دہشتگردی آمریت کا تحفہ اور ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے ۔حامد موسوی 

ولایت نیوز شیئر کریں

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماء بورڈ قائد تحریک نفاذ فقہ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے گذشتہ شب لاہور میں سگیاں پل کے قریب ٹرک دھماکے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی کو ضیا ء دور آمریت کا تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاراچنار ، کوئٹہ ، کراچی میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے پے در پے سانحات کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ دہشتگردوں نے لاہور میں کاروائی کر کے حکمرانوں کی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں نا اہلی اور غفلت کا بھانڈا پھوڑ دیا ، بچے کھچے دہشتگردوں کو نابود کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی ہر شق پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ، کالعدم گروپوں اور انکے سرپرستوں کو آہنی شکنجے میں جکڑا جائے، آپریشن رد الفساد اور خیبر 4کی کاروائیوں کو مزید فعال بنایا جائے ، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں،دہشتگردوں اور مشکوک عناصر پر کھڑی نظر رکھیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیمی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

آقای موسوی نے باور کرایا کہ پاکستان پر مسلط ہوکر دہشتگردی، ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کی نہ کٹنے والی فصل کاشت کرنے والے ڈکٹیٹر کے بعد دوسرے ڈکٹیٹر نے نائن الیون کے بعد پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار دلوایا جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے دہشتگردی کے اڈے ہیں جہاں پلنے والے دہشتگرد موقع پاتے ہی پاکستان میں کاروائی کر ڈالتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے باوجود دہشتگردی کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ایسے عناصر موجود ہیں جنہیں عالمی سر غنے اور بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔

آقای موسوی نے کہا کہ اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار مسلح افواج کے جوان ، رینجرز اور پولیس اہلکار لائق صدتحسین ہیں جنہیں قوم سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہ دہشتگردی کیخلاف عملی اقدامات کیلئے افغانستان کیساتھ بھی فوجی تعاون کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ وہاں موجود دہشتگردوں کیخلاف کاروائی کی جاسکے نیز سرحدوں پر باڑ لگانے اور چیکنگ سخت کرنے کا کام بھی جاری ہے ۔انہوں نے کہ یہ بات سب کو ذہن نشین رکھنی ہو گی کہ جب تک دشمن قوتیں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر تی رہیں گی اس وقت تک پاکستان امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا ۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دہشتگردی کے سانحات میں جہاں قیمتی جانیں ضائع ہوئی وہاں مالی نقصانات بھی اٹھانا پڑے، شہریوں میں خوف و ہراس اور وطن کا تقدس بھی مجروح ہوا علاوہ ازیں ملکی معشیت کے منصوبوں کو بھی ضرر پہنچا لہذا وسیع تر قومی مفاد اور ملکی بقا ، سلامتی اور استحکام کا تقاضا ہے کہ حکمران ، سیاستدان اور عوام ذاتی ، سیاسی اور جماعتی مفاد سے بالا تر ہو کر دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوں تا کہ عساکر پاکستان کا دہشتگردی کیخلاف آپریشن جلد منطقی انجام کو پہنچے اور ملک امن کا گہوارہ بن سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721