ساجد کاظمی صدر ٹی این ایف جے آزادکشمیر

راہ کربلا پر چلنے والے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کوئی طاقت اور ظلم و جبر نہیں دبا سکتا،ساجد کاظمی

ولایت نیوز شیئر کریں

باغ (عمران سبزواری )تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۤازادکشمیر کے صدر سید  ساجد حسین کاظمی نے کہا ہے کہ راہ کربلا پر چلنے والے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کوئی طاقت اور ظلم و جبر نہیں دبا سکتا بھارتی گولیوں کے مقابلے میں کشمیر کے کوہ و دمن میں اتھنے والی لبیک یا حسین کی صدائیں قابض بھارتی حکومت کی شکست کی علامت ہے ۔13 جولائی کا دن مسلمانان کشمیر کے ولولوں اور جذبوں کو تروتازہ کردیتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی این ایف جے کے ریجنل دفتر میں تحریک اور ذیلی شعبہ جات کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خواجہ صغیر انصاری نے بھی خطاب کیا۔

یا د رہے کہ 13 جولائی 1931 ء تاریخ کشمیر  کا وہ خونین دن ہے جس روز ڈوگرہ پولیس نے بیک وقت 22 کشمیریوں کو شہید کرد یا تھا.

کشمیر میں انگریزوں کے مسلط کردہ ڈوگرہ راج کے خلاف جاری تحریک کے دوران  21جون 1931ء کو خانقاہ معلی سرینگر میں ایک عظیم و شان جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ، وہ جلسہ ” کشمیری عوام کے اتحاد اور یکجہتی کی علامت تھا” اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک نوجوان عبدالقدیر اٹھ کھڑا ہوا  کہ“مسلمانو!اٹھو”وقت” آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے یا داشتوں اور گزارشوں سے ظلم وستم میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور نہ ہی توہین قرآن پاک کا مسئلہ حل ہو گا۔ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤاور ظلم کے خلاف لڑو”۔ عبد القدیر کا تعلق پٹھان قبیلے سے تھا ۔اس کی آواز میں جادو تھا وہ کوئی سیاسی آدمی تھا نہ کوئی مذہبی رہنما لیکن اس کی تقریر میں ایک نیا عزم اور ولولہ تھا”۔

مہاراجہ حکومت نے عبد القدیر کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف رنبیر پینل کورٹ دفعہ 124(الف) 153کے تحت بغاوت اور غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ مقدمہ کی سماعت مسلسل9,8,7جولائی 1931ء کی ہوئی اور پیشی کی تاریخوں پر سنٹرل جیل سے عدالت تک عبد القدیر کو پولیس پیدل لے جاتی ہزاروں لوگ ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے تھے۔

عوامی رد عمل کے خوف سے آئندہ سماعت13جولائی کو جیل کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دن مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو ایک جم غفیر جیل کے باہر جمع ہو گیا اور ہر شخص مقدمہ کی کاروائی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔

اسی اثناء میں نماز کا وقت ہو گیا۔ ایک نوجوان نے دیوار کی بلندی پر چڑھ کر آذان دینے کی کوشش کی۔ ابھی اس نے اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ پولیس نے گولی چلا دی جو اس نوجوان کو لگی اور اس نے حیات جاوداں کی خلعت پہن لی ۔جذبہ ایمان سے سرشار دوسرانوجوان آگے بڑھا اور آذان دینا شروع کی۔ دوسری گولی آئی اور وہ بھی شہید ہو گیا۔ یکے بعد دیگر22فرزندان اسلام ڈوگرہ فوج  کے ہاتھوں جام شہادت پی کرہمیشہ کیلئے جاوداں ہوگئے ۔

مقبوضہ و ۤازادکشمیر کے باسی 13 جولائی کے دن یوم شہدا منا کر اپنے جذبہ شہادت کی تجدید کرتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728

Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (1) in D:\hshome\automotonk\walayat.net\wp-includes\functions.php on line 3728