کی زیارت روز عرفہ کے افضل ترین اعمال میں سے ہے یہی سبب ہے کہ کربلائے معلی میں اربعین ، عاشورہ ، زیارہ شعبانیہ کے ساتھ ساتھ یوم عرفہ بھی بہت عظیم الشان اجتماع ہوتا ہے ۔ اس دن کے مو قع پر کربلائے معلی کی زیارت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ۔حضرت امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ   ” خداوند متعال عرفہ کے دن اہل عرفات پہ عنایت فرمانے سے پہلے حضرت امام حسین(ع) کی قبر مطہر کے زواروں پر نگاہ فرماتے ہوئے ان کی حاجات پوری کر دیتا ہے اور ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے بعد اہل عرفات کی مشکلات حل فرمانے کے لیے عنایت فرماتا ہے .” (سید ابن طاوس ، اقبال الاعمال، ج3، ص 61.)

یوم عرفہ کی اس قدر فضیلت ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ ” جو شحض بھی یوم عرفہ  دعائے عرفہ کے مراسم کو جانے سے پہلے کھلے آسمان کے نیچے دو رکعت نماز خداوند متعال کی بارگاہ میں ادا کرے ، اپنی تمام خطاؤں اور گناہوں کا اعتراف کرے اور بارگاہ پروردگار سے مغفرت و معافی مانگے ؛ خداوند متعال نے جو کچھ اہل عرفات کے لیے مقدر فرمایا ہو، اس شحض کو بھی عطا فرمائے گا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دے گا.(سید ابن طاووس ، اقبال الاعمال، ص67)

کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال

حضرت امام صادق (ع) نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے : جب عرفہ کا دن ہوتا ہے ،(7) خداوند متعال امام حسین (ع) کی قبر مطہر کے زواروں پر نظر کر کے فرماتا ہے :  ” اس حالت میں( اپنے  وطنوں کو) واپس جاؤ کہ تمہارے گذشتہ گناہ میں نے معاف کر دیے ہیں اور یہاں سے واپس لوٹنے کے دن سے ستر دنوں تک تم میں سے کسی ایک کا گناہ بھی نہیں لکھوں گا. ” (شیخ طوسی ، مصباح المتہجد، ص 715)

ایک معتبر حدیذ میں رفاعہ سے نقل ہوا ہے کہ ” حضرت امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا:
کیا اس سال حج پر گئے تھے ؟میں نے عرض کی : میں آپ پر قربان ہو جاؤں میرے پاس حج پر جانے کی مالی طاقت نہیں تھی لیکن عرفہ کے دن حضرت امام حسین(ع) کی قبر مطہر کے پاس (کربلا میں) تھا .فرمایا: اچھا کام کیا ہے ، پھر امام حسین کی زیارت کی فضیلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ حج کو چھوڑ دیں گے ، تمھارے لیے ایک حدیث بیان کرتا جسے سننے کے بعد ہر گو تم امام حسین کی قبر مطہر کی زیارت ترک نہ کرتے، پھر فرمایا:
” میرے والد بزرگوار نے مجھے خبر دی کہ جو شحض بھی امام حسین(ع) کی قبر مطہر کی زیارت کے لیے چل پڑے اور اس حال میں ہو کہ اس امام کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور تکبر نہ رکھتا ہو تو ایک ہزار فرشتے دائیں طرف سے اور ایک ہزار فرشتے بائیں طرف سے اس کے ہمراہی(ہم سفر)
ہو جاتے ہیں اور اس شخص کے لیے ایسے ہزار حج اور ہزار عمرے کاثواب لکھ دیا جاتا ہے جو پیغمبر خداﷺ کے ہمراہ یا آنخصرت کے وصی کے ساتھ انجام دیے گئے ہوں۔(شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان-دعائے عرفہ- ص 240)

حضرت امام صادق (ع) نے بشیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے بشیر! جب تم میں سے کوئی ایک دریائے فرات کے پاس غسل کرے اور پھر امام حسین(ع) کی قبر مطہر کی زیارت کے لیے جائے البتہ اس حال میں کہ اس امام عالیمقام کے حق کا علم و عرفان (معرفت) رکھتا ہو ، اس کے ایک ایک قدم کے بدلے میں خداوند متعال ایک سو مقبول حج ، ایک سو مقبول عمرے اور مرسل نبی (ع) کی ہمراہی میں ایک سو جنگوں کا ثواب منظور فرماتا ہے .  پھر امام صادق(ع) نے مزید فرمایا:
اے بشیر! سنو اور ان تک پہنچاؤ جن کے دل اسے قبول کرنے کی ظرفیت و استعداد رکھتے ہوں، کہو:” جو شخص عرفہ کے دن امام حسین(ع) کی زیارت کا شرف پا لے وہ اس کی طرح ہے جس نے عرش پر خدا وند متعال کی زیارت کا شرف پایا ہو.”  (شیخ صدوق، کامل الزیارات، ترجمہ محمد جواد ذہنی تہرانی،تہران، پیام حق، 1377، ص 568.)

کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
یوم عرفہ :کربلائے معلی کے کوچہ و بازار میں زائرین کا ہجوم
یوم عرفہ :کربلائے معلی کے کوچہ و بازار میں زائرین کا ہجوم
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال
کربلائے معلی میں یوم عرفہ کے اعمال

کربلا آئے ہوئے زائرین نے جہاں عرفہ کے اعمال ادا کئے وہاں امام حسین ؑ کی بارگاہ میں ان کے سفیر حضرت مسلم ابن عقیل ؑ کی شہادت کا پرسہ بھی پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721