شاہ اسماعیل صفوی

صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل اول

ولایت نیوز شیئر کریں

تحریر: ابو زیاف

صفوی سلطنت کا بانی شاہ اساعیل اول 17 جولائئ 1487ء کو پیدا ہوئے ۔اور تیرہ سال کی عمر میں  پورے ایران کا شہنشاہ بن گئے اور ایران کو ایک نئی شناخت دی ۔ شاہ اسماعیل اول نے پہلی بار مکتب اہلبیت کو ایران کا سرکای مذہب قرار دیا۔

شاہ اسماعیل اول امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزند حمزہ کی نسل سے تھے۔

شاہ اسماعیل کی فوج کو "قزلباش”  کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسماعیل کے باپ حیدر نے اپنے پیروؤں کے لئے سرخ رنگ کی ایک مخصوص ٹوپی مقرر کی تھی جس میں 12 اماموں کی نسبت سے 12 کنگورے تھے۔ ٹوپی کا رنگ چونکہ سرخ تھا اس لئے ترکی میں ان کو قزلباش یعنی سرخ ٹوپی والے کہا گیا۔

تیموریوں کے زوال کے بعد سولہویں صدی کے آغاز میں ایران تقریباً دس چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ ان میں سب سے طاقتور حکومت آق قویونلو ترکمانوں کی تھی اور تبریز سے دیار بکر تک کا علاقہ ان کے قبضے میں تھا۔ شاہ اسماعیل جس وقت تخت پر بیٹھا تو اس کی عمر اپنے ہمعصر بابر کی طرح صرف تیرہ سال تھی لیکن اس نے کم عمری کے باوجود حالات کا مقابلہ غیر معمولی ذہانت اور شجاعت سے کیا۔ باکو اور شیروان کو فتح کرنے کے بعد شاہ اسماعیل نے 1499ءمیں تبریز پر قبضہ کرکے آق قویونلو حکومت کا خاتمہ کردیا۔

1503ء تک اسماعیل نے جنوب میں شیراز اور یزد تک، مشرق میں استرایار تک اور مغرب میں بغداد اور موصل تک اپنی سلطنت کی حدوں کو بڑھالیا۔ ہرات میں تیموری حکمران حسین بائیقرا کے انتقال کے بعد شیبانی خان، ہرات اور خراسان پر قابض ہوگیا تھا۔ 1510ء میں مرو کے قریب طاہر آباد میں شیبائی خان اور اسماعیل میں سخت جنگ ہوئی جس میں ازبکوں کو شکست ہوئی اور شیبائی خان مارا گیا۔ ازبکوں کی شکست کے بعد خراسان بھی اسماعیل کے قبضے میں آگیا۔اب وہ ایران، عراق اور شیروان کا بلا شرکت غیرے مالک ہوگیا تھا اور اس کی طاقت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی۔

ایران کی زبان اگرچہ فارسی تھی لیکن آذربائیجان کی اکثریت ترکی بولتی ہے چنانچہ شاہ اسماعیل کی زبان بھی ترکی تھی۔ وہ ترکی زبان کا شاعر بھی تھا اور خطائی تخلص رکھتا تھا جس سے اس کی عاجزی بھی جھلکتی تھی۔ اس کے اشعار میں تصوف کا رنگ اور اہل بیت کی محبت پائی جاتی ہے اور ترکی زبان کی تصوف والی شاعری میں اس کو اہم مقام حاصل ہے۔ استنبول سے اس کا ترکی دیوان بھی شائع ہوا۔

شاہ اسماعیل کی قائم کردہ صفوی سلطنت 2 صدیوں تک قائم رہی ۔

شاہ اسماعیل اول آدھی دنیا کو فتح کرنے اور تاریخی کارنامے سر انجام دینے کے بعد37 سال کی عمر میں 23 مئی 1524 میں انتقال کر گیا انہیں اردبیل میں دفن کیا گیا اور شاہ طہماسپ اول ان کے جانشین مقرر ہوئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3721