بڑی طاقتیں دنیا کو طبقاتی بنیادوں پرتقسیم کرنے کی پالیسی ترک کریں ، کشمیروفلسطین کے مسائل مشرقی تیمور ،جنوبی سوڈان کی طرح حل کروائیں۔حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

کوئٹہ میں گزشتہ دو دنوں کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ایس پی مبارک شاہ اچکزئی اور دیگر  پولیس افسران، اہلکاروں کی شہادتوں کے سانحات کالعدم گروپوں پر حکومتی گرفت ڈھیلی ہونے کی نشاندہی ہے
حضرت امام جعفر صادق ؑ وارث علم نبی ؐ،مروج دین و شریعت اور سرچشمہ علم و ولایت ہیں۔قائد ملت جعفریہ کا عشرہ صاد ق آ ل محمد ؐکی دینی نشست سے خطاب

اسلام آباد (ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ،قائدملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے بڑی طاقتوں پر زوردیا ہے کہ وہ دنیائے انسانیت کو طبقاتی بنیادوں پرتقسیم کرنے کی پالیسی ترک کریں ،اگر اقوام متحدہ بڑی بڑی این جی اووز اور عالمی ادار ے چاہیں تو کشمیروفلسطین کے مسائل وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کرواسکتے ہیں کیونکہ مشرقی تیمور ،جنوبی سوڈان ،اسکاٹ لینڈکے مسائل اگر حل ہوسکتے ہیں تو یہ مسائل بھی لا ینحل نہیں لیکن بڑی طاقتیں ایسا نہیں چاہتی کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کشمیر وفلسطین کے مسائل کا حل سرمایہ دارانہ نظام کی بقاء اور ہتھیاروں کی صنعتوں کو فروغ دینے والی قوتوں کیلئے پیغام اجل ہے،کوئٹہ میں گزشتہ دو دنوں کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ایس پی مبارک شاہ اچکزئی اور دیگر  پولیس افسران، اہلکاروں کی شہادتوں کے سانحات کالعدم گروپوں پر حکومتی گرفت ڈھیلی ہونے کی نشاندہی ہے لہذا نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عملدرآمد کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے ممنوعہ گروپوں کے مگر مچھوں کو آہنی شکنجے میں جکڑا جائے ،حضرت امام جعفر صادق ؑ وارث علم نبی ؐ،مروج دین و شریعت اور سرچشمہ علم و ولایت ہیں جنہوں نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کیلئے عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی جسکی وجہ سے اسلامی دنیا علم کا گہوارہ بن گئی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو عالمی عشرہ صادق آل محمد ؑ کی پانچویں دینی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آقای موسوی نے باورکرایا کہ عالمی سرغنے اور یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ عالم بشریت کیلئے خطرہ ہے،اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے بھارتی حکمرانوں نے سیکولرازم ملک ہونے کے دعوے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں کیونکہ بھارت میں درجنوں آزادی کی تحریکیں کام کررہی ہیں ، اقلیتوں کا جینا دوبھر ہے،بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام گز شتہ70سال سے حق رائے دہی کیلئے کوشاں ہیں ،کمانڈابراہیم وانی اور ان کے جانشین سمیت مجاہدین کشمیر کی بھارتی فورسسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے تحریکِ آزادی کشمیر نے نئی انگڑائی لی ہے جس سے تحریک حریت میں مزید تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مظلومین کشمیر کی پاکستان کیساتھ اس جذبہ محبت کے باوجود کیا بھارتی حکمران ہوش کے ناخن نہیں لیں گے ؟اٹوٹ انگ کی رٹ لگانے والا ہندو بنیا ذہن نشین رکھے کہ مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا یہ کھیل ختم ہونیوالا نہیں جسکے پھیلاؤ کو روکنا سات لاکھ بھارتی افواج کیلئے ہر گز ممکن نہیں کیونکہ کشمیری مجاہدین 70ہزار کے قریب جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں،سینکڑوں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں ۔قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا کہ استعماری قوتیں اور اسکے پٹھو یاد رکھیں کہ آج پوری دنیا انتہا پسندی اور دہشتگردی کے شعلوں میں جل رہی ہے جسکی بنیاد ی وجہ مسائل کشمیر وفلسطین حل نہ کرنا ہے ۔آقای موسوی نے کہا کہ عرب ممالک اس قدر پیچھے چلے گئے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی چار جنگوں میں سے وہ کسی میں کامیاب نہ ہوسکے ، ان کی کمزوری کی وجہ سے آج مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی اور تین فلسطینی مسلمان اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن کر درجہ شہادت پر فائز ہوئے جو عالمی اداروں اور او آئی سی کیلئے سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بدولت امریکہ تنہا سپر پاور بن کر ابھرا،نائن الیون کے بعد پاکستان کو فرنٹ لائن پر لایا گیا جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں،70ہزار جانوں کے نذرانے پیش کیے ،اربوں ڈالر کے نقصانات برداشت کیے ،شہروں کے شہر اجڑوائے ، جس طرح یہود نے عربوں پر چار جنگیں مسلط کیں اسی طرح پاکستا ن پر ہنود نے چار مرتبہ جنگی جارحیت کی ، جس طرح مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین متنازعہ ہے اسی طرح جنوبی ایشیاء میں مسئلہ کشمیر متنازعہ ہے ۔آقای موسوی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کشمیروفلسطین کے دیرینہ مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہوئے بغیر عالمی امن کے قیام کا خواب ادھوا رہیگا۔قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ حضرت اما م جعفر صادق ؑ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کیلئے بے پناہ کوششیں انجام دیں ،مدینہ میں مسجد نبوی ؐ اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو جامعات میں تبدیل کردیا جہاں ہزاروں شاگردوں کی تربیت فرمائی ،ان جامعات کے مختلف مدارس میں لا تعداد افراد علوم و فنون اسلامی کے مختلف شعبہ جات میں درس و تدریس میں مصروف تھے ،صرف کوفہ کی مساجد میں امام جعفر صادق ؑ کے حوزہ علمیہ سے منسلک ہزار ہا طلاب فقہ اور معروف علوم اسلامی میں مصروف تھے جو امام ؑ کے بیانات،فرمودات یاد کرتے اور انکے بارے میں تحقیق اور بحث و تمحیص کرتے۔انہوں نے کہا کہ امام صادق ؑ کی عزت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربعہ کا منبع ہیں،آپ ؑ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حاکم ،محمد بن مسلم،ابان بن تغلب،ہشام بن سالم اور جابر بن حیان کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے جن میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا،الجبرا کے بانی ابو موسیٰ الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادق ؑ کی تعلیمات سے فیض حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ امام ابو حنیفہ کا مشہور فرمان ہے کہ میں نے جعفر ابن محمد ؑ سے زیادہ کوئی عالم نہیں دیکھا،آپ نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گزارے ہوئے وقت کے بارے میں کہا کہ اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا۔ آقائی موسوی نے کہا کہ اگرمسلمان دنیا میں باعز ت مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں باہمی اختلافات مٹا کر متحد ہونا ہوگا اور جنت البقیع،جنت المعلیٰ سمیت مشاہیر اسلام کی عظمت رفتہ بحال کرنی ہوگی،امام جعفر صادق ؑ کی علمی تحریک سے ٹوٹا ہوا ناطہ جوڑ کر سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے اقدامات کرکے مسلم امہ کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3727